//ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا

ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا

قسط اول

فضائل

حضرت ام حبيبہ رضي اللہ عنہا سے رسول اللہﷺ کي شادي بھي ايک الہٰي تقدير تھي۔ شادي سے پہلےحضرت امّ حبيبہؓ نے خواب ميں ديکھا کہ ايک نووارد نے انہيں امّ المومنين کے لقب سے مخاطب کياجس سے پہلے تو وہ ڈر گئيں۔مگر خوشا نصيب کہ اس کي تعبير رسول اللہﷺ سےعقد کي صورت ميں ظاہر ہوئي۔

شاہ حبشہ نجاشي نے رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کے ارشاد کے مطابق حضرت امّ حبيبہؓ سے آنحضورﷺ کے نکاح کا اعلان کيا۔

حضرت امّ حبيبہؓ کو اپنے والدين سے بھي بڑھ کر رسول اللہﷺ سے پيار تھا۔صلح حديبيہ کے بعد جب ان کے والدسردارِ مکہ ابوسفيان مدينہ آئے تو اپني بيٹي سے بھي آکر ملے۔ اس دوران وہ ان کے گھر ميں آنحضرتﷺ کے بستر پر بيٹھنے لگےتو حضرت ام حبيبہؓ نے فوراً آگے بڑھ کر اس بستر کو لپيٹ ديا۔ سردار مکّہ ابوسفيان نے بڑے تعجب سے سوال کيا کہ بيٹي کيا يہ بستر ميرے قابل نہيں يا کوئي اور بات ہے؟ حضرت ام حبيبہؓ نے عرض کيا ابّا! يہ بستر ميرے شوہر نامدار ہي کا نہيں ميرے آقا حضرت محمدمصطفٰيﷺ کا ہے۔

نام ونسب و قبول اسلام

حضرت ام حبيبہؓ کا نام ہندمشہور تھا۔آپؓ مکہ کے مشہور سردار ابو سفيان بن حرب کي بيٹي تھيں اور قبيلہ قريش کي شاخ بنو اميہ سے تعلق تھا۔آپؓ کي والدہ صفيہ بنت ابو العاص حضرت عثمانؓ بن عفان کي پھوپھي تھيں۔روايات ميں آپ کا دوسرا نام رملہ بھي مذکور ہے۔ اللہ تعاليٰ نے حضرت ام حبيبہؓ کو ابتدائي زمانہ ميں ہي اپنے شوہر کے ساتھ قبول اسلام کي توفيق عطا فرمائي۔

آپؓ کا نکاح حضرت عبيد اللہ بن جحش سے ہواتھا جوآپ کے داداحرب کے حليف تھے۔ ان کے ساتھ ہي ملک حبشہ کي طرف آپ کوہجرت کرنے کي توفيق ملي۔وہيں آپ کي بيٹي حبيبہ پيدا ہوئيں۔ جس کي وجہ سے آپؓ کي کنيت ام حبيبہؓ معروف ہے۔

حبشہ ميں يہ حادثہ پيش آيا کہ حضرت ام حبيبہؓ کے شوہر عبيداللہ نے وہاں کا مذہب عيسائيت اختيار کرليا۔ اس کي اطلاع اللہ تعاليٰ نے حضرت امّ حبيبہؓ کو ايک رؤيا کے ذريعہ سے پہلے سے ہي دے دي تھي۔آپؓ خودبيان فرماتي تھيں” ايک رات ميں نے خواب ميں ديکھا کہ ميرے شوہر عبيداللہ بن جحش کي شکل بگڑ گئي ہے اور مجھے بد صورت اور بدزيب دکھائي دے رہے ہيں اور ميں کہتي ہوں کہ خدا کي قسم انکي تو حالت ہي بدل گئي ہے۔ ”اگلي صبح پتہ لگا کہ وہ اسلام چھوڑ کر عيسائيت اختيار کرچکے ہيں۔آپؓ بيان کرتي تھيں کہ ميں نے انہيں کہا کہ يہ تمہارے لئے بہتر نہيں، ميں نے انہيں اپني خوا ب بھي سنائي تھي مگر انہوں نے اس طرف کوئي توجہ نہ کي۔ پھرعيسائي ملک حبشہ کي آزاديوں اورشراب وغيرہ کي رغبت ميں وہ کچھ يوں کھو گئے کہ اسي حال ميں ان کي وفات ہو گئي۔عُبيد اللہ اپني بيوي سے کہنے لگے کہ ميں نے اپنے مسلک پر غور کيا ہے اور مجھے عيسائي مذہب سے بہتر کوئي دين نظر نہيں آيا۔ دراصل ميں اسي دين پر تھا جب مسلمان ہوا۔ اور اب پھر عيسائيت قبول کر چکا ہوں۔

بعض روايات ميں حضرت ام حبيبہؓ کے شوہر کا نام عبد اللہ آيا ہےجو درست نہيں۔ عبيد اللہ بن جحش کے ايک بھائي حضرت عبداللہؓ بن جحش تھےجو ام المؤمنين حضرت زينب بنت جحشؓ کےبھائي تھے۔وہ غزوہ احد ميں شہيد ہوگئے تھے جبکہ حضرت ام ّ حبيبہؓ کے شوہر عُبيد اللہ نے حبشہ ميں وفات پائي۔

رسول اللہﷺ سے شادي

حضرت ام حبيبہؓ اپني شادي کي دلچسپ رُوداد يوں بيان فرماتي ہيں کہ” اس خواب کے کچھ عرصہ بعد ميں نے ايک اور خواب ميں ديکھا کہ ايک آنے والا آيا اور اس نے مجھے ام المومنين کے لقب سے مخاطب کيا۔جس سے پہلے تو ميں ڈر گئي۔ پھر ميں نے اس کي يہ تعبير کي کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم مجھ سے عقد فرمائيں گے۔ چنانچہ عبيد اللہ بن جحش کي وفات کے بعد جب ميري عدّت ختم ہوگئي تو شاہِ حبشہ نجاشي کے ذريعےحضورﷺ کي طرف سے نکاح کا پيغام مجھ تک پہنچا۔

شاہ حبشہ نجاشي کي خادمۂ خاص ابرہہ نامي تھي جس کے سپردبادشاہ کے لباس اور خوشبو وغيرہ کے انتظام کي ذمہ داري تھي۔اس نےآکر مجھے يہ پيغام ديا کہ بادشاہ سلامت فرماتے ہيں کہ رسول اللہﷺ نے انہيں لکھا ہے کہ وہ آپؓ کا نکاح حضورؐ کے ساتھ کر ديں۔ ميرے دل سے پرديس ميں يہ خوشخبري لانے والي لونڈي ابرہہ کےليے دعا نکلي کہ اللہ تعاليٰ تمہيں ہميشہ خوش رکھے۔ ابرہہ نے مزيد کہا کہ بادشاہ سلامت نے يہ بھي فرمايا ہے کہ آپؓ نکاح کے لئے کسي کو اپنا وکيل مقرر کر ديں۔ چنانچہ ميں نے اپنے ماموں خالدؓ بن سعيد بن العاص کو اس غرض کے لئے وکالت نامہ کا پيغام بھجوايا۔ اورخوش ہو کر ابرہہ کو چاندي کے دو کنگن، دو پازيبيں اور انگوٹھياں بطور انعام ديں۔ اسي شا م شاہ حبشہ نجاشي نے حضرت جعفرؓ بن ابي طالب اور وہاں موجود ديگر مسلمانوں کو جمع کر کے خود رسول اللہﷺ کا خطبہ ٔ نکاح پڑھا۔

 حمد و ثنا اور تشہد کے بعد انہوں نے کہا کہ رسول اللہؐ نے مجھے لکھا ہے کہ ميں ام حبيبہؓ بنت ابي سفيان کے نکاح کا اعلان آپؐ کے ساتھ کر دوں۔ اس کي تعميل کرتے ہوئے ان کا حق مہر ميں چار سودينار (نقد)مقرر کرتا ہوں۔پھر بادشاہ نے ديناروں کي تھيلي لوگوں کے سامنے بکھير کر رکھ دي۔اس پر حضرت امّ حبيبہؓ کے وکيل حضرت خالدؓ بن سعيد کھڑے ہوئے، انہوں نے اس نکاح کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعاليٰ اپنے رسول کيلئے يہ رشتہ بہت مبارک فرمائے۔بادشاہ نے حق مہر کي رقم حضرت خالدؓ بن سعيد کے سپرد کردي۔ جب لوگ اٹھ کر جانے لگے تو نجاشي شاہ حبشہ نے کہا“ انبياء کي سنّت ہے کہ ان کي شادي کے موقع پر کھانا کھلايا جاتا ہے”چنانچہ انہوں نے کھانا منگوايا۔ بادشاہ ہوکر رسول اللہﷺ کي غلامي کا دم بھر نے والے اس وفا شعار صحابي حضرت اصمحہ نجاشيؓ کي دعوتِ طعام ميں شامل ہوکر تمام اصحاب خوشي خوشي گھروں کو واپس لوٹے۔

حضرت امّ حبيبہؓ مزيد بيان فرماتي تھيں کہ جب حق مہر کي رقم مجھے پہنچي تو ميں نے بادشاہ کي خادمۂ ِخاص ابرہہ کو بلوا بھيجااور اُسے کہا کہ جب تم رسول اللہﷺ سے شادي کي خوشخبري لائي تھي تو ميرے پاس کوئي مال نہ تھا اس وقت جو ميسر تھا وہ تمہيں دےديا اب پچاس دينار مزيد تمہيں بطور انعام ديتي ہوں۔ اس پر ابرہہ نے ميرے تحفہ ميں دئيے ہوئے زيورات کا ڈبہ مجھے واپس کر تے ہوئے کہا کہ بادشاہ سلامت نے فرمايا ہے کہ کوئي تحفہ لےکرميں آپؓ کے مال سے ذرا بھي کم نہ کروں، بادشاہ کے لباس کي تياري اورتيل خوشبو وغيرہ مہيا کرنے کي نگراني ميرا کام ہے۔ اور ميں رسول کريمﷺ کا دين قبول کر کے مسلمان ہو چکي ہوں۔ اس نے مجھے يہ بھي بتايا کہ بادشاہ نے اپني بيگمات کو ہدايت کي ہے کہ وہ سب آپؓ کواپني طرف سے خوشبو کے تحائف بھجوائيں۔ پھر اگلي صبح وہ ميرے ليے عُود اور عنبر وغيرہ کي خوشبوئيں اور پاؤڈر وغيرہ لے کرآئيں۔حبشہ سے يہ تحائف لے کر ميں جب رسول اللہﷺ کے پاس مدينہ آئي تو يہ چيزيں استعمال کيا کرتي تھي۔ آپؐ نے کبھي ان کو ناپسند نہيں فرمايا۔

بادشاہ کي خادمۂ خاص ابرہہ نے مجھے وہ تحائف ديتے ہوئےکہا کہ اب آپؓ کوبھي ميرا ايک کام کرنا ہوگا اور وہ يہ کہ رسول اللہﷺ کو ميرا سلام کہنا اور عرض کرنا کہ ميں آپؐ کا دين اختيار کر کے مسلمان ہو چکي ہوں۔ اسکے بعد جب تک ميں وہاں رہي، ابرہہ نے مجھ سے بہت ہي محبت کا سلو ک کيا۔ تقريبِ نکاح پر بھي اسي نے مجھے تيار کيا تھا۔ وہ جب مجھے ملنےآتي تو مجھے ياد کروانے کي خاطر کہتي کہ بي بي !ميرا کام بھول نہ جانا۔

 حضرت ام حبيبہؓ بيان کرتي تھيں کہ جب ميں رسول اللہﷺ کے پاس مدينہ حاضر ہوئي توآپؐ کو بتايا کہ حبشہ ميں نکاح وغيرہ کي تقريب کس طرح ہوئي تھي اور شاہي خادمہ ابرہہ کے جو واقعات و معاملات ميرے ساتھ گزرے ان کا بھي ميں نے ذکر کيا۔ رسول اللہﷺ اس سے خوب محظوظ ہوئے۔ پھر مجھے بادشاہ کي خادمہ ابرہہ کا پيغام يادآيا اور ميں نے اس کا سلام رسول اللہﷺکي خدمت ميں عرض کيا۔ آپؐ نے جواب ميں فرمايا وَ عَلَیْھَا السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ کہ اس پر بھي سلام اور اللہ تعاليٰ کي رحمتيں اور برکتيں ہوں۔

الغرض حضرت ام حبيبہؓ مکہ کے ايک بڑے سردارابوسفيان کي بيٹي تھيں آنحضرتﷺ کے ساتھ ان کے رشتہ ازدواج ميں منسلک ہونے کے لئے شاہ نجاشي نے شايانِ شان اہتمام کيا۔ جس کا ذکر مختلف روايات ميں موجود ہے۔چنانچہ علامہ جوزي اورامام بيہقي نے لکھا ہے کہ آنحضرتﷺ نے اپنے نمائندہ عمرو بن اميہ کو اس رشتہ کے لئے بھجوايا توحضرت نجاشيؓ نے آنحضرتﷺ کے ساتھ حضرت ام حبيبہؓ کا اعلان ِ نکاح کرتے ہوئے اپني طرف سے حضورؐ کي نمائندگي ميں چار سو دينار کا مہر بھي ادا کيا بعض روايات ميں يہ رقم چار ہزار درہم بيان ہوئي ہے جبکہ عام ازواج کا حق مہر چار سو درہم تھا۔ اور پھر شرحبيل بن حسنہ کے ساتھ حضورﷺ کي خدمت ميں انہيں بڑي کشتيوں کے ذريعہ مدينہ بھجوانے کا بھي انتظام کيا۔

حضرت ام حبيبہؓ اس بحري سفر کا مختصر حال بھي بيان فرماتي تھيں کہ” نجاشي نے ہمارے ليے دو بڑي کشتيوں کے ساتھ ماہر ملّاحوں اور کشتي بانوں کا انتظام بھي کرديا۔ يہاں تک کہ ہم مدينہ کے ساحل ِ سمندر تک پہنچے۔ وہاں سے سواريوں کے ذريعہ مدينہ پہنچے۔ ‘‘

حضرت ام حبيبہؓ کي حبشہ سے مدينہ آمد 7ہجري کا واقعہ ہے۔اس وقت ان کي عمر 36برس کے قريب تھي۔اس زمانے ميں کسي نےحضرت امّ حبيبہؓ کے آنحضورﷺکے ساتھ نکاح کا ذکر جب ابوسفيان سے کيا اور کہا کہ آپ تو آنحضرتﷺ کے ساتھ حالتِ جنگ ميں ہيں اور انہوں نے آپ کي بيٹي کے ساتھ شادي کر لي ہے۔اس نےاپنا رئيسانہ وقار قائم رکھتے ہوئےجواب ديا کہ بالآخر آنحضرتﷺ ايک معزز انسان ہيں۔اگر ميري بيٹي نے ايک قابلِ احترام ہستي سے نکاح کيا ہے تو اس ميں کوئي قابلِ اعتراض بات نہيں۔

بعد ميں جب صلح حديبيہ ہوگئي اور ابوسفيان مکہ سےمدينہ آئے۔ اس موقع پر آنحضورﷺ سے اپنے مخصوص سردارانہ انداز ميں کہنے لگے کہ ميں نے آپ کوکيا چھوڑا سارے عرب نے ہي آپ کو چھوڑ ديا۔آنحضورؐ نے مسکراتےہوئے انہيں کنيت سے پکار کر فرمايا اےابو حنظلہ!يہ بات کم ازکم آپ کوتو زيب نہيں ديتي۔ حضورﷺکا اشارہ اس طرف ہوسکتاہےکہ تمہاري بيٹي تو ہمارے حرم ميں ہے۔

شادي ميں حکمت

مستشرق کينن سيل نے اپني کتاب”دي لائف آف محمدؐ‘‘ميں يہ اعتراض کيا ہے کہ نبي کريمﷺ کي شاديوں کے دفاع ميں جو يہ وضاحت کي جاتي ہے کہ ايک سے زائد شادياں بيوگان اور عمر رسيدہ خواتين کو تحفظ اور مدد فراہم کرنے کے لئے تھيں، اگر ايسا ہي تھا تو بہت سي اور بيوگان بھي کيوں حرم نبيؐ ميں شامل نہ کي گئيں۔کم از کم حضرت امّ حبيبہؓ کے بارہ ميں يہ وضاحت درست نہيں۔کيونکہ انہيں تو ايسي کوئي دشواري نہ تھي وہ آرام وآسائش سےحبشہ ميں آباد تھيں اور مکّہ واپسي کي صورت ميں بھي ان کے والد ابو سفيان (جوايک رئيس تھے) بخوبي ان کي کفالت کے قابل تھے۔وہ لکھتاہے۔

It is sometimes argued in defence of the Prophet’s matrimonial alliances that they were made with the object of supporting widows and old women and that in this case a natural protector was needed. If this is so there seems no reason why many more were not admitted into the Prophet’s harem. Umm Habiba, however, does not appear to have been in any difficulty, she was comfortably settled in Abyssinia, and , in the case of her return to Arabia, Abu Sufyan was well able to look after her.

ترجمہ:‘‘آنحضرتﷺ کے ازدواجي تعلّقات کے دفاع ميں بعض دفعہ يہ دليل دي جاتي ہے کہ ان تعلّقات عامہ کا مقصد بيواؤں اور بوڑھي عورتوں کو سہارا دينا مدّنظر تھا۔کيونکہ ايسي صورت ميں انہيں ايک فطري محافظ کي ضرورت ہوتي ہے۔اگر ايسا ہي مقصد تھا تو آنحضورﷺ کے عقد ميں مزيد خواتين کيوں نہ لائي گئيں۔تاہم اُم حبيبہ (جو آپؐ کے عقد ميں لائي گئيں:ناقل) بظاہر ايسي کسي مشکل ميں نہ تھيں اور وہ حبشہ ميں آرام سے زندگي گزار رہي تھيں اور عرب ميں واپسي کي صورت ميں ابو سفيان ان کي بخوبي ديکھ بھال کر سکتے تھے۔‘‘

اس اعتراض کا تفصيلي جواب اس کتاب ميں تعدّد ازدواج کے مضمون ميں ديا جا چکا ہے کہ رسول اللہﷺ کي تمام شادياں مختلف وقتي وقومي مصالح کے تحت تھيں جن ميں سے ايک اہم مصلحت بيوگان کا تحفظ بھي تھا۔اس حوالہ سے مزيد بيوگان کو حرم ميں شامل نہ کرنے کا  اعتراض نہايت بودا ہے۔کيونکہ اسلامي شريعت ميں نکاح کے احکام کے مطابق آنحضرتﷺ اور آپؐ کےصحابہؓ کو بيوگان سے نکاح کرنے اور کروانے کي ہدايت تھي(النور:33) جس پرصرف آپؐ نے ہي نہيں آپؐ کے اصحاب نے بھي قرباني کرتے ہوئے عمل کرکے دکھايا۔باقي جملہ بيوگان کو اکيلے آنحضرتﷺکا اپنےحرم ميں لانا اصول شريعت کے مطابق جائز ہي نہيں تھا۔ (الاحزاب:53)

جہاں تک حضرت امّ حبيبہؓ سے شادي پر مسٹر کينن کي طعنہ زني کا تعلق ہے تو يہ اعتراض نہ صرف ديانت داري پر مبني نہيں بلکہ تاريخ سے ناواقفيت کا نتيجہ بھي ہے، تاريخ کا مطالعہ کرنيوالاايک عام طالب علم بھي جانتا ہے کہ کفارِ مکّہ اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمان رشتہ داروں سے رشتے ناطے منقطع کر چکے تھے اور ان کے دلوں ميں مسلمان اولاد، والدين يابہن بھائيوں کے لئے کوئي نرم گوشہ باقي نہ رہا تھا کجا يہ کہ معاند اسلام ابوسفيان سے اپني مسلمان بيٹي کي کفالت کي توقع کي جائے۔ اگر وہ اتنا ہي ہمدرد ہوتا تو حضرت ام حبيبہؓ کو مکہ سےحبشہ ہجرت کي نوبت ہي کيوں پيش آتي۔ دوسرے خود امّ حبيبہؓ جو دين کي خاطر وطن اور ماں باپ کو چھوڑ چکي تھيں خود يہ بات انکي غيرت ِ ايماني کے خلاف تھي وطن اورشوہر کي قرباني دينے کے بعدحالتِ بيوگي ميں دين اسلام چھوڑ کر پھر اپنے والد کي کفالت ميں جانے کے متعلق وہ سوچ بھي نہيں سکتي تھيں۔ اور اگر ايسا کوئي ادنيٰ ساخدشہ تھا بھي تو رسول اللہﷺ کي ان کے ساتھ رشتہ کي برمحل تجويز سے دور ہوگيا۔ کيونکہ مسلمان ہونے کے بعدہر لحاظ سے ان کي کفالت کے اصل ذمہ دار رسول اللہﷺ تھے۔

پس جب حضرت امّ حبيبہؓ نے رئيس مکہ کي بيٹي ہوکر تنعّم کي زندگي چھوڑتے ہوئے خدا اور اس کے رسول کي خاطر اپنے وطن اور گھر بار کو قربان کر ديا اور ديارِ غير ميں تنہا رہ گئيں تو رسول اللہﷺ نے حضرت امّ حبيبہؓ کي رضامندي سے انہيں اپنے عقد ميں لينے کا ارادہ فرمايا۔تو اس سے بڑھ کر ان کيلئے خوشي کي خبر کياہوسکتي تھي۔پھر خود حضرت امّ حبيبہؓ سے زيادہ ان کے قيام حبشہ کے نجّي معاشي حالات کوکون سمجھ سکتا ہے؟ نجاشي کي خادمۂ خاص کے ذريعہ رسول اللہﷺ سے عقد کا پيغام موصول ہونے پر فطري ردّعمل کے طور پرانہوں نے جس خوشدلي سے رسول اللہﷺ سے عقد کو ايک نعمت ِ غير مترقبہ سمجھتے ہوئے قبول کيا اس کا کچھ اندازہ اس سے لگايا جا سکتا ہے کہ پہلے تواس خادمہ کو يہ خوشي کي خبر پہنچانے پر بے اختيار خوشي کي ڈھيروں دعائيں ديں۔پھر حالت مسافرت و غربت ميں اور کچھ توفيق نہ پاکر اپنا زيور ہي اتار کر بطور انعام دے ديا۔ اس سے حبشہ ميں حضرت امّ حبيبہؓ کي معاشي حالت کا بھي اندازہ ہوجاتا ہے۔آپؓ کي مالي حالت اس وقت کچھ بہتر ہوئي جب نجاشي کي طرف سے آپؓ کو حق مہر کي ادائيگي ہوگئي تبھي تو انہوں نے بادشاہ کي خادمۂ خاص ابرہہ کو يہ کہہ کر دوبارہ مزيد انعام دينا چاہا کہ پہلي دفعہ يہ خوشخبري پہنچانے کے وقت انہيں کچھ زيادہ انعام دينے کي مالي استطاعت نہ تھي جس کي تلافي وہ اب مزيد پچاس دينار کا انعام دے کرکرنا چاہتي تھيں۔ مگر بادشاہ چونکہ ان کي مالي حالت سے واقف تھا اس نے اس خادمہ کو حضرت امّ حبيبہؓ سے کچھ بھي لينے سےمنع کرديا تھا۔رسول اللہﷺ کي طرف سے پيغام ِشادي ملنے پر حضرت امّ حبيبہؓ کے خوشگوار ردّعمل سے مزيد اس حقيقت کي تائيد ہوتي ہے کہ حضرت امّ حبيبہؓ کا ارادہ حبشہ ٹھہرنے يا والد کي طرف لوٹ کر جانے کا نہيں تھا اسي لئےان کو اس رشتہ سے زندگي کي سب سے بڑي خوشي حاصل ہوئي جس کي اطلاع انہيں بذريعہ رؤيا پہلے سے کردي گئي تھي۔ الغرض حضرت امّ حبيبہؓ کے اپنے بيان کردہ حالات ہي مسٹر کينن کا اعتراض جڑ سے اکھيڑنے کے لئےکافي ہيں۔

آنحضرتﷺ کي اس شادي ميں اوربھي گہري حکمتيں تھيں،جو اپنے وقت پر ظاہر ہوئيں۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کي روايت ہے کہ سورہ ٔ ممتحنہ کي يہ آيت حضرت امّ حبيبہؓ سے رسول اللہﷺ کي شادي کے موقع پر اتري ہے۔

عَسَى اللّٰهُ أَنْ يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِينَ عَادَيْتُمْ مِنْهُمْ مَوَدَّةً وَاللَّهُ قَدِيرٌوَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ۔(الممتحنہ :8)يعني قريب ہے کہ اللہ تعاليٰ اے مسلمانو! تمہارے اور ان لوگوں کے درميان جو تمہارے دشمن ہيں

محبت پيدا کردے اور اللہ تعاليٰ اس پر قادر بھي ہے اور بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔

اگرچہ يہ آيت بہت وسيع تر معني اپنے اندر رکھتي ہے۔مگر اس موقع کي مناسبت سے ايک مفہوم صحابہ نے يہ بھي سمجھا کہ مشرکين کي مسلمان اولادوں کے ساتھ جو رشتے ناطے قائم ہورہے ہيں تو بعيد نہيں کہ اللہ تعاليٰ ان لوگوں کے دلوں ميں بھي اسلام کي محبت پيدا کردے اور وہ رفتہ رفتہ اسلام کے قريب آجائيں۔ ايک بڑا مقصد حضرت امّ حبيبہؓ سے رشتہ کرنے کايہي تھا، مکہ کا بڑا سردار ابوجہل تو بدر ميں ماراگياتھا، جس کے بعد اس کا بيٹا عکرمہ سردار بنا اور مشرکين کےدوسرے بڑے ليڈر کے طور پرابوسفيان سامنے آئے جو تمام اسلامي جنگوں ميں لشکرکفار کي کمان کرتے ہوئےمسلمانوں کے مدّمقابل آتے رہے۔بعد کے زمانہ ميں واقعتہ ًاس مودّت کے آثار نظر آتے ہيں جن کا آيت مذکورہ ميں ذکر تھا۔مثلاً کفار مکہ نے جب حديبيہ کا معاہدہ توڑا تو اس کي تجديد کروانے کے لئے مدينہ آنے والےابو سفيان ہي تھے جن کو اپنے رشتہ مصاہرت کے باعث ہي يہ جرأت ہوئي کہ وہ حالت جنگ ميں امن کے ساتھ حضورﷺ کے پاس مدينہ ميں آکر بات کريں کہ اس معاہدہ کي توثيق کي جائے۔بعد ميں بالآخراسي تعلق کے نتيجہ ميں فتح مکہ کے موقع پر ابوسفيان نے اسلام قبول کرليا۔انھوں نے سردارانہ رنگ ميں کسي اعزاز کے لئے بھي درخواست کي۔چنانچہ آنحضورﷺ نے ان کي دلداري کرتے ہوئے اس موقع پر يہ اعلان بھي کروايا کہ جو ابوسفيان اور اس کے گھر ميں داخل ہو جائے گا اسے امان دي جائے گي۔ يہي وجہ تھي کہ ابوسفيان اور اس کے گروہ کي طرف سے فتح مکہ کے موقع پر کوئي مزاحمت نہيں کي گئي۔ اس ميں بھي رسول اللہﷺکے ساتھ ان کےرشتہ مصاہرت کوبھي ايک اہم دخل تھا۔

بعض ديگر اقوام کي طرح اہل مصر ميں بھي قديم سے يہ دستور تھا کہ وہ شاہان مملکت يا واليان ِ رياست اور معزّز مہمانوں سے پختہ تعلّقات استوار کرنےکي خاطر اپنے خاندان کي معزّز لڑکيوں کا رشتہ پيش کر ديتے تھے۔جيسا کہ بائبل کے مطابق فرعون ِ مصر نے اپني بيٹي حضرت سليمان ؑ کو پيش کردي تھي جس کے نتيجہ ميں مصر بني اسرائيل کے حملہ سے محفوظ ہوگيا۔

صحيح مسلم کي ايک روايت کي وضاحت

حضرت ام حبيبہؓ کي شادي کے بارہ ميں صحيح مسلم کي ايک روايت اپنے ظاہري معنوں کے لحاظ سے محلِّ نظر ہے جس سے يہ تأثر ابھرتا ہے کہ امّ حبيبہؓ کي شادي ابو سفيان کے اسلام لانے کے بعد ہوئي، جو تاريخي لحاظ سے قطعاً درست نہيں۔تاہم حضرت مسيح موعودؑ نے فرمايا ہے کہ”حديث کي بڑي تعظيم کرني چاہئے کيونکہ يہ آنحضرتﷺ کي طرف منسوب ہے۔”اور کسي تاريخي اختلاف وغيرہ کي صورت ميں حديث کو ردّ کرنے کي بجائے اسے قبول کرنے کيلئے آپؑ کا فرمان ہے کہ “اس کي تاويل کرني پڑے گي۔‘‘

بہرحال اس روايت کو بغير تاويل کے قبول نہيں کيا جا سکتا۔کيونکہ بظاہر اس ميں ايک تاريخي اختلاف پايا جاتا ہے۔وہ روايت يہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد مسلمان ابوسفيان کي طرف بہت التفات نہيں کرتے تھے۔ ان کي مجلس ميں بہت زيادہ اٹھنا بيٹھنا بھي نہيں تھا۔شايد اس بات کو محسوس کرتے ہوئے ابوسفيان نے مسلم کي روايت کے مطابق يہ عرض کياکہ يا رسول اللہﷺ!ميري تين گزارشات قبول فرمائيں۔آپؐ نے ان کي تاليف قلبي کي خاطر فرماياکہ ٹھيک ہے۔تو انہوں نے عرض کيا۔ ايک تو يہ کہ اپني حسين وجميل بيٹي ام حبيبہ کي خودآپؐ سےشادي کرتا ہوں (يعني اب رضامندي ديتاہوں)۔حضورﷺ نے ان کادل رکھتے ہوئے فرمايا”اچھا”توانہوں نے کہا۔دوسري يہ درخواست ہےآپؐ ميرے بيٹے معاويہ کو اپنے پاس کاتب(سيکرٹري) رکھ ليں۔ آپؐ نے اس کا جواب بھي اثبات ميں ديا۔ تيسري درخواست انہوں نے يہ کي کہ مجھے اپنے کسي لشکر کا امير مقرر کرديں جيسے ميں کفر کي حالت ميں اسلام سے لڑتا رہا  اب ميں آپؐ کي نمائندگي ميں مسلمانوں کي طرف سے کفار کے ساتھ جنگ کروں گا۔آپؐ نے فرمايا “اچھا‘‘۔

مسلم کي اس روايت کے ايک راوي ابوزميلؓ کہتے ہيں کہ اگر ابوسفيان خود نبي کريمﷺ سے يہ سوال نہ کرتے تو شايد آپؐ از خود ان باتوں کي ضرورت نہ سمجھتے مگر آپؐ کے اخلاقِ کريمہ ميں يہ بات تھي کہ کوئي چيز بھي آپؐ سے مانگي جاتي تو آپؐ ہاں ميں ہي جواب فرماتے تھے۔

اس روايت کے بارہ ميں بعض اہل علم نے بجاطور پريہ سوال اٹھايا ہے کہ فتح مکہ کے بعد ابوسفيان کا رسول اللہﷺ کو يہ کہنا کيسے درست ہو سکتا ہے کہ ميں اپني بيٹي ام حبيبہ آپ کو بياہ دوں حالانکہ اس سے ڈيڑھ سال پہلے ان کا نکاح حبشہ ميں ہوچکا تھا۔

شارح مسلم علامہ نووي نے اسکي ايک وضاحت يوں کي ہے کہ دراصل حبشہ ميں امّ حبيبہؓ کے نکاح کے وقت ابوسفيان کي ولايت اور رضا انہيں ميسّر نہ تھي۔فتح مکہ کے بعد ابو سفيان کے اس اظہار کا مطلب محض يہ تھاکہ لوگوں کو علم ہو کہ ميں نےخوشي سے اپني بيٹي حضورﷺ کي زوجيت ميں دے دي ہے۔اور حضورﷺ کے ساتھ يہ رشتہ مصاہرت نماياں اور واضح ہو جائے۔ يہ تاويل بہرحال کمزور ہے۔اس کے مقابل پر دوسري تاويل نسبتاً معقول ہے جوعلامہ ابن کثير نے يہ کي ہے کہ دراصل ابوسفيان نے ام حبيبہؓ کے دوبارہ بياہ کر دينے کا ذکر نہيں کيا تھابلکہ فتح مکہ کے بعد آنحضرتﷺجب بادشاہ بن گئے تو ابوسفيان نے اپني دوسري بيٹي عزّہ کو بھي آپؐ کےعقد ميں دينے کي پيشکش کي تھي۔ اس بات کي تائيدان احاديث سے بھي ہوتي ہے جن ميں يہ ذکر ہے کہ حضرت ام حبيبہؓ نے حضورﷺ سے ذکر کيا تھاکہ يا رسول اللہﷺ! ميں چاہتي ہوں کہ آپ ميري بہن عزّہ کو اپنے عقد ميں لے ليں (ممکن ہےيہ درخواست اپنے والد کي خواہش کے پيش نظرہو)۔حضورﷺ نے فرمايا کہ کيا تم پسندکرو گي کہ تمہاري بہن تمہاري سوکن بن کر آجائے۔حضرت امّ حبيبہؓ نے جواب ديا کہ اور بھي تو سوکنيں ہيں۔اگر ميري بہن اس سعادت ميں ميرے ساتھ شريک ہوتي ہے تو مجھے کيا اعتراض ہوسکتا ہے۔ حضورﷺ نے فرماياکہ يہ جائز نہيں۔ اسلام ميں دو بہنوں کو بيک وقت ايک مرد کے نکاح ميں اکٹھا کرنا منع ہے۔ اس طرح حضورﷺ نے اس رشتہ سے معذرت کرلي تھي۔

(بحوالہ اہل بيت رسولﷺ از حافظ مظفر احمد صاحب)

(باقي انشاء اللہ آئندہ شمارہ ميں)