//ام المومنین حضرت زینب بنت جحشؓ
tareekh_muhammad

ام المومنین حضرت زینب بنت جحشؓ

قسط دوم

ايک اعتراض کا جواب

يہاں حضرت زينبؓ کي شادي کے بارہ ميں بعض بے بنياد روايات کا ردّ کرنا بھي ضروري ہے۔جو علامہ زمخشري،امام حاکم اور علامہ سيوطي وغيرہ مفسرين و محدثين کي کتب کے ذريعہ اسلامي لٹريچر ميں در آئے،ايسي روايات کو اسلام دشمن عناصر نے خوب اچھالا اور ان سے اپنے مقاصدِ مزعومہ اورفوائد مذمومہ حاصل کرناچاہے۔ان کا تذکرہ بھي کوئي عاشق رسولؐ گوارا نہيں کر سکتا۔کيونکہ ان باتوں کو ايک عام شخص کي طرف منسوب کرنا بھي زيب نہيں ديتا کجا يہ کہ رسول اللہؐ کے بارہ ميں ايسا خيال کيا جائے۔پھر جب قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت زينبؓ کي شادي کئي رسوم جاہليت کو کالعدم کرنے کے لحاظ سے خالصة ً الہٰي منشاء کے ماتحت ہوئي۔تو ايسي روايات کي کيا وقعت رہ جاتي ہے۔

انہيں بے سروپا روايات کي بناء پر ايک بيہودہ اعتراض مشہور مستشرق وليم ميورنے بھي کيا۔وہ لکھتا ہے:۔

We have already made acquaintance with Zeid, the Prophet’s freed-man and adopted son. His wife Zeinab, now over thirty years of age, was fair to look upon. On a certain day,the Prophet visited , as he often did , their house. Zeid being absent, Zeinab invited him to enter, and, starting up in her loose and scanty dress, made haste to array herself for his reception. But the beauties of her figure through the half-opened door had already unveiled themselves too freely before the licentious gaze of Mahomet. He was smitten by the sight: …There might be little scandal according to Arab morals in seeking the hand of a married woman whose husband had no wish to retain her; but the husband in the present case was Mahomet’s son, and even in Arabia such a union was unlawful. Still the passion for Zeinab could not be smothered ; it continued to burn within the heart of Mahomet, and at last, bursting forth, scattered his scruples to the winds. Sitting one day with Ayesha, the prophetic ecstasy appeared to come over him. As he recovered, he smiled joyfully and said : ‘Who will go and congratulate Zeinab, and say that the Lord hath joined her unto me in marriage ? ’’

ترجمہ:۔ نعوذباللہ آنحضرتﷺ حسب معمول زيد اور زينب کے گھر گئے تو زيد کو موجود نہ پايا۔ زينب جو تقريباً30سال کي ايک خوبصورت عورت تھي اس نے آپؐ کو اندر آنے کي اجازت ديدي۔ اور اپنے مختصراور کھلے لباس ميں آپؐ کے استقبال کيلئے آگے بڑھيں مگر اس سے قبل ہي محمد(ﷺ)کي چاہت بھري نظريں آدھے کھلے دروازے سے زينب کے خوبصورت خدو خال پر پڑ چکي تھيں۔آپ اس نظارہ سے متأثر ہوئے بغير رہ نہ سکے۔…زيدکے طلاق دينے کے بعد عرب کے رسم ورواج کي وجہ سے آپؐ اپنے منہ بولے بيٹے کي مطلقہ سے شادي نہيں کرسکتے تھے۔ليکن محمد(ﷺ) کے دل ميں محبت کي آگ اب بھي اسي طرح بھڑک رہي تھي۔آخر کار ايک دن آپ عائشہؓ کے ساتھ بيٹھے تھے کہ آپ پر وحي نازل ہوئي اور خوش ہوکريہ کہا کہ کون زينب کو مبارکباد ديگاکہ خدا نے اسے ميرے عقد ميں ديديا ہے”

اس قسم کے اعتراضات کا کافي و شافي جواب اس زمانہ کے امام اور رسول اللہﷺ کے عاشق صادق حضرت باني جماعت احمديہ نے کيا خوب ديا ہے۔آپ ؑ فرماتے ہيں:۔

“ان مفتري لوگوں نے اعتراض کي بنا ءدو باتيں ٹھہرائي ہيں (ا) يہ کہ متبنّٰي اگر اپني جورو کو طلاق دے ديوے تو متبنّٰي کرنے والے کو اس عورت سے نکاح جائز نہيں (۲) يہ کہ زينب آنحضرتﷺ کے نکاح سے ناراض تھي تو گويا آنحضرتﷺ نے زينب کے معقول عذر پر يہ بہانہ گھڑا کہ مجھ پر وحي نازل ہوئي ہے سو ہم ان دو باتوں کا ذيل ميں جواب ديتے ہيں۔ امر اول کا جواب يہ ہے کہ جو لوگ متبنّٰي کرتے ہيں ان کا يہ دعويٰ سراسر لغو اور باطل ہے کہ وہ حقيقت ميں بيٹا ہو جاتا ہے اور بيٹوں کے تمام احکام اس کے متعلق ہوتے ہيں…ظاہر ہے کہ کسي شخص کے دو باپ تو نہيں ہو سکتے پس اگر متبنيٰ بنانے والا حقيقت ميں باپ ہوگيا ہے تو يہ فيصلہ ہونا چاہئے کہ اصلي باپ کس دليل سے لا دعويٰ کيا گيا ہے۔

غرض اس سے زيادہ کوئي بات بھي بيہودہ نہيں کہ خدا کي بنائي ہوئي حقيقتوں کو بدل ڈالنے کاقصدکريں…يہ بھي يادرہے کہ زيد جو زينب کا پہلا خاوند تھا وہ دراصل آنحضرتﷺ کا غلام تھا آپؐ نے اپنے کرم ذاتي کي وجہ سے اس کو آزاد کر ديا اور بعض دفعہ اس کو بيٹا کہا تا غلامي کا داغ اس پر سے جاتا رہے چونکہ آپؐ کريم النفس تھے اس لئے زيد کو قوم ميں عزت دينے کے لئے آپؐ کي يہ حکمت عملي تھي مگر عرب کے لوگوں ميں يہ رسم پڑ گئي تھي کہ اگر کسي کا استاد يا آقا يا مالک اس کو بيٹا کر کے پکارتا تو وہ بيٹا ہي سمجھا جاتا يہ رسم نہايت خراب تھي اور نيز ايک بيہودہ وہم پر اس کي بناء تھي کيونکہ جبکہ تمام انسان بني نوع ہيں تو اس لحاظ سے جو برابر کے آدمي ہيں وہ بھائيوں کي طرح ہيں اور جو بڑے ہيں وہ باپوں کي مانند ہيں اور چھوٹے بيٹوں کي طرح ہيں…اب جاننا چاہئے کہ خدا تعاليٰ نے قرآن کريم ميں پہلے ہي يہ حکم فرما ديا تھا کہ تم پر صرف ان بيٹوں کي عورتيں حرام ہيں جو تمہارے صلبي بيٹے ہيں۔ جيسا کہ يہ آيت ہے۔

وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ۔يعني تم پر فقط ان بيٹوں کي جورواں حرام ہيں جو تمہاري پشت اورتمہارے نطفہ سے ہوں۔پھرجبکہ پہلے سے يہي قانون تعليم قرآني ميں خدا تعاليٰ کي طرف سے مقرر ہو چکا ہے اور يہ زينب کا قصہ ايک مدت بعد اس کے ظہور ميں آيا۔ تو اب ہريک سمجھ سکتا ہے کہ قرآن نے يہ فيصلہ اسي قانون کے مطابق کيا جو اس سے پہلے منضبط ہو چکا تھا۔ قرآن کھولو اور ديکھو کہ زينب کا قصہ اخيري حصہ قرآن ميں ہے مگر يہ قانون کہ متبنّٰي کي جورو حرام نہيں ہو سکتي يہ پہلے حصہ ميں ہي موجود ہے اور اس وقت کا يہ قانون ہے کہ جب زينب کا زيد سے ابھي نکاح بھي نہيں ہوا تھا تم آپ ہي قرآن شريف کو کھول کر ان دونوں مقاموں کو ديکھ لو اور ذرہ شرم کو کام ميں لاؤ…

اور دوسري جُز جس پر اعتراض کي بنياد رکھي گئي ہے يہ ہے کہ زينب نے آنحضرت صلي اللہ عليہ و سلم کو قبول نہيں کيا تھا صرف زبردستي خدا تعاليٰ نے حکم دے ديا… يہ ايک نہايت بد ذاتي کا افتراء ہے جس کا ہماري کتابوں ميں نام و نشان نہيں…سوقرآن يا بخاري اور مسلم سے اس بات کا ثبوت ديں کہ وہ نکاح زينب کے خلاف مرضي پڑھا گيا تھا۔ ظاہر ہے کہ جس حالت ميں زينب زيد سے جو آنحضرتؐ کا غلام آزاد تھا راضي نہ تھي اور اسي بناء پر زيد نے تنگ آکر طلاق دي تھي اور زينب نے خود آنحضرتؐ کے گھر ميں ہي پرورش پائي تھي اور آنحضرتؐ کے اقارب ميں سے اور ممنون منت تھي تو زينب کے لئے اس سے بہتر اور کونسي مراد اور کونسي فخر کي جگہ تھي کہ غلام کي قيد سے نکل کر اس شاہ عالم کے نکاح ميں آوے جو خدا کا پيغمبر اور خاتم الانبياء اور ظاہري بادشاہت اور ملک داري ميں بھي دنيا کے تمام بادشاہوں کا سرتاج تھا جس کے رعب سے قيصر اور کسريٰ کانپتے تھے… اور قرآن شريف بيان فرماتا ہے کہ آنحضرتؐ اس رشتہ سے طبعاً نفرت رکھتے تھے اور روز کي لڑائي ديکھ کر جانتے تھے کہ اس کا انجام ايک دن طلاق ہے چونکہ يہ آيتيں پہلے سے وارد ہو چکي تھيں کہ منہ بولا بيٹا دراصل بيٹا نہيں ہوسکتا تھا۔ اس لئے آنحضرتؐ کي فراست اس بات کو جانتي تھي کہ اگر زيد نے طلاق دے دي تو غالباً خدا تعاليٰ مجھے اس رشتہ کے لئے حکم کرے گا تا لوگوں کے لئے نمونہ قائم کرے۔ چنانچہ ايسا ہي ہوا۔ اور يہ قصہ قرآن شريف ميں بعينہٖ درج ہے۔ پھر پليد طبع لوگوں نے جن کي بدذاتي ہميشہ افترا کرنے کي خواہش رکھتي ہے خلاف واقعہ يہ باتيں بنائيں کہ آنحضرتﷺ خود ز ينب کے خواہشمند ہوئے حالانکہ زينب کچھ دور سے نہيں تھي کوئي ايسي عورت نہيں تھي جس کو آنحضرتﷺ نے کبھي نہ ديکھا ہو يہ زينب وہي تو تھي جو آنحضرتﷺ کے گھر ميں آپ کي آنکھوں کے آگے جوان ہوئي اور آپ نے خود نہ کسي اور نے اس کا نکاح اپنے غلام آزاد کردہ سے کر ديا اور يہ نکاح اس کو اور اس کے بھائي کو اوائل ميں نامنظور تھا اور آپ نے بہت کوشش کي يہاں تک کہ وہ راضي ہوگئي۔ ناراضگي کي يہي وجہ تھي کہ زيد غلام آزاد کردہ تھا۔ پھر يہ کس قدر بے ايماني اور بد ذاتي ہے جو واقعات صحيحہ کو چھوڑ کر افترا کئے جائيں… اور يہ بات جو خدا تعاليٰ فرماتا ہے کہ ميں نے نکاح پڑھ ديا۔ اس کے معنے يہ ہيں کہ يہ نکاح ميري مرضي کے موافق ہے اور ميں نے ہي چاہا ہے کہ ايسا ہوتا مومنوں پر حرج باقي نہ رہے۔

عبادت گزاري

حضرت زينب بنت جحش بہت دعا گو اور عبادت گزار خاتون تھيں۔ آنحضرتﷺ ايک دفعہ حضرت زينب کے گھر ميں تشريف لائے۔ حضرت عمرؓ بن الخطاب بھي آپ کے ساتھ تھے۔ آپؐ نے ديکھا کہ حضرت زينبؓ بہت انہماک سے نماز ميں مصروف ہيں۔ آنحضرتﷺ نے ان کي خشيّت اور تضرّع کي حالت ديکھ کر فرمايا کہ زينب بہت ہي درد مند دل رکھنے والي خاتون ہيں۔

دوسري روايت کے مطابق حضورؐ سے پوچھا گيا کہ يارسول اللہؐ! آپ نے حضرت زينب کے لئے اوّاہکا لفظ فرمايا ہے۔اس سے کيا مطلب ہے۔ آپؐ نے فرمايا کہ اس سے انتہائي خشوع و خضوع، دردمند دل اور تضرّع و عاجزي کي حالت مراد ہے۔يقيناً ابراہيم بہت ہي بردبار،نرم دل (اور) جھکنے والا ہے۔

جودوسخا

حضرت زينب بنت جحش بہت سخاوت کرنے والي اور مسکينوں اور غريبوں کا بے حد خيال رکھنے والي تھيں۔ دست کاري کي صنعت اور ہنر سے آپ واقف تھيں۔ہاتھ سے کام کرنے کو ترجيح ديتي تھيں۔ جانوروں کي کھاليں وغيرہ رنگنے اور بعض اور چيزيں بنانے سے کچھ کماليتي تھيں اور ا س سے جو آمدن ہوتي تھي وہ اللہ تعاليٰ کي راہ ميں صدقہ کرديا کرتي تھيں۔ آنحضرتﷺ کو ان کي يہ بات بہت پسند تھي۔ بعض مواقع پر اس بارے ميں ديگر ازواج مطہرات کے سامنے حضرت زينب  بنت جحش کي آپؐ نےتعريف بھي فرمائي۔

حضرت عائشہؓ روايت کرتي ہيں کہ حضرت زينب  بنت جحش اس گھريلو مجلس ميں موجودتھيں۔جس ميں آنحضرتﷺ نے اس موقع پر موجود اپني ازواج سے فرمايا کہ أَسْرَعُكُنَّ لَحَاقًا بِى أَطْوَلُكُنَّ يَدًا يعني ميري وفات کے بعد سب سے پہلے جو بيوي مجھے آکر ملے گي وہ لمبے ہاتھوں والي ہے۔ ازواج مطہرات ظاہري ہاتھوں کي لمبائي مراد ليتے ہوئے حضورؐ کے سامنے ہي ديوار پر ہاتھ رکھ کر ماپنے لگيں۔ حضرت سودہ کے ہاتھ لمبے نکلے جبکہ حضرت زينب بنت جحش کے ہاتھ سب سے چھوٹے تھے مگر حضورﷺ کي وفات کے بعد حضرت زينب  بنت جحش سب سے پہلے فوت ہوئيں۔اس موقع پر حضرت عمر  نے کيا خوب تبصرہ فرمايا کہ آنحضرتﷺ کے سامنے جب ازواج ہاتھ ماپ رہي تھيں تو لمبے ہاتھوں کي حقيقت واضح نہ تھي۔مگر اب حضورﷺ کے بعدسب سے پہلے حضرت زينب کي وفات سے يہ بات کھل کر سامنے آگئي ہےکہ لمبے ہاتھوں سے مرا د، ان کا صدقہ وغيرہ کرنا اور اللہ تعاليٰ کي راہ ميں خرچ کرنا تھا۔ ان کے وہ لمبے ہاتھ جو غريبوں کے گھروں ميں پہنچ کر ان کي ضروريات پوري کرتے تھے۔

حضرت زينب  کي مال سے بے نيازي اور استغناء کا عجب عالم تھا۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت ميں جب اموال غنيمت آئے تو انہوں نے حضرت زينب  بنت جحش کي خدمت ميں ان کا حصہ بھي بھجوايا۔ وہ اتنا زيادہ تھا کہ حضرت زينب  بنت جحش سمجھيں کہ ساري ازواج کا حصہ تقسيم کرنے کے لئے ميرے پاس بھجواياہے۔بڑي سادگي سے فرمانے لگيں کہ اللہ تعاليٰ حضرت عمر کو بخشش عطافرمائے۔ ساري بيويوں کا مال تقسيم کےلئے مجھے بھجوانے سے بہتر تھا کہ وہ کسي اور بيوي کو بھجواتے جو زيادہ بہتر رنگ ميں اسے تقسيم کرتيں۔ جب بتايا گيا کہ يہ تو صرف آپ  کے لئے ہے تو فرمايا کہ سبحان اللہ، اتنا زيادہ مال ميرے لئے بھجواديا ہے۔ پھر آپ نے اسے کھولنا بھي پسندنہيں فرمايا اور وہ درھم و دينار گھر کے کسي کونے ميں پھينکوا کر اوپر کپڑا ڈال ديا۔اور وہ خادمہ جو وہ مال لے کر آئي تھيں ان سے فرمايا کہ اس ميں ہاتھ ڈال کر جتنا ہاتھ ميں آتا ہے نکال لو۔ پھر وہ بعض ايسے مستحقين کو بھجوايا جو يتيم بچے تھے اور ان سے آپؐ کا رحمي رشتہ بھي تھا۔ پھرمسلسل ايک کے بعد دوسرے گھرميں بھجواتي رہيں۔ يہاں تک کہ جب تھوڑا سا بچ گيا توتقسيم کرنے والي خاتون برزہ بنت رافع نے کہا “ اے امّ المومنين ! اب تو بہت تھوڑا سا مال رہ گياہے۔ اس مال ميں آپؐ کا بھي حق تھا اور آپؐ نے تو سارے کا سارا تقسيم کرديا”۔ اس پر فرمانے لگيں! کہ اچھا جو باقي رہ گياہے وہ سارا تمہارا ہے۔ برزہ کہتي ہيں کہ ميں نے اسے نکال کرشمار کيا توصرف پچاسي درہم باقي بچے تھے وہ بھي حضرت زينب نے مجھے عطا کرديئے۔

پھرحضرت زينب دعا کے لئے ہاتھ اٹھا کر کہنے لگيں کہ اے اللہ ! اس سال کے بعد ميں يہ مال لينا نہيں چاہتي۔ گويا انہيں يہ گوارا نہ تھا کہ اتنامال ان کے گھر ميں آئے اورپھر اس سے اگلے ہي سال حضرت زينب کي وفات ہوگئي اور وہ اپنے موليٰ کے حضور حاضر ہوگئيں۔

حضرت عائشہؓ کا خراج تحسين

آپؓ کي وفات پر حضرت عائشہؓ نے کيا خوبصورت خراج تحسين پيش کيا۔انہوں نے فرمايا کہ آج ايک ايسي ہستي ہم سے جدا ہوگئي جو بہت ہي تعريفو ں کے لائق تھي۔ جوغريبوں کو اور مستحقين کو بہت ہي فائدہ پہنچانے والي تھيں، يعني حضرت زينب۔ آج ان کي وفات سے واقعة ً بيوگان اور يتيموں کو ايک دھچکا لگاہے اور ان کو ان کي وفات کا صدمہ ہواہے۔ يہ آپ ہي تھيں جو غريبوں کا خيال رکھتيں اور بيوگان کے حقوق ادا کرنے والي تھيں۔ اللہ تعاليٰ کي ہزاروں ہزار رحمتيں آپ پر ہوں۔

اخلاق فاضلہ

حضرت زينب بنت جحش نہايت اعليٰ اخلاق فاضلہ کي مالک تھيں۔ آپ کي سچائي، ديانت، صلہ رحمي اور ديگر بيويوں سے حسن سلوک کے بارہ ميں حضرت عائشہ  نےبھي خوب دل کھول کرتعريف کي ہے۔حالانکہ رسول اللہﷺ کي زندگي ميں حضرت عائشہ اور حضرت زينب کے درميان آنحضورﷺ کي شفقتوں کا زيادہ مورد بننے کے لئے باہم ايک مقابلہ بھي ہوتا تھا۔پھر بھي حضرت عائشہ  نے ايک موقع پر فرمايا کہ ’’ واقعہ افک‘‘ ميں جب مجھ پر الزام لگايا گيا، تو حضرت زينب کي بہن حمنہ بھي اس ميں شريک ہوگئيں، مگر جہاں تک حضرت زينب کي اپني ذات کا تعلق ہے ان سے جب آنحضرتﷺ نے پوچھا کہ اس حوالہ سے آپ کي حضرت عائشہ  کے بارہ ميں کيارائے ہے؟توجو خوبصورت جواب انہوں نے ديا وہ ان کي سچائي اور راست بازي اور وسيع النظري پر دليل ہے۔ کہنے لگيں کہ يارسول اللہﷺ ! ميں نے تو کبھي اپني آنکھوں اور کانوں سے کوئي ايسي بات ديکھي نہ سني۔ اور خدا کي قسم ! ميں نے عائشہ سے سوائے خير اور بھلائي کے کبھي کچھ نہيں ديکھا۔ حضرت عائشہ  کو ان کي اس حق گوئي کي بڑي قدر تھي اور وہ حضرت زينب کي تعريف کيا کرتي تھيں جبکہ ان کي بہن شايد بزعم خويش حضرت زينبؓ ہي کي غيرت کي خاطر حضرت عائشہؓ کے بارہ ميں مخالفانہ رائے رکھتي تھيں۔ اس موقع پر بھي حضرت زينب  نے جادہ اعتدال اور سچائي کا دامن نہيں چھوڑا۔ :حضرت عائشہ خود فرمايا کرتي تھيں کہ آنحضرتﷺ کي ازواج مطہرات ميں سےزينب  وہ تھيں جو ميرے ساتھ مقابلہ کيا کرتي تھيں۔مگر خدا کي قسم ! کہ ميں نے زينب  سے بہتر کوئي اور عورت نہيں ديکھي جو اتني متقي، پارسا اور سچي ہو۔ اتني زيادہ صلہ رحمي کرنے والي اور رشتہ داروں سے حسن سلوک کرنے والي ہو۔ اللہ تعاليٰ کي راہ ميں خرچ کرنے والي اور صدقہ دينے والي ہو۔ وہ اپني محنت کي کمائي سے اللہ کي راہ ميں اس کي رضا حاصل کرنے کے لئے صدقہ ديا کرتي تھيں۔;

اطاعت شعاري

حضرت زينب بنت جحش کي سيرت ميں اطاعت رسولؐ کا جذبہ نماياں نظر آتا ہے۔آنحضرتﷺ نے جن پراني رسموں کا خاتمہ کياان ميں عربوں کا کسي کي وفات پر بين کرنا اور سو گ وغيرہ بھي شامل تھا۔ حضورؐ نےان بد رسوم سے منع کيا۔ حضرت زينب کا اس بارہ ميں نہايت پاک نمونہ تھا۔ چنانچہ جب آپؐ کے حقيقي بھائي کي وفات ہوئي تو آپؐ نے تيسرے دن خوشبو منگواکر استعمال کي اور چہرے پر پاوٴڈر وغيرہ استعمال کرکے فرمانے لگيں کہ مجھے اس عمر ميں بننے سنورنے کي کوئي حاجت يا ضرورت تونہيں مگر آج ميں اپنے آقا و مولا حضرت محمدﷺ کے ايک حکم کي تعميل کي خاطر ايسا کررہي ہوں چونکہ ميں نے آپؐ کو ايک دفعہ منبر پر خطبہ ديتے ہوئے سنا تھا۔ آپؐ نے فرمايا کہ تين دن سے زيادہ کسي بھي ميت پر سوگ نہ کيا جائے۔ سوائے اپنے خاوند کے کہ جس کے لئے بيوہ کو چار ماہ اور دس دن جو عدّت کا زمانہ سوگ ميں گزارنا ہوتاہے۔ اس لئے آج اگرچہ ميرا بہت ہي پيارا اور عزيز بھائي فوت ہوا ہے۔ ميں حضورؐ کے اس حکم کے مطابق تيسرے دن کے بعد اپنا سوگ ختم کرتي ہوں۔يہ حضرت زينب کا ہي اطاعت اور وفا شعاري کا ايک اظہار ہے۔

روايات احاديث

حضرت زينب بنت جحش سے کئي احاديث بھي مروي ہيں۔آپ بيان فرماتي ہيں کہ ايک دفعہ آنحضرتؐ ميرے گھر ميں تشريف لائے۔آپ کچھ گھبرائے ہوئے تھے، معلوم ہوتاہے کہ اس وقت حضورﷺ کو وحي الہٰي کے ذريعے عرب کے مستقبل سے متعلق اطلاع دي گئي تھي۔آپؐ نے فرمايا کہ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ عربوں کے لئے ہلاکت ہے اس شر اور مصيبت کي وجہ سے جو بہت قريب آگيا ہے۔ پھر آپؐ نے فرمايا کہ آج ياجوج ماجوج کے فتنہ ميں سے اتنے سے معمولي سوراخ کے برابر فتنہ ظاہر ہواہے۔ آپؐ نے انگشت شہادت اور انگوٹھے کو ملاکر سوراخ کي مقدار بيان کي اور فرماياکہ ابھي تو بہت سے فتنے ظاہر ہوں گے اور بہت ہلاکتيں ہوں گي۔ حضرت زينب بنت جحش نے عرض کيا کہ يارسول اللہﷺ! ہمارے اندر نيک لوگ موجود ہونگے اس کے باوجود پھر بھي يہ تباہي اور ہلاکت ہم پر آنے والي ہے۔حضورؐ نے فرمايا کہ جب پليدي اور برائي بڑھ جائے گي تواللہ تعاليٰ کي يہ تقدير پوري ہوکر رہے گي۔

وفات

حضرت زينب  بنت جحش کا انتقال حضرت عمر  کي خلافت کے زمانے ميں 20 ھ ميں ہوا۔آپؓ کي عمر 53برس تھي۔ حضرت عمر کي يہ بڑي خواہش تھي کہ اتني بلند پايہ بزرگ اور امّ المومنين کي تدفين کے موقع پر ان کي قبر ميں وہ خود داخل ہوں۔ انہوں نے ازواج مطہرات کو پيغام بھجواکر پوچھا کہ ان کي قبر ميں داخل ہونے کے لئے کو ن زيادہ مستحق ہے۔ ازواج نے پيغام بھيجا کہ جو ان کي زندگي ميں ان کے گھر ميں داخل ہوسکتاتھا وہ آج ان کي قبر ميں بھي داخل ہو سکتاہے۔ چنانچہ حضرت عمر خود ان کي قبر ميں اترے۔ اور بہت اعزاز واحترام کے ساتھ ان کي تدفين کروائي۔ پہلے آپ نے يہ اعلان کروايا کہ ان کے جنازے کے ساتھ صرف ان کے رحمي رشتہ دار ہي جائيں گے۔ حضرت عمر کا مقصود يہ تھا کہ بوقت وفات بھي امّ المومنين کے احترام ميں جنازہ کے لئے بھي حجاب کا اہتمام ہو اور اسي کے ساتھ حضرت زينب  کي تدفين ہو۔ ليکن جب حضرت اسماء  بنت عميس نے نہايت عمدہ مشورہ ديا کہ اگر آپ يہ سمجھتے ہيں کہ حضورﷺ کي زوجہ محترمہ کي تدفين بہر حال پردہ کے اہتمام کے ساتھ ہوني چاہئے تو آپؓ ايک تابوت ميں ان کي نعش رکھ کر جنت البقيع ميں لے جائيں اور وہاں ان کي تدفين ہوجائے۔ حضرت عمر کو يہ رائے بہت پسند آئي اور آپ نے تابوت کا انتظام کرکے اعلان کروايا کہ تمام اصحاب رسولؐ جنازہ کے ساتھ آکر تدفين ميں شامل ہوسکتے ہيں۔

حضرت زينب  بنت جحش کي تدفين جنت البقيع ميں ترپّن53برس کي عمر ميں ہوئي۔

(بحوالہ اہل بيت رسولﷺ از حافظ مظفر احمد صاحب)