//افسر شاہی میں اصلاحات کی ضرورت

افسر شاہی میں اصلاحات کی ضرورت

تحریر: راضیہ سید

بچپن میں جب بھی ہم بہن بھائیوں یا کزنز میں کھیل کود کی کوئی بات ہوتی تو شمع ہمیشہ افسر بننے کو ہی ترجیح دیتی، وہ اپنی پرانی درسی کتب اور استعمال شدہ کاپیوں پر دستخط کرتی رہتی۔ ہم میں سے جب کوئی بھی اس سے پوچھتا کہ وہ کیوں افسر بننا چاہتی ہے تو وہ بڑے آرام سے اپنی من مانی کرتی اورسب بچوں پر حکم چلاتی رہتی تھی۔ راشد، مدثر، سدرہ، اقرا اور دیگر تمام بچے سب ہی بلا چوں و چراں اس کا حکم مانتے رہتے تھے۔

اس پس منظر کے سبب بچپن سے ہی میرے دل میں نہ صرف افسر شاہی سے نفرت پیدا ہو گئی بلکہ شمع سے بھی بیزاری ہو چلی تھی، یہی وجہ تھی کہ گریجوایشن مکمل کرنے کے بعد سی ایس ایس کا امتحان نہ دینے پر مجھے نہ صرف گھر میں کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا بلکہ پورے خاندان والوں کی باتیں بھی سننا پڑی تھیں۔ شاید ہم سب ہی زندگی میں یہی سوچنے لگے ہیں کہ مستقبل آسان کرنے کا یہ سب سے اچھا طریقہ ہے کہ ایک مرتبہ محنت کر کے سرکاری افسر ہی بن جایا جائے۔

لیکن درست معنوں میں اگر پوچھا جائے تو افسر بننے کا شوق اس طرح سے ہماری نوجوان نسل میں بھر دیا گیا ہے کہ وہ چاہیں بھی تو اس خواب سے نجات حاصل نہیں کر سکتے۔ انہیں یہی بتا یا گیا ہے کہ صرف سرکاری نوکریوں میں انسان کا محفوظ مستقبل ہے اور کسی اور شعبے میں کام کرنے کا کوئی مزہ نہیں ہے نہ ہی کوئی سکوپ ہے۔

کیا معاشرے کے اچھے اذہان صرف سی ایس پی آفیسرز کے ہیں یا کوئی مصور، لکھاری، صحافی اور معلم بھی ایک اچھا فرد ثابت ہو سکتا ہے ؟ بس آپ فر فر انگریزی بولتے ہوں، آپ کے پاس اکیڈمیز کی فیسیں بھرنے کے لئے ڈھیر سارا روپیہ ہو اور پھر آپ کوئی بھی مقابلے کا امتحان دینے کے لئے تیار ہو جائیں۔

شومئی قسمت آپ تحریر:ی امتحان پاس کربھی لیں تو انٹرویو کی سردردی بھگتنا پڑے گی۔ انتہائی معذرت کے ساتھ مقابلے کے لئے تحریر:ی امتحانات تو کسی حد تک شفاف ہوتے ہیں لیکن سی ایس ایس کے سوا باقی امتحانات میں انٹرویو میں کہیں نہ کہیں ہیر پھیر ہوتا ہے۔

پھر ایک ایسی لاٹ سامنے آتی ہے کہ جنہیں ایک مہینہ اکیڈمی میں تہذیب سکھانے سے تہذیب ہر گز نہیں آتی۔ یہی بیوروکریٹ جب ہماری گھسی پٹی روایتی بیوروکریسی کا حصہ بنتے ہیں تو پہلے سے موجود افسران انھیں اپنے قدم جمانے نہیں دیتے۔

نتیجۃً مک مکا کی صورت میں بیوروکریسی اپنی من مانی کرتی ہے، ایک کہاوت ہے کہ بیوروکریسی ایک منہ زور گھوڑا ہے اگر اسے لگام نہ دی جائے تو وہ قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔ نئے افسران جو ایمانداری سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہتے ہیں انھیں یا تو سائیڈ لائن کر دیا جاتا ہے یا پھر‘‘ ٹارگٹ کلنگ‘‘ ان کا مقدر ہوتی ہے۔

دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ بیوروکریسی اکثر اوقات سیاستدانوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہوتی ہے۔ پڑھے لکھے اذہان بی اے پاس افراد کے اشاروں کے منتظر ہوتے ہیں اور ہر سیاہ کو سفید کیا جا رہا ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں اچھے اور قابل افسران کی کمی نہیں ہے لیکن سوال صرف اتنا ہے کہ کیا صرف اعلی سرکاری ملازمین ہی ملک کا فخر ہیں؟ کیا غریب کسان کا بیٹا، ایک پرائمری ٹیچر، ایک مصور، ایک ادیب یا ایک معمار ہونا کیا کوئی عیب ہے؟ اور کیا ان کی وجہ سے قوم کی کوئی عزت نہیں؟

اگر صرف اعلیٰ سرکاری افسران کو ہی عزت دینی ہے تو پھر یہ ماننا ہوگا کہ ہم نے صرف ایک مخصوص ذہنیت کو ہی پروان چڑھایا ہے۔ ایک خاص طبقے کو ہی اہمیت دی ہے اور ہم بھی بھیڑ چال کا ہی شکار ہو رہے ہیں۔ ہم ایک ہی ڈگر پر سوچ رہے ہیں اور تخلیقی اذہان کو ضائع کر رہے ہیں۔ کیا ہمارے ملک کو صرف ایک نہج پر ہی سوچنے کی ضرورت ہے یا پھرمختلف انداز سے سوچنے والے ایسے تخلیق کاروں کی بھی ضرورت ہے جو ملک میں حقیقی تبدیلی لانے کا موجب بن سکیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ افسر شاہی میں اصلاحات کے ذریعے ایسی تبدیلیاں لائی جائیں کہ بیوروکریسی حکمرانی کا طرز عمل چھوڑ کر عوام کی خدمت کار بنے، بیوروکریٹ کیلئے فخر کی بات افسر ہونا نہیں، بلکہ عوام کی بہتری کیلئے کردار ادا کرنا معیار ہے۔ انگریز دور کے لاٹ صاحب کی سطحی سوچ اب ختم ہونی چاہیے۔قائداعظم محمد علی جناح ؒنے قیام پاکستان کے بعد بیورو کریسی کے بدنام زمانہ طرز عمل کو بدلنے کیلئے تین اصول ترتیب دیئے 1 – افسران کو لوگوں کا خدمت گزار سمجھتے ہوئے بے لوث خدمت کو اپنا نصیب العین بنانا ہوگا، 2 – لوگوں سے معاملات کرتے وقت منصفانہ اور غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنا ہو گا، 3 – بیوروکریٹس کو کسی حالت میں سیاسی دباؤ میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ اس سے رشوت، اقربا پروری اور سفارش جنم لیتی ہے۔