//البم بھی کیا چیز ہوتی ہیں

البم بھی کیا چیز ہوتی ہیں

تحریر: قرةالعین فاروق حیدرآباد

پریسہ اپنی نانی کے کمرے میں داخل ہوئی تو نانی کو الماری میں کچھ کرتے دیکھا وہ تجسس سے نانی کو دیکھنے لگی نانی نے البم الماری سے نکالا، البم کھولتے ہی نانی تصویریں دیکھ کر ماضی میں کہیں کھو سی گئیں پریسہ پاس کھڑی ان کے چہرے کے بدلتے تاثرات کو غور غور سے دیکھنے لگی پل میں ہنسنا اور پل بھر میں تصویریں دیکھ کر آنکھوں کا بھر آنا آہ یہ البم بھی کیا چیز ہوتے ہیں اچھے اچھوں کو پل بھر میں ہنسا دیتے ہیں تو کسی کو پل بھر میں رلا، کسی تصویر کو دیکھ کر ہنسی و قہقہے بند نہیں ہوتے تو کچھ تصاویر اپنے اندر ایک کہانی لئے ہوئے ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر لوگ جذبات قابو میں نہیں رکھ پاتے.

تصویریں لوگوں کو ان کے ماضی میں لے جاتی ہیں اس ماضی میں جس میں سے کچھ نے نکلنے کی کوشش کی ہوتی ہے تو کچھ کا اپنے ماضی میں ہی رہنے کا دل چاہتا ہے جہاں ان کے اپنے تھے، اپنائیت تھی، خلوص تھا، ان کا بچپن و جوانی تھی، کچے صحن میں پکے اور مضبوط خاندانی نظام تھے، جس میں سب بیٹھ کر مسئلے حل کرتے تھے اکثر لوگ جو اپنے ماضی سے باہر آنے کی کوشش نہیں کرتے ان کا دل چاہتا ہے کہ وہ ان تصویروں میں موجود لوگوں سے پھر سے مل سکیں جو اب اس دنیا میں نہیں رہے. ایک وہ دور تھا جب کیمرے میں ایک دفعہ جو تصویر کھینچ گئی تو جب کیمرے کی ریل دھل کر آتی تب ہی تصویریں دیکھی جاتیں لوگ بار بار البم کھول کر تصویریں دیکھتے تصویریں دیکھ کر ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے، اس دور میں لوگ اکثر اپنی بلیک اینڈ وائٹ تصویروں کو خود سے رنگ کرتے اور ایک آج کل کا دور ہے لوگ رنگین تصویروں کو بلیک اینڈ وائٹ بنا دیتے ہیں، لوگ موبائل فون سے تصویریں کھینچ کر اس میں طرح طرح کی تبدیلی خود سے کر دیتے ہیں کسی کے منہ کے دانے غائب کر دیئے تو کسی کے آنکھوں کے نیچے کے حلقے، چہرہ پتلا موٹا وغیرہ وغیرہ کر کے اچھی بھلی تصویر کو جعلی بنا دیتے ہیں جب بندے کو سامنے سے دیکھو تو کچھ اور تصویر میں دیکھو تو کچھ اور جو تصویر پسند نہ آئے تو اسی وقت تصویر کو ڈیلیٹ کر دیا.

ہم پچھلے دور میں جا نہیں سکتے اور نہ ہی اپنے پیاروں کو ان البم سے نکال کر لا سکتے ہیں اور نہ ہی ان یادوں کو، ان باتوں کو، ان ہنسی قہقہوں کو، ان رشتوں کو، ان رسموں کو مگر آج کل کی بناوٹی زندگی کو ذرا سا حقیقت سے قریب تر تو بنا سکتے ہیں اپنے اندر سادگی، اپنائیت، جھوٹ، فریب، دکھاوا اور ایک دوسرے کی نقل کرنے سے دور تو رکھ سکتے ہیں، اگر موبائل-فون خراب ہوجائے تو ایسے میں البم ہی اچھے ہوتے ہیں کہ جب دل کیا نکال کر تصویریں دیکھ لیں.

البم میں تصویریں دیکھ کر لوگ کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں ان لوگوں کا لمس یاد کرتے ہیں کہ جن لوگوں کے ساتھ انہوں نے اپنا ایک قیمتی وقت گذارا ہوتا ہے ان لوگوں کی آواز، انداز، باتیں سبھی یاد آتیں ہیں اور جب…….. جب ایک البم کھلتا ہے تو اپنے ساتھ بہت سی تلخ و شیریں یادیں کھول دیتا ہے.