//ام المومنین حضرت زینب بنت جحشؓ 
tareekh_muhammad

ام المومنین حضرت زینب بنت جحشؓ 

قسط اول

فضائل

حضرت زينب بنت جحش کي شادي بھي الہٰي مصلحت کا نتيجہ تھي۔وہ خود رسول اللہﷺ سے اپني شادي کا ذکر بجا طور پر فخر کے رنگ ميں کيا کرتي تھيں کہ ديگر ازواج مطہرات کے مقابل پر مجھے يہ خصوصيت عطاہوئي کہ اللہ تعاليٰ نے يہ شادي کروانے کي نسبت اپني ذات سے دي جيساکہ فرمايا:۔ جب زيد کا نکاح حضرت زينب کے ساتھ ختم ہوگيا تو اس کے بعد اے نبي ہم نے تيرانکاح حضرت زينب کے ساتھ کرواديا(الاحزاب:38)آپ ؓ فرماتي تھيں کہ ديگر ازواج کے نکاح کا فيصلہ کرنے والے ان کے ولي تھے۔مگر آنحضور ﷺ کے ساتھ ميرےنکاح کا فيصلہ خود اللہ تعاليٰ نے فرمايا۔

ايک دفعہ رسول اللہﷺ نے اپنے پاس موجود ازواج سےفرماياکہ ميري وفات کے بعدتم ميں سے سب سے پہلے لمبے ہاتھوں والي بيوي مجھے آکر ملے گي۔حضرت عمر  فرماتے تھےکہ ان ميں سےسب سے پہلے حضرت زينب کي وفات سے يہ بات کھلي کہ لمبے ہاتھوں سے مرا د ان کا صدقہ وغيرہ کرنا اور اللہ تعاليٰ کي راہ ميں خرچ کرنا تھا۔ حضرت عائشہ ؓ نے آپ ؓ کي وفات پر کيا خوبصورت خراج تحسين پيش کيا کہ آج ايک ايسي ہستي ہم سے جدا ہوگئي جو بہت ہي تعريفو ں کے لائق تھي۔ جوغرباء،مساکين اور مستحقين کو بہت فائدہ پہنچانے والي تھيں۔رسول کريمﷺنے آپؓ کو عبادت ميں خشوع وخضوع،دردمند خاتون قرار ديا۔

نام و نسب

حضرت زينبؓ بنت جحش کا تعلق قبيلہ قريش سے تھا۔ان کي والدہ اُميمہ حضرت عبدالمطلب کي صاحبزادي اور آنحضرتﷺ کي پھوپھي تھيں۔ آپؓ السابقون الاوّلون ميں سے تھيں اور بہت ابتدائي زمانہ ميں اسلام قبول کرنے کي توفيق پائي۔جن عورتوں نے ابتدائي زمانہ ميں ہجرت کي آپؓ بھي ان ميں شامل تھيں۔

آپ کا اصل نام برّہ تھا۔آنحضرت ﷺ نے اسے تبديل کر کے زينب نام رکھا۔ آنحضرت ؐ کا لطيف ذوق کے مطابق يہ پُر حکمت طريق تھا کہ ايسے نام جو معني کے لحاظ سے اچھے نہ ہوں بدل کر کوئي اور نام رکھ ديتے تھے۔ برّہ بظاہر ايک اچھانام تھا جس کے معني سراپا نيکي کے ہيں،ليکن چونکہ قرآن شريف ميں حکم ہے لَاتُزَکُّوْا اَنْفُسَکُمْ کہ اپنے نيک پاک ہونے کا دعويٰ نہ کرو۔ اسي مصلحت سے حضور ؐ نے بَرّہ کي بجائے زينب نام رکھا۔ جيسا کہ حضرت ابو ہريرةؓ کي روايت ہے کہ برّہ نام کے بارہ ميں يہ کہا گيا کہ اس ميں اپنے آپ کو پاک قرار دينے کےدعويٰ کا گمان ہوسکتا ہے۔اسکي تائيد محمد بن عمرو کي ايک روايت سے بھي ہوتي ہےجو کہتے ہيں کہ ميري بيٹي کا نام برّہ رکھا گيا۔ حضرت ابو سلمہ ؓ کي بيٹي زينب نے اس نام سے منع کرتے ہوئے بتايا کہ ميرا نام بھي برّہ رکھا گيا تھا، جس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمايا کہ اپنے نيک پاک ہونے کا دعويٰ نہ کرو۔ اللہ تعاليٰ تم ميں سے نيک لوگوں کو جانتا ہے۔ چنانچہ ميرا نام زينب رکھا گيا۔ حضرت زينبؓ کي کنيت امّ الحکم تھي۔قريش کے معزز قبيلے کي خاتون ہونے کے علاوہ دينداري اور تقويٰ ميں بھي حضرت زينب ؓکا بلند مقام تھا۔

پہلي شادي اور طلاق کي گہري حکمتيں

حضرت زيدؓ کا تعلق دراصل ايک آزادعرب قبيلہ بنو کلب سے تھا۔ان کےدشمن قبيلہ نے حملہ کر کے انہيں بچپن ميں ہي غلام بنا ليا اور حضرت حکيمؓ بن حزام نے خريد کر اپني پھوپھي حضرت خديجہؓ کو پيش کرديا۔حضرت خديجہؓ نے انہيں ہونہار پا کر رسول کريمؐ کو دے ديا اور حضورؐ نے انہيں آزاد کر کے اپنا بيٹا بنا ليا۔ انہيں حضورؐ کي صحبت ميں رہ کر خدمات کي توفيق ملي۔وہ ديني کاموں ميں پيش پيش ہوتے تھے۔حضور ﷺ نے ان کي دينداري اور تقويٰ کي وجہ سے يہ پسند فرمايا کہ ان سے غلامي کا داغ دھو نے کے ليےاپني پھوپھي زاد بہن حضرت زينبؓ کا رشتہ حضرت زيد بن حارثہ  کے ساتھ ہو جائے۔ پہلےتو زينب نے اپني خانداني بڑائي کا خيال کرتے ہوئے اسے نا پسند کيا۔ليکن آخرکار آنحضرتﷺ کي پر زور خواہش کو ديکھ کر رضامند ہوگئيں۔

اس رشتہ کے پس منظر ميں ديگر اہم مقاصد بھي تھے جن ميں جاہليت کے قبائلي تفاخر کا خاتمہ ،رنگ و نسل کي تميز مٹا نا،احترام انسانيت اور اسلامي مساوات کا قيام شامل ہے۔جن کے ذريعہ ان غلاموں سے حسن سلوک کا ايک شاندارنمونہ پيش کياگيا جنہيں جاہليت ميں جانوروں سے بھي بد تر سمجھاجاتاتھا۔جبکہ اسلامي تعليم يہ تھي کہ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقٰکُمْ(الحجرات:14) تم ميں سب سے زيادہ معزز وہ ہے جو تقويٰ کے لحاظ سے سب سے بڑھ کر ہے۔ اسي بناء پر کفو کا معيار نبي کريم ﷺنے حسن و جمال ، مال و منال اور نسب و عزت کي بجائے دين کو قرار ديا کہ اسي ميں خير و برکت ہے۔

 يہ تھيں وہ وجوہات جن کي بناء پر آنحضرت ؐ نے شادي کي يہ تجويز حضرت زينب ؓکے سامنے رکھي۔ شروع ميں طبعاً انہيں کچھ روک بھي پيدا ہوئي کيونکہ آپ ؓ کا تعلق قريش کے خاندان سے تھا اور ابراہيمي نسبت اور توليت کعبہ کے باعث يہ خاندان قريش کے معزز ترين خاندانوں ميں شمار ہوتا تھا۔اور ان کي کسي عورت کا رشتہ کسي غلام کے ساتھ کرنے کا سوال ہي پيدا نہ ہوسکتا تھا۔ آنحضرت ﷺ کي وعظ و تلقين کے بعد حضرت زينب ؓ نے اپني سعادت ورشد کے باعث يہ رشتہ قبول کرليا۔ مگر شايد ايک طرف حضرت زيد کو آزاد کردہ غلام ہونے کا احساس دوسري طرف حضرت زينب کے ايک معزز قبيلے کي شريف زادي ہونے کي صورتحال ميں جو قدرتي تفاوت تھا وہ دور نہ ہوسکا اورگھريلو نباہ ميں مشکل پيش آئي۔ آنحضرت ﷺ کے سامنے جب اس گھرانے کے بعض مسائل يا شکايات آئيں تو پہلے آپ نے فريقين کو سمجھايا ، خاص طور پر حضرت زيد  کو خالصة ً تقويٰ کے پيش نظر اپنے معاملات سلجھانے کي تلقين فرمائي۔ کيونکہ آپؐ محسوس کرتے تھے کہ اگر وہ دين و تقويٰ کو مقدم کرتے ہوئے اس رشتے کو نبھانے کے لئے کوشش کريں اور کچھ قرباني ديں تو يہ رشتہ شايد نبھ جائے۔ قرآن شريف ميں اس بارہ ميں واضح اشارہ ہے کہ آنحضرت ﷺ حضرت زيد کو يہ نصيحت فرماتے تھے کہ أَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ (الاحزاب :38) کہ اے زيد!تم اللہ تعاليٰ کا تقويٰ اختيار کرو اور اپني بيوي سے عليحدگي اختيار نہ کرو۔ کيونکہ آنحضور ﷺ نے کئي اغراض دينيہ کے پيش نظر يہ رشتہ طے فرمايا تھا۔ليکن اللہ تعاليٰ کي بعض ديگرمخفي حکمتوں کے تابع يہ رشتہ نبھ نہيں سکا اور بالآخر حضرت زيد کو حضرت زينب سے عليحدگي اختيار کرني ہي پڑي۔ مگر کيا ہي خوش قسمت تھے حضرت زيد  محض اس لئے نہيں کہ آپ ؓ وہ واحد صحابي ہيں جن کانام کلام مجيد ميں اس موقع پر ہميشہ کے لئے محفوظ ہوگيا بلکہ اللہ تعاليٰ نے کئي وساوس جاہليت کے ازالہ کے لئے ان کے وجود کو وسيلہ بھي بنايا۔ اور اسي موقع پر سورۂ احزاب ميں ہي اللہ تعاليٰ نے ہمارے نبي ﷺکو خاتم النبيين کے بلند روحاني مقام کا اعلان کرنے کيلئے پسند فرمايا۔

رسول اللہﷺ سے شادي اور اسکي حکمت

 جب حضرت زيد کي طرف سے حضرت زينب  کو طلاق کے بعد تين ماہ کي عدت گزرگئي تو اللہ تعاليٰ نے بعض اور رسوم جاہليت کے خاتمہ کے لئے آنحضرت ﷺ کو حضرت زينب  کے ساتھ نکاح کي ہدايت فرمائي تاکہ ايک تو منہ بولے بيٹے کي بيوي سے نکاح نہ کرنے کي رسم جاہليت کا قلع قمع ہو۔ دوسرے عورتوں کے حقوق کو قائم کيا جائے۔ اس منشاء الہٰي کے پورا کرنے کے لئے حضور ﷺنے يہ شاندار حکمت عملي اختيار فرمائي کہ اپنے وفادار منہ بولے بيٹے اورساتھي حضرت زيد کوبھي ہر قدم پراس مشورے ميں شريک رکھا۔ بلکہ حضرت زينب  کو شادي کا پيغام بھي انہيں کے ذريعہ بھجوايا۔حضرت زيد خود بيان کرتے ہيں کہ حضرت زينب کي عدّت طلاق ختم ہوجانے کے بعد حضور ؐنے مجھے حضرت زينب  کے ہاں شادي کا پيغام پہنچانے کا ارشاد فرمايا۔ حضرت انسؓ کي روايت کے مطابق جب حضرت زيدؓنے حضرت زينبؓ کے گھر جاکر اپنے آنے کي اطلاع دي وہ اس وقت آٹا گوندھ رہي تھيں۔ مگر ميرے دل پر اس وقت ان کي عظمت و احترام کا ايک رعب غالب تھا کہ کس عظيم ہستي نے ان کے لئے پيغام بھجوايا ہے۔ ا س کيفيت ميں پردہ کي خاطر ميں ان کے گھر کي جانب پُشت کرکے کھڑا ہوگيا۔ حالانکہ ابھي پردہ کے احکام نہيں اترے تھے۔اور يوں آنحضرت ﷺ کي طرف سے شادي کا پيغام انہيں پہنچايا۔

 حضرت زينب  بنت جحش ايک تقويٰ شعار اور متوکل خاتون تھيں۔ انہوں نےبھي کيا خوبصورت جواب ديا کہ جب تک ميں اللہ تعاليٰ سے دعااوراستخارہ نہ کرلوں کوئي جواب نہيں دے سکتي۔چنانچہ وہ اپني نماز پڑھنے کي جگہ کھڑي ہو گئيں۔Jحضرت زينبؓ کي تسلّي ہوجانے پران کے بھائي ابو احمد بن جحش ولي مقرر ہوئے۔ اور چار صد درہم حق مہر پر آنحضرت ؐکے ساتھ حضرت زينب کا نکاح ہوا۔ يہ نکاح اس بدرسم کے خاتمہ کا عملي اعلان تھا کہ متبنّٰي کي مطلقہ سے نکاح جائز ہے۔

يہاں يہ امر تحقيق طلب ہے کہ صحيح مسلم کي روايت ميں حضرت زينبؓ کي شادي کا واقعہ بيان کرنے والے راوي صحابي پندرہ سالہ حضرت انسؓ کي روايت کس حد تک قابل قبول ہے۔جن کي درايت کے بارہ ميں بھي محدثين نے کلام کيا ہے۔اس روايت کے بيان ميں حضرت انسؓ سےيہ تسامح بھي ہوا کہ انہوں نے شادي کے واقعات کوترتيب کے لحاظ سےآگے پيچھے بيان کر ديا۔اورحضرت زينبؓ کو رسول اللہؐ کي طرف سے شادي کا پيغام بھجوانے کے بعد اس بارہ ميں نازل ہونيوالي وحي قرآني کا ذکر کيا جو درايتاً درست نہيں کيونکہ وہ آيت جس ميں دراصل حضرت زينبؓ سے عقدکي اجازت کا ذکرہے شادي سے پہلے ہي ہو سکتي ہے نہ کہ بعد۔

 فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَاكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا (الاحزاب: 38)

ترجمہ:پس جب زيد نے اس (عورت) کے بارہ ميں اپني خواہش پوري کر لي(اور اسے طلاق دے دي)،ہم نے اسے تجھ سے بياہ ديااور اللہ کا فيصلہ بہر حال پورا ہو کر رہنے والا ہے۔

پس اول تو قرآن شريف جو تاريخ اسلامي کا سب سے صحيح ريکارڈ ہے اس ميں وحي الہٰي کے نتيجہ ميں آنحضورؐ کےاس نکاح کا ذکر ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ يہ آيات پہلے اتر چکي تھيں۔خواہ حضرت انسؓ کے علم ميں بعد ميں آئي ہوں۔اس کي تائيد ائمہ اہل بيت ميں سے حضرت امام حسينؓ کے صاحبزادے حضرت امام علي زين العابدينؓ کي اس روايت سے بھي ہوتي ہےکہ۔۔۔۔اللہ نے اپنے نبيﷺ کو زينبؓ سے شادي سے قبل بتا ديا تھا کہ وہ آپؐ کي ازواج ميں سے ہو گي۔چنانچہ جب حضرت زيدؓ آپؐ کے پاس شکايت لے کر آئے تو آپؐ نے قرآني بيان کے مطابق انہيں نصيحت فرمائي کہ اللہ کا تقويٰ اختيار کرو اور اپني بيوي کو اپنے پاس روک رکھو۔اس پر اللہ تعاليٰ نے آپؐ کو فرمايا کہ ميں آپؐ کو پہلے خبر دے چکا ہوں کہ آپؐ کي شادي حضرت زينبؓ سے ہوگي۔آيت کے اس حصہ کہ “تو اپنے دل ميں وہ بات چھپاتا تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا” سے يہي بات مراد ہے۔ پس يہ آيات حضرت زينبؓ کو پيغامِ شادي بھجوانے سے قبل نازل ہوچکي تھيں۔يہ بھي ممکن ہے کہ کوئي عليحدہ وحي خفي بھي اس بارہ ميں نازل ہوئي ہو،بہر حال اس شادي کا فيصلہ وحي الہٰي کے نتيجہ ميں ہوا۔

 دوسرےصحيح مسلم کي روايت ميں جورسول اللہﷺ کے حضرت زينبؓ کي اجازت کے بغير ان کے گھر جانے کا ذکر ہے۔اس سے يہ نتيجہ نکالنا کہ نکاح کي ظاہري رسم ادا نہيں ہوئي،درست نہيں ہے۔۔کيونکہ يہ بات صحيح بخاري کي روايت کے صريح خلاف ہے جس کے مطابق حضرت زينبؓ رخصت ہو کر آنحضرتﷺ کے گھر آئي تھيں۔اور رخصتي کے بعدحضورؐ کا اپنے گھر ميں يا حضرت زينبؓ کے کمرہ ميں بلا اجازت واطلاع جانا قابل اعتراض نہيں،نہ ہي کوئي غير معمولي خلاف دستور بات ہے۔

حضرت زينب بنت جحش اپني اس شادي کا ذکر فخر کے رنگ ميں کيا کرتي تھيں کہ ديگر ازواج مطہرات کے مقابل پر مجھے يہ خصوصيت عطاہوئي کہ اللہ تعاليٰ نے يہ شادي کروانے کي نسبت اپني ذات سے دي جيساکہ فرماياکہ جب زيد کا نکاح حضرت زينب کے ساتھ ختم ہوگيا تو اس کے بعد اے نبي ہم نے تيرانکاح حضرت زينب کے ساتھ کرواديا۔ حضرت زينبؓ فرماتي تھيں کہ ديگر ازواج کے نکاح کا فيصلہ کرنے والے ان کے ولي تھے۔مگر آنحضور ﷺ کے ساتھ ميرےنکاح کا فيصلہ خود اللہ تعاليٰ نے فرمايا۔ميراحق آپ پر دوسري بيويوں سے بڑھ کر ہے اور جبرائيل ميرے نکاح کے سفير تھے۔رحمي رشتہ کے قريبي ہونے کے لحاظ سے کہ ميں آپؐ کي پھوپھي زاد ہوں جس سے بڑھ کر کوئي قريبي رشتہ والي اور بيوي نہيں اور پردہ کے احکام لاگو ہونے کے لحاظ سے بھي ميں بڑھ کر ہوں(کہ آپؓ کي شادي کے موقع پرآيت الحجاب اتري تھي)۔

بلاشبہ جبرائيل کا اس نکاح کے ليے سفير ہونا ايک سعادت تھي جو آپؓ کے حصہ ميں آئي۔ مگراس روايت کي بناء پر يہ نہيں سمجھنا چاہئے کہ نکاح کے وقت حضرت زينب کے کوئي ولي ہي مقرر نہيں ہوئے تھے۔ صحيح روايات سے ثابت ہے کہ آپ کے بھائي کي ولايت ميں يہ نکاح عمل ميں آيا تھا۔تاہم حضرت زينب  کا يہ فخر اپني جگہ ہےکہ اللہ تعاليٰ نے اپنے پاک کلام ميں ان کے ساتھ نکاح کا ارشاد فرمايا تاکہ رسوم جاہليت کا قلع قمع کياجائے۔

دعوت وليمہ

حضرت زينبحضور ؐ کي پھوپھي زاد اور قبيلہٴ قريش کي سيد زادي تھيں۔ آنحضرت ﷺ نے الہٰي منشاء کے تابع ہونيوالي اس بابرکت شادي کے موقع پر نہايت عمدہ اور خصوصي دعوت وليمہ کا انتظام کيا۔ حضرت انس بن مالک بيان کرتے ہيں کہ حضرت زينب بنت جحش کي شادي کے موقع پر حضورؐ نے بہت لوگوں کو دعوت دے کر بلايا۔ لوگ باري باري دس دس کي ٹوليوں کي صورت ميں حضرت زينب ؓ کے لئےتيار کئے گئے کمرہ ميں آتے اور کھانا کھا کر چلے جاتے۔آخر ميں کچھ لوگ کھانا کھا کر وہيں بيٹھ رہے اور اِدھر اُدھر کي باتوں ميں مصروف ہوگئے۔ اس موقع پر حضور ؐ کئي دفعہ اس کمرے کے پاس آکراس انداز ميں کھڑے ہوئے جيسے انسان مجلس برخواست کرنے کے لئے اٹھتا ہے، ليکن بعض احباب پھر بھي بيٹھے رہے حتي کہ آنحضور ؐ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔ حضرت زينب بنت جحش اسي کمرے ميں دوسري طرف رخ کرکے ايک حيا دار دلہن کي طرح بيٹھي ہوئي تھيں۔ اسي موقع پر سورہٴ احزاب کي آيت حجاب اُتري۔جس ميں دعوتوں وغيرہ کے موقع پر بعض ديگر احکام بھي ارشاد کرتے ہوئے فرمايا کہ اے لوگو! جو ايمان لائے ہو ! نبي کے گھروں ميں داخل نہ ہوا کرو سوائے اس کے کہ تمہيں کھانے کي دعوت دي جائے مگر اس طرح نہيں کہ اس کے پکنے کا انتظار کر رہے ہو ليکن (کھانا تيار ہونے پر) جب تمہيں بلايا جائے تو داخل ہو اور جب تم کھا چکو تو منتشر ہوجاؤ اور وہاں (بيٹھے) باتوں ميں نہ لگے رہو۔يہ (چيز) يقينا نبي کے لئے تکليف دہ ہے مگر وہ تم سے (اس کے اظہار پر) شرماتا ہے اور اللہ حق سے نہيں شرماتا۔ اور اگر تم اُن (ازواجِ نبي) سے کوئي چيز مانگو تو پردے کے پيچھے سے مانگا کرو۔ يہ تمہارے اور ان کے دلوں کے لئے زيادہ پاکيزہ (طرزِ عمل) ہے۔ اور تمہارے لئے جائز نہيں کہ تم اللہ کے رسولؐ کو اذيت پہنچاؤ اور نہ ہي يہ جائز ہے کہ اس کے بعد کبھي اُس کي بيويوں (ميں سے کسي) سے شادي کرو۔ يقينا اللہ کے نزديک يہ بہت بڑي بات ہے۔ (الاحزاب:54)

احکام پردہ کا نزول

اسي موقع پر آداب معاشرت کے علاوہ پردے کے احکام بھي اترے۔ جس کے بعد سے باقاعدہ پردے کا رواج ہوا۔ وليمہ کے بارہ ميں حضرت انس  بن مالک کي ايک اور روايت ہے کہ ميں نے نہيں ديکھا کہ حضورؐ نے کسي بيوي کا ايسا وليمہ کيا ہو جيسا حضرت زينبؓ کا تھا۔اس پر حضورؐ نے بکري ذبح کروائي۔

دوسري روايات سے گوشت روٹي کے ساتھ ميٹھا پيش کرنے کا بھي ذکر ہے۔حضرت انس ؓ کي ہي روايت ہے کہ اس شادي کے موقع پر ميري والدہ حضرت امّ سليمؓ نے مجھے کھير وغيرہ کا ايک بڑا برتن کھانے کے ساتھ پيش کرنے کے لئے بھجوايااور مجھے کہا کہ حضور ﷺ کي خدمت ميں جاکر عرض کرنا کہ اس وقت ہمارے گھر ميں ميسّر يہ حقير تحفہ پيش خدمت ہے۔

حضرت انس  بيان کرتے ہيں کہ حضور ؐنے مجھے لوگوں کو کھانے پر بلانے کے لئے بھجوايا اور ميں دس دس کي ٹوليوں ميں انہيں بلاکرلايا جو اس کمرے ميں آکر بيٹھتے اور کھانا کھاکر چلے جاتے تھے۔ ان کي تعداد تين سو کے قريب تھي۔بطور خاص گوشت اور روٹي کا کھانااور حضرت ام سليمؓ کي طرف سے ميٹھا بھجوانا ايک خاص اہتمام تھا جو حضرت زينب  کے وليمہ پر کياگيااور ايک عرصہ تک لوگوں نے اس دعوت کو ياد رکھا۔

(بحوالہ اہل بيت رسول ﷺ از حافظ مظفر احمد صاحب)

باقي انشاء اللہ آئندہ شمارہ ميں…