//اردو محاورات کا تہذیبی مطالعہ

اردو محاورات کا تہذیبی مطالعہ

تحریر ڈاکٹر عشرت جہاں ہاشمی

(۱) فاتحہ پڑھنا:جب کسي مرے ہوئے شخص کو ياد کيا جاتا ہے تو دُعا کے ساتھ يا د کيا جاتا ہے۔ ’’الحمد‘‘ جو سورہ فاتحہ کہلاتي ہے اور چاروں قل پڑھ کر مرنے والے کي رُوح کو ثواب پہنچايا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں فاتحہ دينے کا بھي رواج ہے اور ايسے موقع پر بعض عزيزوں کو بُلايا بھي جاتا ہے۔ اور فاتحہ کا کھانا پکتا ہے غريبوں ميں تقسيم کيا جاتا ہے۔ ليکن سماج ميں اس کا ايک دوسرا تصور بھي ابھر آيا اور وہ ہے اظہارِ بے تعلقي کرنا اور ايک طرح سے لَعنت بھيجنا کہ اس پر فاتحہ پڑھ لو يعني اس ذکر کو ختم کر لو اس سے ہم سمجھ سکتے ہيں کہ مقدس معني کس طرح سماجي رو يہ کے ساتھ غير متبرک معني ميں بدل جاتے ہيں صلواة بھي اسي کي ايک مثال ہے کہ اس کے معني درُود و سلام کے ہيں ليکن ہمارے اپنے محاورے ميں لعنت و ملامت کے ہو گئے ہيں۔

(۲) فاختہ اُڑانا:فاختہ ايک پرندہ ہے جو آباديوں ميں رہتا ہے ليکن پالا نہيں جاتا آدمي اس سے بہت کم مانوس ہوتا ہے ہمارے ہاں کبوتر پالے بھي جاتے ہيں اور اُڑائے بھي جاتے ہيں شہروں قصبوں ميں کبوتر اُڑانے کا رواج عام ہے۔ فاختہ کوئي نہيں اڑاتا مگر خليل خاں ايک فرضي کردار ہے جو حماقت کي باتيں کرتے ہيں اور حماقت کي باتوں ميں ايک يہ بھي ہے کہ وہ فاختہ اڑاتے ہيں اس طرح سے فاختہ اُڑانا بے وقوفي کا عمل ہے اور محاورے ميں اسي کي طرف اشارہ ہوتا ہے ہم کہہ سکتے ہيں کہ اس طرح کے محاورے خاص حاص کرداروں کے نمائندہ ہوتے ہيں۔

(۳) فارسي کي ٹانگ توڑنا:زبان کے معاملہ ميں شہري آبادي کا ايک خاص رو يہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے محاورے اور روزمرہ پر زور ديتے ہيں اور دوسروں کي بولي کو ٹکسال باہر قرار ديتے ہيں۔ مير تقي ميرؔ نے ايک موقع پر کہا تھا کہ ميرؔ کے کلام کے لئے جامع مسجد کي سيڑھياں ہيں يا محاورۂ اہلِ دہلي ہے۔

انشاؔء اللہ خاں نے دہلي کے کچھ خاص محلے کي زبان کو مستند قرار ديا ہے اس سے زبان کے معاملہ ميں اہلِ دہلي کي رائے اور ترجيحات کا پتہ چلتا ہے فارسي والے بھي ايسا ہي سوچتے تھے اور خاص طور پر ہم اردُو والوں ميں غالبؔ کو يہ ديکھتے ہيں کہ وہ ہندوستان کے فارسي والوں کو بُرا سمجھتے ہيں اور اہلِ زبان کے مقابلے ميں بہت کم تر درجہ ديتے ہيں يہي وہ ماحول ہے جب عام فارسي جاننے والوں کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ فارسي کي ٹانگ توڑتے ہيں۔

(۴) فارغ خطي لکھوانا:اِس کو عام لوگ اپنے لب و لہجہ ميں فارخطي بھي کہتے ہيں اور يہ ايسي دستاويز ي تحرير کو کہا جاتا ہے جس کے ذريعہ کسي کو آزاد کر ديا جاتا ہے۔ وہ چاہے قرض کي ادائيگي سے متعلق ہويا نکاح و شادي بياہ کے بارے ميں۔ اِس سے مُراد يہ ہوتي ہے کہ اُس کي ذمہ داري اب کوئي نہيں رہي ہے اِسي کو فارغ خطي لکھنا کہتے ہيں۔

(۵) فاقہ مستي ہونا:ہندوستان ميں غربت و افلاس بہت ہے مغلوں کے آخري دور ميں يہ صورتِ حال اور بھي زيادہ تکليف دہ اور پريشان کُن رہي ہے اکثر خاندانوں ميں فاقہ ہوتے تھے اور لوگ انہي کے عادي ہو جاتے تھے اور اسي حالت کو فاقہ مستي کہا جاتا ہے۔ ايک سطح پر عيشِ امروز سے تعبير کيا جاتا ہے۔

(۶) فردِ باطل ہونا، يا فرد باطِل قرار ديا جاتا:’’فرد‘‘ دستاويزي تحرير کو بھي کہا جا تا ہے اس ميں صلح نامہ کي شرطيں بھي ہو سکتي ہيں اور کوئي ضروري حساب کتاب بھي اب يہ ظاہر ہے کہ معاشرے ميں جو بدديانتي موجود ہے اُس کے باعث يہ بھي ممکن ہے کہ کوئي جعلي دستاويز تيار کر لي جائے يا کسي صحيح تحرير کو فرد باطل قرار ديا جائے يعني جھوٹي دستاويز۔

(۷)فرزندِ نا خلف: ہمارے خاندانوں ميں ماں با پ يا باپ دادا کي وِراثت کے حق دار بيٹے ہوتے ہيں لڑکياں اپنا حصہ لے سکتي ہيں ليکن ايسا بھي دشوار ہو رہا ہے کہ وہ معاف کر ديتي ہيں شادي بياہ يا دوسرے خوشي کے موقعوں اپنا حق يا نيگ وصول کرتي ہيں جب کہ اصولي طور پر يہ حق اپني جگہ پر قائم ہوتا اور نيگ کي حيثيت اخلاقي اور رسماً ہوتي ہے شرعي نہيں۔

(۸)فرشتے خاں: سماج کا ايک خاص کردار کوئي ايسا شخص بھي ہو سکتا ہے جواپنے آپ کو دوسروں کے مقابلہ ميں زيادہ بڑي چيز رکھتا ہے يہ بھي ہو سکتا ہے کہ اللہ واسطے ميں لوگ اپنے کئي رشتے دار عزيز يا پڑوسي کو اس طرح کا کردار ثابت کرانا چاہتے ہيں کہ وہ تو اپنے آپ کو بہت فرشتہ خاں سمجھتا ہے يہ کردار يا اِس طرح کي مصنوعي کردار کے ايک خاص سطح پر نفسياتي رو يہ کي نشاندہي کرتي ہے۔

(۹)فرشتے دکھائي دينا: ويسے تو فرشتہ استعارے کے طور پر ايک نيک اور بھلے آدمي کو کہتے ہيں يہ بھي ہو سکتا ہے کہ کوئي آدمي اپنے سادہ پن کي وجہ سے کسي بڑے آدمي کے بارے ميں اچھا خيال رکھتا ہو تو طنز کے طور پر يہ بھي کہا جا سکتا ہے کہ آ پ کو تو سب ہي فرشتے دکھائي ديتے ہيں۔

ہمارے ہاں اِس طرح کے خيالات بھي رائج رہے ہيں کہ موت سے پہلے فرشتے دکھائي ديتے ہيں يا قرباني کے جانور کو فرشتے چھُرياں دکھاتے رہتے ہيں اِس طرح کے خيالات اور توہمات ہماري سماجي زندگي ميں موقع بہ موقع کا ر فرما نظر آتے ہيں۔

(۱۰)فرشتے کے پر جلنا: فرشتہ ايک غيبي مخلوق ہے ہم بہت سي ايسي مخلوقات کے قائل ہيں جن کا خارج ميں کوئي وجود نہيں وہ غيبي قوتوں کي علامتيں ہيں جن کو ہم نے ايک وجود کے ساتھ مانا ہے اُن ميں ديوي ديوتا بھي ہيں اور فرشتے بھي مسلمان يہود اور عيسائي قوميں چار ايسے فرشتوں کي قائل ہيں جو خُدا کے بہت مُقرب فرشتے ہيں اُن ميں جبريلؑ ہيں جبريلؑ خدا کا پيغام لے کر انبياء اور رسولؐ کے پاس آتے ہيں۔ ’’ميکائيل رزق پہنچانے والا فرشتہ ہے ‘‘عزرائيل موت کا فرشتہ ہے اور اسرافيل قيامت کا۔ ہم فرشتوں کا بہت احترام کرتے ہيں۔ اور حضرت کہہ اُن کو ياد کرتے ہيں۔

عرب جو فرشتوں کا تصور رکھتے ہيں اس ميں پربھي لگے ہوتے ہيں يعني وہ پرندوں کي طرح ’’پروں ‘‘کے ساتھ اُڑ سکتے ہيں يہاں سے وہاں جا سکتے ہيں اسي لئے فرشتے اُن کے نزديک بازوؤں والے ہيں۔

ہندوستان ميں ديوي ديوتاؤں کے ’’پر‘‘ نہيں ہيں اسي لئے فرشتوں کے پر گننا شايد يہاں کا محاورہ بھي نہيں۔ بعد اس کے يہ کہ فلاں آدمي تو اتنا عقلمند اور غير معمولي طور پر لائق ہے کہ جو فرشتے کسي کو نظر نہيں آتے يہ اُن کے ’پر‘ گِن ليتا ہے يہ نظر داري اور خبرداري کي بہت ہي غير معمولي صُورت ہے مگر اس ميں اظہار طنز کے طور پرکيا جاتا ہے۔

فرشتے کے ’’پر‘‘ کا تصور کرتے ہوئے ايک دو محاورہ اور بھي ہيں مثلاً وہاں فرشتہ پر نہيں مار سکتا يعني اتني پردہ داري يا پابندي اور پہرہ داري ہے کہ فرشتہ بھي وہاں نہيں پہنچ سکتے۔ اسي سے ملتا جلتا يہ محاورہ بھي ہے کہ وہاں جانے ميں تو فرشتوں کے پر جلتے ہيں اور غالباً اس محاورہ کي بنياد يہ خيال ہے جو فارسي کے ايک شعر ميں آيا ہے کہ معراج کي شب ميں جبرائيلؑ حضور اکرمؐ کے ساتھ تھے اور سدرة المنتہيٰ تک ساتھ رہے ليکن يہاں پہنچ کر انہوں نے اپنا ساتھ اس لئے نہيں ديا کہ اس سے آگے جانا ان کے لئے سوئے ادب تھا۔

 اگر يکسرے مُوئے برتر پَرم

فروغ تجلي بسوزد پرم

اگرميں ايک سرِمُو بھي اور آگے بڑھوں تو تجليات کا فروغ ميرے پاؤں کو جلا دے گا

يہاں صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ بعض محاورے اپني بنيادي فکر کے اعتبار سے ہندوستان سے باہر کي تہذيبي فضاء اور عقائد و اعمال سے نسبت رکھتے ہيں کہ جس طرح اُردُو زبان ميں الفاظ اور تصورات ميں بين ايشيائي عناصر کو جمع کيا ہے اسي طرح اُن کا عکس محاورات ميں بھي آتا ہے۔

نيزيہ کہ محاورہ تجربہ سے بھي پيدا ہوتا ہے ہمارے سماجي شعور سے اور تہذيبي روايتوں سے بھي اور جس طرح شعر لطيفے اور فنونِ لطيفہ کے مختلف نمونے ہيں جو ہميں تاريخ کے مختلف مرحلوں سلسلوں اور جہتوں سے واقف کرتے ہيں۔

(۱۱) فر ش سے عرش تک: يہ فارسي ترکيب ہے اور ايک طرح کے محاوراتي معني رکھتي ہے فرش زمين اور عرش آسمان درميان ميں وہ تمام مادي دنيا يا مختلف عناصر سے متعلق وہ ماحول جو خلاء ميں موجود ہے۔ ايسي صورت ميں جب يہ کہا جاتا ہے کہ فرش سے عرش تک کہ تمام اَسرار منکشف ہو گئے تو اُس سے يہ مراد ہوتي ہے کہ اِس دنيا ميں افق سے تابہ افق جو چکھ ہے و ہ ايک بھيد بھري دنيا ہے۔ اور وہ سب بھيد منکشف ہو گئے ہيں اکثر صوفياء کے ذکر ميں اِس صورت حال کي طرف اشارہ کيا جاتا ہے ويسے يہ کوئي محاورہ نہيں ہے بيان کا ايک خاص شاعرانہ اسلوب اور صوفيانہ طرزِ ادا ہے۔

(۱۲) فرشي حقّہ: يہ بھي محاورہ نہيں ہے بلکہ ايک اصطلاح ہے ايسے حقے کو فرشي حقہ کہتے ہيں جس کا وہ حصّہ جس ميں پاني بھرا رہتا ہے فرش پر ٹِکا رہتا ہے اِس کے مقابلہ ميں پيچواں ايک دوسري طرح کا حقہ ہوتا ہے جس کي نالي بہت لمبي ہوتي ہے اور پيچ در پيچ رہتي ہے اس کو فرش سے اُٹھا کر محفل ميں اِدھر اُدھر گھمايا بھي جا سکتا ہے۔ يہي صورت فرشي سلام کي بھي ہے کہ بہت جھک کريا زمين کو چھُو کر جو سلام پيش کيا جاتا ہے اُسے فرشي سلام کہتے ہيں يہ بھي محاورے کے بجائے ايک اصطلاح ہے۔ معاشرتي اور تہذيبي اِصطلاح ہے۔

(۱۳) فرعونِ بے سمان: مسلمانوں ميں بعض ايسے کرداروں کا بھي روايتي طور پر بطورِ محاورہ يا کسي شعر ميں بطورِ تلميح استعمال ہوتا رہتا ہے اُن ميں سے افلاطون ايک کردار ہے جو اپنے زمانے کا بہت بڑا فلسفي طبيب اور ماہرِ اخلاقيات تھا يہ’’ ارسطو‘‘ کا اُستاد بھي تھا اسي لئے علمي کتابوں ميں اِس کا ذکر بطورِ فلسفي اور حکيم آتا ہے ايک اردو محاورے ميں جب يہ کہا جاتا ہے کہ وہ بڑا افلاطون بنا ہوا ہے يعني اپنے آپ کو بہت عقل مند سمجھتا ہے اور کسي کو خاطر ميں نہيں لاتا کسي کي بات نہيں مانتا يہي صورت ’’فرعون‘‘ کے ساتھ ہے۔

وہ مِصر کا بادشاہ تھا اور مِصر کے بادشاہ ہوں کو اُن کے لقب کے طور پر فرعون کہا جاتا تھا ہم فرعون کا ذکر حضرت موسي کے زمانے ميں جو فرعون تھا اُس کے حوالے سے کرتے ہيں اور يہ سمجھتے ہيں کہ وہ تو بہت بڑا بادشاہ تھا اس کے پاس ساز و سامان بہت تھا۔ لاؤ لشکر بہت تھا ليکن کچھ لوگ ايسے بھي ہوتے ہيں جو اپنے رو يہ ميں فرعونيت رکھتے ہيں بہت سفّاک بے باک اور بے رحم ہوتے ہيں يا خود پسند ہوتے ہيں وہ’’ فرعون‘‘ بے سامان کہلاتے ہيں يہ گويا تاريخي اور روايتي تصورات کے ساتھ اپنے سماجي کردار کو سمجھنے کي کوشش ہے اور اُس پر کمينٹ ہے۔

(۱۴) فرنٹ ہو جانا: فرنٹ انگريزي لفظ ہے اور اُس کے معني ہيں سامنے ہونا، اسي لئے جب فوج اپنے مقابل سے لڑتي ہے تو اُسے فرنٹ پر دشمن کا مقابلہ کرنا کہا جاتا ہے۔

اُردُو ميں محاورہ کے طور پر يہ لفظ آيا تو اُس کے معني دوسرے ہو گئے يعني وہ مخالف ہو گيا اور ہمارا ساتھ چھوڑ کر بھاگ گيا ويسے فرنٹ کا لفظ قصباتي يا ديہاتي زبان ميں نہيں آتا ليکن محاورہ ميں شامل ہو کر يہ بہت سے ايسے گھروں ميں پہنچ گيا جو انگريزي سے بالکل ہي ناواقف ہيں اس سے ہم يہ نتيجہ بھي اخذ کر سکتے ہيں کہ لفظوں کو اپنانے پھيلانے اور محفوظ کرنے ميں محاورہ ايک خاص کردار ادا کرتا ہے۔