//اردو محاورات کا تہذیبی مطالعہ

اردو محاورات کا تہذیبی مطالعہ

تحریر ڈاکٹر عشرت جہاں ہاشمی

آخری قسط

(۱۵) فراٹے بھرنا: دوڑنے کا وہ خاص انداز ہے جو ہرِنوں کے دوڑنے سے تعلق رکھتا ہے اسی لئے جب کوئی جانور بہت تیز دوڑتا ہے تو اُسے فراٹے بھرنا کہتے ہیں۔ اب دوڑنا ایک محاوراتی لفظ خود بھی ہے۔ آدمی ایک معاملہ میں تیز دوڑتا ہے یعنی تیزی سے آگے بڑھتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ اُس کا ذہن تو ہرنوں کی طرح فراٹے بھرنے لگا۔ یہاں پھر ذہن اِس طرح منتقل ہوتا ہے کہ انسان اپنے مُشاہدے کو زندگی میں تجربے اور تجزیے سے گزارتا تھا تو اسے کبھی شعر میں لا تا تھا کبھی کہانی میں کبھی لطیفے کے طور پر اور کبھی اُسے محاورے میں لاتا تھا اور یہاں پہنچ کر اُس کا مشاہدہ ایک ذہنی رو یہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور سماجی حیثیت میں بدل دیتا ہے۔

(۱۶) فساد کی جڑ: ’’فساد‘‘ کے معنی اُردُو میں دنگا کرنا ہے اسی لئے ہم کہتے ہیں دنگا فساد کرنا فتنہ پھیلانا خواہ مخواہ جھگڑوں کا سلسلہ شروع کرنا۔ یہ گھریلو سطح پر ہو کنبے قبیلے کی سطح پر ہو یا پھر عالمی سطح پر قرآن میں فتنہ پھیلانے یا فساد کے اسباب پیدا کرنے کو قتل سے زیادہ شدید بات بتلایا ہے۔

عام طور پر سماج میں بدنظمی کھینچا تانی باہمی کشمکش یا ہنگامے پیدا کرنے کو فساد برپا کرنا کہا جاتا ہے اور جو بات جو لوگ اس کا سبب ہوتے ہیں انہیں یا اُس بات کو سبب قرار دیا جاتا ہے اس سے ہم معاشرے کے مزاج اُس کے عمل اور ردِ عمل یا پھر اصل سبب یا

بنیاد کو دریافت کرنے کی کوشش یا صلاحیت کا اظہار ہوتا ہے۔

(۱۷) فقرہ بازی کرنا فقرہ کہنا: بعض لوگ محفل نشینی کے باعث یونہی بے بنیاد بے تکی غیر سنجیدہ موقع بے موقع فقرے کسنے کی عادت ڈال لیتے ہیں اُسے فقرہ اڑانا بھی کہتے ہیں فقرے اُچھالنا بھی اور بعض موقعوں پر اس کی صورت فقرہ تراشی کی بھی ہو جاتی ہے فقرہ لگا نا بھی ایسے ہی موقعوں پر بولا جاتا ہے موقع و محل کے لحاظ سے تھوڑا فرق بھی ہو سکتا ہے لیکن سماجی رو یہ کے لحاظ سے اس کے مزاج و معیار اور مقصدیت میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔

(۱۸) فقیر کر دینا، فقیری لٹکا، فقیری نسخہ:فقیر کے معنی بہت غریب اور بھوکے ننگے آدمی کے بھی ہیں اور ایسے شخص کے بھی جس نے درویشی اختیار کر لی مگر زیادہ تر محاوروں میں فقیر کر دینا فقیر ہو جانا بے سہار اور پیسے ٹکے کے لحاظ سے بالکل خالی ہاتھ ہو جانا ہے۔

بھُوکے ننگے فقیر ایک ساتھ استعمال ہوتا ہے اب کسی شہزادے یا شہزادی یا بڑے آدمی کا اپنے آپ کو فقیر لکھنا عاجزی و انکساری ظاہر کرنے کے لئے ہوتا ہے اس محاورے کے دو رخ جن کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سماج زبان کا استعمال کن کن معنی اور پہلوؤں سے کرتا ہے۔ اور کس طرح سوچ کی سطح بدل جاتی ہے۔

فقیر کا لٹکا ایسے کسی شوق کو کہتے ہیں جو عام طور پر اُن فقیروں میں آ جاتا ہے جو دھُونی رمائے پیتے ہیں اور اِس طرح نشہ کرتے ہیں۔

(۱۹) فلک سیر ہونا، فلک بوس ہونا: آسمان پر چڑھنا، آسمان کی سیر کرنا، آسمانوں کو چھونا دراصل آسمان پر ہونا یہی سب محاورے فلک سے متعلق بھی ہیں مثلاً فلک بود میں پہاڑ یا عمارتیں فلک ایک کردار کے طور پر بھی اُردو شاعری میں آتا ہے آسمان کو بُرا کہا جا تا ہے دشمن قرار دیا جاتا ہے اسی طرح فلک کو بھی انسان کی عافیت کا دشمن کہا جاتا ہے۔

(۲۰) فنا فی اللہ ہونا: صوفیوں کی اصطلاح ہے اُردو میں ہی قریب قریب اسی معنی میں رائج ہے ’’فنا فی اللہ‘‘ یعنی اللہ کی مرضی اُس کی خواہش اور اُس کی محبت میں خودی کے تصور سے گزر جانا اور اُس مادّی دنیا اور اس کے علائق سے انکار کر دینا اور یہ کہنا کہ اللہ کے سوا یہاں کوئی موجود ہی نہیں ہے اور جب اس صورتِ حال کو پہنچ کرنا اس میں گم ہو کر آدمی حقیقت وجود کو تسلیم کرتا ہے تو وہ گویا اب بقایا اللہ کو جان رہا ہے یعنی اب میں اللہ کے تصوّر اور اُس کی حقیقتِ عالی کے افراد کے ساتھ جی رہا ہوں میرا اپنا کوئی وجود نہیں یہ محاورہ ایک طرح سے خانقاہی ماحول اور اہلِ خانقاہ کے فلسفیانہ رُوحانی تصورات کی ترجمانی ہے۔

(۲۱) فوجداری: قانون کی ایک اصطلاح ہے مقصد فوج رکھنا نہیں ہے جواس کے لفظی معنی ہیں بلکہ قانون کی نگاہ میں جُرم کرنا اور مجرمانہ کار روائیوں میں حصّہ لینا ہے مثلاً مار پیٹ قتل و غارت چوری ڈکیتی وغیرہ اس کو انگریزی میں Criminalکیس کہتے ہیں کہ فوجداری کیس بن گیا یا فوجداری کے سپرد کر دیا یا فوجداری میں چلا گیا اس کے مقابلہ میں جو کیس ہوتے ہیں اور مالیات سے متعلق ہوتے ہیں وہ دیوانی کے کیس کہلاتے ہیں اور کس کی نوعیت کے پیش نظر اُسے دیوانی یا فوجداری میں منتقل کیا جاتا رہے۔

(۲۲) فی نکالنا: یہ عجیب و غریب محاورہ ہے ’’فی ‘‘عربی کا لفظ ہے اور اُس کے معنی ہیں میں فنا فی اللہ میں فی اسی معنی میں ہے لیکن محاورے میں فی نکالنا اعتراض کرنے کو کہتے ہیں یا اختلاف رائے کی سی صورت کو پیدا کرنے کے معنی میں یہ محاورہ آتا ہے جیسے وہ تو ہر بات میں فی نکالتے ہیں۔

اس لفظ کی عربی اصلیت اور اُردو میں اِس کے مرادی یا محاوراتی معنی پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ لفظ کے ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل ہونے تک اُس کی ظاہر ہیئت اور معنوی توسیعات میں کتنی بڑی تبدیلیاں آ جاتی ہیں اور بات کہاں سے کہاں تک پہنچ جاتی ہے۔

(۲۳) فِٹ ہونا۔ (Fit): انگریزی کا لفظ ہے لیکن اُردو میں ایک سے زیادہ معنی میں استعمال ہوتا ہے فٹ ہونا اور فٹ کرنا اور فٹ نظر آنا اُس کی بہت نمایاں مثالیں ہیں۔