//ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا(آخری قسط)

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا(آخری قسط)

. شوق حصولِ علم

امّ المؤمنین حضرت ام ّ سلمہ  پڑھنا لکھنا جانتی تھیں۔حصول علم کا بھی بے حد شوق رکھتی تھیں۔;انہوں نے بہت سے دینی مسائل رسول اللہﷺ سے دریافت کئے اور حضورؐ کے بعد بھی لمبی عمر پا کر ایک زمانہ تک اس علم دین کو عام کیا۔اور گھریلو زندگی کے حوالے سے خصوصاً خواتین کی رہنمائی اور تربیت کا حق ادا کیا۔

حضرت امّ سلمہؓ فرماتی تھیں کہ میں نے آنحضرتﷺ سے غسل جنابت کے بارہ میں بھی تفصیل سے پوچھا اور عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ !میں عموماً اپنے بال مینڈھی بناکر باندھ لیاکرتی ہوں۔ کیامجھے سر کے بال کھول کر غسل کرنا چاہئے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ سر پر تین چُلوپانی ڈال دیناکافی ہے۔اس سے طہارت حاصل ہوجاتی ہے۔ ایک دفعہ انہوں نے حضورﷺ سے پوچھا کہ یارسول اللہﷺ!ابو سلمہ تو فوت ہوگئے میں ان کی اولاد کی پرورش کرتی ہوں یہ میرے بچے ہیں میں ا ن کو چھوڑ بھی نہیں سکتی۔ کیا اس کا بھی اجر ہوگا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہاری اولاد ہے اللہ تعالیٰ ان کی پرورش کا تمہیں اجر عطافرمائے گا۔

ذہانت و فراست

حضرت امّ سلمہ نہایت زیرک خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی ذہانت سے نوازا تھا۔ اس کا اظہارصلح حدیبیہ کے موقع پر خوب ہوا۔چنانچہ علماء نے آپؓ کی اس خوبی کو اپنی ذات میں غیرمعمولی اور بہت بڑی فضیلت قرار دیاہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ آنحضرتﷺ چھٹے سال ہجرت میں جب ایک روٴیا کی بناء پر طواف کعبہ کے لئے تشریف لے گئے تو مشرکین مکہ نے مخالفت کے باعث مسلمانوں کو عمرہ کرنے کی اجازت نہ دی اور حضورﷺ اور آپؐ کے صحابہ کو حدیبیہ مقام پر رُکنا پڑا۔ بالآخر ان شرائط پر صلح ہوئی کہ مسلمان اس سال نہیں بلکہ اگلے سال آکر بیت اللہ کا طواف کرلیں۔ صحابہ عمرہ کے لئے جو قربانیاں ساتھ لیکر گئے تھے، آنحضرتﷺ نے انہیں میدان ِحدیبیہ میں ہی اپنی قربانیاں ذبح کرنے کا حکم دے دیا۔ اس غیر متوقع صورتحال اور صدمہ سے مسلمان نڈھال تھے۔ غم سے ان کے سینے چھلنی تھے۔اپنی قربانیا ں میدان ِحدیبیہ میں ذبح کرنے کے حکم پر وہ مجسمۂ حیرت بنے کھڑے تھے،ان کے ہوش و حواس انکا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ حضرت امّ سلمہ بھی اس سفرمیں شریک تھیں۔حضورﷺ ان کے خیمہ میں تشریف لے گئےاور فرمایا کہ امّ سلمہ تمہاری قوم کو کیاہواہے۔ وہ میرےحکم پر قربانیاں ذبح کرنے کی بجائے خاموش ہیں، حضرت امّ سلمہ نے عرض کیا یارسول اللہﷺ! آپؐ باہرتشریف لے جاکر سب سے پہلے اپنی قربانی ذبح کردیں اور بال مونڈنے والے کو بلائیں وہ آپؐ کے بال کاٹ دے۔ پھر دیکھیں صحابہ کیسے آپؐ کی پیروی کرتے ہیں۔حضرت امّ سلمہؓ کی کمال فراست نے بھانپ لیا کہ اس وقت صحابہؓ کو ایک صدمہ اور غم پہنچا ہے اور کمزوری کی اس حالت میں وہ ایک عملی نمونے کے محتاج ہیں۔ آنحضرتﷺ نے اس بروقت اور خوبصورت مشورے پر عمل کرتے ہوئے باہر جاکر اپنی قربانی کو ذبح کیااور بال مُنڈوانے لگے۔پھر کیاتھاصحابہ ایک عجب جوش وولولہ کےساتھ اپنی قربانیوں کی طرف آگے بڑھے اورانہیں ذبح کرنے لگے کہ میدانِ حدیبیہ منیٰ کی قربان گاہ کا منظر پیش کرنے لگا۔اس واقعہ کے عینی شاہد صحابہ بیان کرتے تھے کہ جب ہم لرزتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ قربانیاں ذبح کرنے کے بعداپنے سر مونڈ رہے تھے اور خطرہ تھا کہ کانپتے ہاتھوں سے کسی کی گردن ہی نہ کاٹ ڈالیں۔ مسلمانوں کےاس نازک وقت اور ابتلاء میں حضرت امّ سلمہؓ کےاس بابرکت مشورہ سے غیر معمولی برکت عطاہوئی۔ جس نے ہمیشہ کے لئے خواتین کے سر بلند کردیئے۔

اس واقعہ کی ثقاہت و عظمت ایسی ہے کہ مارگولیتھ جیسے مستشرق نے بھی حضرت امّ سلمہؓ کے مشورہ اور اس سے پید ا ہونے والے تاریخی نتیجہ کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکاہے جو اس مردانہ معاشرہ میں ایک غیر معمولی بات تھی۔وہ لکھتا ہے :۔

”At last (by the advice of his wife Umm Salamah) he performed the operations himself, and his followers did the same. “

یعنی آخر کار(آپؐ کی زوجہ ام سلمہؓ کے مشورہ پر)آپؐ نے خود اپنی قربانی سر انجام دی اورپھر آپؐ کے صحابہ نے بھی ایسا ہی کیا۔ حضرت امّ سلمہ کی ذہانت کا اندازہ بعض اور روایات سے بھی ہوتاہے۔ ایک موقع پر انہوں نے آنحضرتﷺ سے پوچھاکہ یارسول اللہﷺ!ایک عورت کواپنے خاوند کی وفات کے بعد دوسری شادی پھر تیسری اور چوتھی کرنی پڑتی ہے۔تو وفات کے بعد اگراس کے سب شوہر بھی جنت میں ہوئے۔تو وہ ان میں سے کس کے ساتھ ہوگی۔آنحضرتﷺ نے فرمایا” اس کا اختیاربیوی کو ہو گا”اس سوال سے حضرت امّ سلمہؓ کی رسول اللہﷺسے سچی محبت اور دونوں جہانوں میں معیت کی خواہش بھی ظاہر ہے۔

حضرت ام سلمہؓ کی اولاد

حضرت ام سلمہؓ کی اولاد میں دوبیٹوں سلمہؓ اور عمرؓ اور دو بیٹیوں درّہؓ اور زینبؓ کا ذکر ہوچکاہے۔ حضرت ام سلمہؓ کے رسول اللہﷺکے عقد میں آنے کے بعد ان کے بچوں کی پرورش آنحضورﷺ کے گھر میں ہونے لگی۔ آپؐ نے خودان بچوں کو کھانے پینے کے آداب سکھائے۔ اور نہ صرف ان کے لئے دعائیں کیں بلکہ ہر طرح سے انکا خیال رکھا۔بڑے بیٹے سلمہ (جو اپنی والدہ حضرت امّ سلمہؓ کے آنحضورﷺ سے نکاح کے موقع پر ولی تھے) کا رشتہ عمرة القضاء سے واپسی پر 7ھ میں چھوٹی عمر میں ہی آپؐ نےخود اپنےچچا حضرت حمزہؓ کی بیٹی امامہ سےجس محبت اور خلوص سے طے کیااس کا اظہار اپنے صحابہ سے یوں فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے میں نے اس کا بدلہ چکا دیا۔آپؐ کا اشارہ اس طرف تھا کہ حضورﷺکے نکاح کے وقت اس بچے نے حضرت امّ سلمہؓ کے ولی کے طور پر ایجاب وقبول کیا تھا۔اگرچہ بعد میں سلمہ ذہنی لحاظ سے معذور اور بیمار ہوگئےتو امامہ بنت حمزہ کی شادی ان سےتو نہ ہوسکی اورحضرت ام سلمہؓ کے دوسرے بیٹے اورسلمہ کے چھوٹےبھائی عمر بن سلمہؓ کے ساتھ یہ رشتہ طے پایا اور شادی ہوئی۔اور یہ سب حضورﷺ کی طرف سے سلمہ کی قدردانی کے طور پرمعلوم ہوتا تھا۔سلمہ عبدالملک بن مروان کے زمانہ تک زندہ رہے۔

دوسرے بیٹے عمر کی پیدائش ہجرت حبشہ کے زمانہ میں ہوئی تھی۔ رسول اللہﷺ کی وفات کے وقت وہ نو سال کے تھے۔حضر ت علی کے زمانہ خلافت میں وہ ایران اور بحرین کے امیر مقررہوئے۔ اور عبدالملک بن مروان کے زمانے میں ان کی وفات ہوئی۔ تیسری صاحبزادی زینب تھیں جو حبشہ میں پیداہوئیں ان کا نام برّہ تھا جسے بدل کر آنحضرتﷺ نے زینب نام رکھا تھا۔ حضورﷺ کے ساتھ حضرت ام سلمہ کی شادی کے وقت یہ اپنی والدہ کی گود میں شیرخواربچی تھیں۔شادی کے بعدجب آنحضورﷺ کمرے میں داخل ہوئے تو حضرت امّ سلمہ بچی کو دودھ پلا رہی تھیں۔آپؐ واپس تشریف لے گئے۔ دوبارہ تشریف لائے تو یہی صورتحال دیکھی اور پھر واپس ہوگئے۔ حضرت ام سلمہؓ کے رضاعی بھائی حضرت عمار بن یاسر کو جب اس کا علم ہواتو وہ حضرت ام سلمہؓ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ یہ بچی تمہارے اور رسول اللہﷺ کے درمیان حائل ہے اسے میرے سپرد کردو۔ اس کے بعد جب حضورﷺ تشریف لائےتوزینب کو گھر میں نہ پاکر فرمایا ‘‘زینب کہاں ہے؟’’انہوں نے عرض کیا کہ اسے عمار باہر لے گئے ہیں۔ پھرحضرت عمارؓ نے اپنی اس بھانجی کی رضاعت کا مناسب اہتمام کیا۔ ابن سعد کے مطابق رضاعت کی یہ ذمہ داری حضرت اسماء بنت ابوبکرؓ ادا کرتی رہیں۔ آنحضرتؐ نے ایک موقع پر محبت اور پیار کا اظہار کرتے ہوئے زینب کے چہرے پر پانی چھڑکا تھا، کہتے ہیں کہ اس کی برکت سے بڑھاپے میں بھی ان کے چہرے پرترو تازگی کے آثار نظر آتے تھے۔

فیض صحبتِ رسولﷺ

آنحضرتﷺ نے اپنی ازواج کی جو اعلیٰ تعلیم وتربیت فرمائی۔ حضرت امّ سلمہ کی روایات میں اس کابھی ذکر ملتاہے۔حضر ت ام سلمہؓ قرآن کی حافظہ تھیں۔ وہ رسول اللہﷺ کی قرآن کی تلاوت کا طریق بیان کرتے ہوئے فرماتی تھیں کہ رسول اللہﷺ ہر ایک آیت جدا کر کے پڑھا کرتے تھے۔ مثال کے طور پرآپ سورۂ فاتحہ کی بسم اللہ سے لیکر مالک یوم الدین تک چارآیات چار ٹکڑوں میں الگ الگ پڑھ کر سناتیں۔ ایک روایت میں پردہ کے مسائل کے بارہ میں آپ فرماتی ہیں کہ آنحضرتﷺ نے انہیں اور حضرت میمونہ کو اپنے ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم سے بھی پردے کی ہدایت فرمائی تھی۔ اوربیویوں کے اس سوال پر کہ وہ تو نابینا ہیں۔ رسول اللہؐ نے فرمایا تھا کہ کیاتم بھی نابینا ہو؟ اس طرح آنحضرتﷺ نے نہایت باریک بینی سے اس قرآنی ہدایت پر عمل کروایا کہ مومن مرد بھی اور مومن عورتیں بھی آنکھیں نیچی رکھا کریں۔ اور کسی نابینا مردپر بھی اپنے گھر کی عورتوں کو نظر ڈالنے سے روک کرپردے کا ایک اعلیٰ نمونہ قائم کرکے دکھایا اور خواتین کا مردوں سےاختلاط کسی صورت میں بھی پسند نہیں فرمایا۔

ایک اور روایت میں حضرت امّ سلمہ بیان کرتی ہیں کہ ایک مخنّث(جسے ہیجڑا یاکھسرا بھی کہتے ہیں) آیاہواتھا اس نے سردارِ طائف کی بیٹی کا ذکر ا س انداز میں کیاکہ جس سے اس کی جسامت وغیرہ ظاہرہوتی تھی۔ آنحضرتﷺ کو علم ہواتو فرمایا کہ بظاہر مردانہ صلاحیتوں سے محروم ایسے لوگوں سے بھی ہماری خواتین کو پردہ کرنا چاہئے تاکہ دوسروں کی بیٹیوں کے بارہ میں ایسی نامناسب باتیں نہ ہوں۔اس لئے ہمارے گھروں میں یہ اس طرح آزادانہ آیانہ کریں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنےاہل خانہ کی دینی تربیت کاکتنا خیال رکھتے تھےاس کا اندازہ اس روایت سے لگایا جاسکتا ہے۔حضرت امّ سلمہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ ایک رات اچانک بیدار ہوئےاور فرمایا کہ سبحان اللہ آج رات فتنوں کی کتنی ہی خبریں دی گئیں اور کتنے ہی خزانے بھی اتارے گئے۔ یعنی آئندہ کے بارہ میں فتوحات وغیرہ کی پیشگوئیاں۔ کوئی ہے جو ان حجروں میں محو خواب بیبیوں کو جگائے کہ وہ اٹھ کر عبادات اور دعا میں کچھ وقت گزارلیں۔ کا ش انہیں علم ہو کہ کتنے ہی لوگ ہیں جنہوں نے اس دنیا میں توعمدہ لباس زیب تن کئے ہوئے ہیں مگر اگلے جہان میں نامعلوم انہیں لباس نصیب بھی ہوگا کہ نہیں۔ کس ہوش رُباانداز میں حضورﷺ نے اپنے گھر کے لوگوں کو تہجد کے لئے بیدار کیا۔حضرت ام سلمہؓ ہجرت حبشہ کے زمانہ کی یادوں کا تذکرہ بھی مختلف مواقع پرفرماتی رہیں۔حضورؐ کی آخری بیماری میں بھی جب حضورﷺبے چینی کی کیفیت میں تھے اور ازواج احوال پُرسی کیلئے حاضر تھیں انہوں نے یہ ذکر کیا کہ حبشہ میں عیسائیوں کا ایک گرجا تھا، جس کا نام “ماریہ” تھا۔ آنحضرتﷺ نے اس موقع پر فرمایا کہ ان کا بُرا ہو ان لوگوں نے اپنے نبیوں کی قبروں پر سجدے کئے اور وہاں عبادت گاہیں بنائیں۔ اس طرح حضورؐ نے اپنی آخری بیماری کی تکلیف میں بھی اپنے دل میں موجود اس دینی غیرت کا اظہار فرماکراپنے اہل بیت میں توحید سے محبت اور شرک سے نفرت کے جذبات اجاگر کئے۔

جوہر قیادت

حضرت امّ سلمہ میں غیر معمولی جرأت و حوصلہ کے ساتھ قیادت کا ایک خاص جوہر موجود تھا۔حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضورؐ اور میں گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ خواتین گھر کے ایک جانب نماز ادا کررہی ہیں۔ حضورﷺ نے حضرت امّ سلمہؓ سے فرمایا کہ اے ام سلمہؓ !تم کون سی نماز پڑھ رہی ہو؟ انہوں نےعرض کیا فرض نماز۔ حضورﷺنے فرمایاتم امامت کیوں نہیں کرواتیں؟ حضرت ام سلمہؓ نےدریافت کیا کہ کیا یہ درست ہے؟ آپؐ نے فرمایا کیوں نہیں۔ بس عورتوں کی امام آگے کھڑے ہونے کی بجائے درمیان میں کھڑی ہوجائے۔اس طرح حضرت امّ سلمہ نے خواتین کو نماز باجماعت میں پہلی دفعہ امامت کروائی۔ دوسری روایت میں مزید صراحت ہے کہ یہ نماز عصر کی تھی۔ حضرت حُجیرة بنت حصین بیان کرتی ہیں کہ ہمیں حضرت امّ سلمہؓ نے عصر کی نماز کی امامت کروائی اور آپؓ ہمارے درمیان کھڑی ہوئیں۔ اور یوں عورتوں کے لئےنماز میں ایک خاتون کی امامت کا نمونہ ان کے ذریعہ جاری ہوا۔حضرت امّ سلمہ حضورﷺ سے اکثر دینی مسائل دریافت کرتی رہتی تھیں۔ اس وجہ سے صحابہ کرام  بعد کے زمانے میں دینی سوالات پوچھنے کے لئے آپؓ سے رجوع کرتے تھے۔

ایک موقع پر حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے حضرت عائشہ  سے پچھوایا کہ نمازعصر کے بعد نفل پڑھنے جائز ہیں یا نہیں؟ انہوں نے جواب دیاکہ اس بارہ میں حضرت امّ سلمہ سے پوچھیں۔ سائل ان کے پاس گیا تو حضرت امّ سلمہ نے بیان فرمایا کہ حضورؐ عام طور پر عصر کے بعد نفل پڑھنے سے منع فرماتے تھے۔کیونکہ غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنا منع ہے۔ اور عصر کے بعد سورج ڈھلنے کا وقت ہوتا ہے اس لئےغروبِ آفتاب کی وجہ سے نماز کے لئے ناپسندیدہ اوقات میں شمار ہوتاہےکہ کہیں نماز پڑھنے والا ممنوع وقت میں داخل نہ ہوجائے۔پھر انہوں نے اپنا یہ واقعہ بیان فرمایا کہ ایک دفعہ عصر کے بعد حضورؐ میرے گھر نماز پڑھنے لگے تو میں نے اپنی خادمہ سے کہا کہ حضورﷺ کو یاد کرواوٴ کہ آپؐ تو عصر کے بعد نماز سے روکتے تھے۔آج آپؐ خود پڑھ رہے ہیں، اگر آپؐ ہاتھ کے اشارے سے روک دیں تو واپس چلی آنا۔ حضورؐ نے جب خادمہ کو ہاتھ کے اشارے سے منع فرما دیااور سلا م پھیرنے کے بعد فرمایا کہ دراصل آج نماز ظہر کے بعد عبدالقیس قبیلہ کے وفد کی آمد پر مصروفیت رہی۔ ان کے ساتھ ملاقات کی وجہ سے میری ظہر کے بعد کی دو رکعتیں اداہونے سے رہ گئیں جو میں نےاب ادا کی ہیں۔حضرت ام سلمہؓ کی ایک روایت کے مطابق وہ وفد بنو تمیم کا تھا۔

حضرت عائشہ  بیان فرماتی تھیں کہ عام طور پر لوگ کوشش کرتے تھےکہ جب حضورؐ کی باری میری طرف ہوتو وہ تحائف بھیجاکریں۔ حضرت امّ سلمہ اپنی دلیری کے باعث حق بات سے رکتی نہ تھیں۔چنانچہ ایک موقع پر بعض دیگرازواج کے ساتھ مل کر انہوں نے حضورؐ کی خدمت میں اس بارہ میں عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ !لوگوں پر یہ بات واضح کردینی چاہئے کہ جس بیوی کے ہاں بھی آپ کی باری ہو وہاں وہ تحائف لاسکتے ہیں۔ انہیں خاص حضرت عائشہ کی باری کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔حضورؐ نے اس بات سے اعراض کیا۔ حضرت امّ سلمہ سے ہی یہ روایت بھی ہے کہ آنحضرتؐ نے ایک موقع پرفرمایا کہ عائشہ کے بارے میں مجھے کوئی الزام مت دیاکرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا بھی اس کے ساتھ نرالا سلوک ہے اور ان کے بستر میں مجھے وحی بھی آتی ہے۔

حضرت امّ سلمہ نے حضورﷺ کے گھر میں آکر غیر معمولی برکات سے حصہ پایا۔ وہ گھر جس میں فرشتوں کا نزول ہوتاتھا اور وہ ان فرشتوں کو دیکھتی اور ان کی باتیں سننے کی سعادت پاتی رہیں۔وہ خودبیان فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرتﷺ میرے گھر میں تھے جبریلؑ آئے وہ حضورﷺ سے گفتگو فرماتے رہے،جب اٹھ کر جانے لگے تو آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ امّ سلمہ جانتی ہو کہ یہ کون تھے۔میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ !یہ آپ کے صحابی دحیہ کلبی تھے۔حضرت دحیہؓ وہ خُوبرو صحابی تھے جن کی شکل میں جبریل ؑ حضورؐ کے پاس وحی لے کر آتے تھے۔حضرت امّ سلمہ کہتی تھیں کہ میں سمجھتی رہی کہ دحیہ کلبی ہیں۔ پتہ اس وقت چلا جب آنحضرتﷺ نے مسجد میں جاکر خطبہ ارشاد کیااور فرمایا کہ جبریلؑ یہ وحی لے کرآئے تھے۔

حضرت امّ سلمہ کےوالہانہ عشق رسول کا اندازہ اس سے بھی ہوتاہے کہ آپؓ نے رسول اللہﷺ کے کچھ بال بطور تبرک سنبھال کر رکھے ہوئے تھے۔

وفات

حضرت امّ سلمہؓ نے لمبی عمر پائی۔آپؓ نے رسول اللہﷺکے بعد باون برس تک رسول اللہﷺ کی علمی وروحانی برکات سے ایک دنیاکو مستفیض کرتے ہوئے بالآخر 63ھ میں یزید کے عہد میں اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہوگئیں۔ آپؓ ازواج ِ مطہرات میں سب سےلمبی عمرپاکرسب سےآخر میں وفات پانے والی خاتون تھیں۔ آپؓ نے ایک اندازے کے مطابق سو سال کے قریب عمر پائی۔

اَللّٰھمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِک وَسَلِّم اِنَّک حَمِیدٌ مَجِیدٌ

(بحوالہ اہل بیت رسول ﷺ از حافظ مظفر احمد صاحب)