//ادھوری شخصیت

ادھوری شخصیت

۔ تحریر رفعت امان اللہ پاکستان

وہ بوجھل قدموں سے چلتا ہوا تھانے میں داخل ہوا اور ایک تحریر حولدار صاحب کے سامنے پڑی میز پر رکھ دی۔

’’یہ پڑھ لیجئے‘‘

اور خود ایک طرف کونے میں لگ کر بیٹھ گیا

حوالدار صاحب حیران تھےکہ ابھی کل شام ہی تو فلک شیرتین سال قید کاٹ کر باعزت رہا ہوکر ایک سرشاری کے عالم میں جیل سے گیا ہے، آخر ایسی کیا بات ہوگئی۔

حوالدار صاحب نے خط کھولا جو کافی ضخیم تھا اورپڑھنے لگے۔

’’آج میں آپ کےسامنے ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں‘‘

حوالدار صاحب اس لائن پر چونک گئے اور تجسس سے نظریں تحریر پر گاڑھ دیں۔

’’جناب میں یہاں تین سال قید رہا ہوں،…‘‘ اور رہائی کی یہ ایک رات میں نے انگاروں پر لوٹتے ہوئے گزاری ہے۔

آج جب میں قید سے رہائی کے بعداپنے گھر لوٹا تو جب میں نے دروازے پر پڑا قفل کھولنا چاہا،وہ زنگ آلود ہو چکا تھا۔ گلی میں پڑےپتھر کو میں نے زور سے دو تین بار اس پہ مارا تو وہ کھل گیا۔

گھر میں داخل ہوتے ہی میری نظر صحن میں لگے پودوں پر پڑی۔وہ سوکھ چکے تھے۔ پھول خشک ہو چکے تھے،گھاس کا تو نام و نشان نہیں تھا، ہر طرف خس وخاشاک کا راج تھا۔کچھ کیڑے مکوڑے ایک مردہ تتلی کو نوچ رہے تھے… مردہ تتلی کو دیکھ کر میرا دل گبھرا گیا۔مشکل سے حلق تر کیا۔اور فورا” لاونج میں آگیا۔

یہاں کا حال تو باہر سے بھی بدتر تھا، چھت سے جالے لٹک کر منہ کو آ رہے تھے، گردوغبار کی ایک دبیز تہہ ہر چیز پہ جم چکی تھی۔

ہاں کچھ بھی نہیں کر سکا وہ … نازنین کا بھائی…

 پیسے کے بل بوتے پر، تین سال جیل میں ہی بند کروا لیا ناں مجھے … ثابت تو کچھ نہیں کر سکا وہ…

ایک ہلکی سی مسکراہٹ میرے چہرے سے عیاں تھی…شاید جیت کی خوشی… یا دھوکہ دے کر جیتنے کی…

میں آج قید کے بعد رہائی کی خوشی سے شرشار تھا…

نازنین کا باپ بھی تو یہ ماننے کو تیار نہیں تھا … کہ یہ سب میرا کیا دھرا ہے اور وہ یہی کہتا رہا کہ میری بیٹی نازنین فلک شیر سےبہت پیار کرتی تھی… ہاہا پاگل بڈھا…

یہ سوچتے ہوئےجب میں نے لاؤنج کی چیزوں کا جائزہ لیا تو ہر چیز نے مجھے کھا جانے والی نظروں سے گھورا… مجھے محسوس ہوا کہ میرے آنے کی کسی کو کوئی خوشی ہی نہیں ہوئی۔ دیوار پر لگی تصاویر کو دیکھا تو وہ سب میرا منہ چڑھا رہی تھیں اتنی ذلت…، مجھے انکی سرگوشیاں سنائی دے رہی تھیں جیسے کہہ رہی ہوں دیکھو ایسے ہوتے ہیں وہ لوگ جو اپنے ہاتھوں سے اپنی دنیا اجاڑ دیتے ہیں،…پتھر ہو تم سنگدل انسان…

میں نے وہاں سے فرار ہونے میں ہی عافیت جانی… اور بھاگ کر اپنے بیڈ روم میں پناہ لی…

یہاں بھی ہر چیز پہ گرد و غبار جم چکا تھا… جب میں نے الماری کے دروازے کھولے تو نازنین کے کپڑے ہینگروں پہ لٹکے ہوئے تھے، جیسے کسی نے انکو پھانسی دے دی ہو…ایک طرف اسکے ڈوپٹے اور ساڑھیاں پڑی ہوئی تھیں…کتنے شوق سے بنوائے تھے اس نے یہ سب جوڑے…

اور اسکی ساڑھی کو میں نے چھوا تومیں اسکی یادوں کی رو میں بہتا ہی چلا گیا…کچھ دیر کیلئے تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ نازنین میرے روبرو کھڑی ہے…جی حوالدار سر!بالکل میرے سامنے…میں نے اسکے بدن کی خوشبو کو بھی محسوس کیا… میں نے اسکے ہاتھ اپنے ان ہاتھوں میں لیئے اور اس سے کہا!

اس ساڑھی میں تم بلا کی حسین لگ رہی تھی… یاد ہے نازنین…! تمہاری خالہ زاد بہن کی مہندی کی رات…جب تم نے یہ کالی ساڑھی پہنی تھی اور گلے میں نیکلئس… تم اسوقت ہلکے میک اپ میں آسمان سے اتری ہوئی کوئی پری معلوم ہو رہی تھی،اس رات وہ ہماری منگنی کے بعد پانچویں رات تھی…ہاں… ہاں پانچویں… تم مجھے ایسے لگی، جیسے نور کسی جسم میں منتقل ہو گیا ہے۔ ان برقی قمقموں کی چمک تمہارے آگے مانند تھی۔میری نظریں تمھارے حسن سے خیرہ ہو رہی تھیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ میں تو اس قابل بھی نہیں، پھر خدا نے مجھے یہ ہیرا کیونکر سونپ دیا۔ اس دن چودہویں کی رات تھی،کہتے ہیں کہ چودہویں کی رات کو چاند اپنی پوری کشش میں ہوتا ہے۔ میں کبھی تمہیں دیکھتا کبھی چاند کو…میرا دل چاہا کہ میں چاند بن جاؤں اور تمہیں زمین سے کھینچ کر اپنے پاس لے جاؤں … تاکہ تمہیں کوئی اور نہ دیکھ سکے…نازنین۔ !جب تم نے اپنی کزن سے اپنے ہاتھوں پہ مہندی لگوائی…تم نے اپنی ہتھیلی کے درمیان میں اپنے اور میرے نام کا پہلا حرف لکھوایا تھ تو تم اسکو دیکھ کر شرما رہی تھی… اور جب تم سب گیت گا رہی تھی… تمہارے چہرے پہ پھیلتے تبسم،تمہاری کلائی میں چھن چھن کرتی چوڑیاں،تمہاری وہ بندیا جو تم نے اپنے ماتھے پہ سجا رکھی تھی، تمہارے کانوں کے بندے، سب یقین دلا رہے تھے کہ فلک شیر نازنین تمہارے لیے سجی ہے،وہ صرف تمہاری ہے، صرف تمہاری…

سچ کہوں تو نازنین تم یقین نہیں کروگی مجھے تو تمہاری ان سب چیزوں سے، جو تم نے اپنے بدن پر سجا رکھی تھیں، ایک جلن سی محسوس ہونے لگ گئی تھی، وہ ہوا کے جھونکے جو تمہارے بدن کو چھو رہے تھے، جی کر رہا تھا کہ میں ان کا گلا ہی گھونٹ دوں…

تمہاری انگوٹھیاں جنہوں نے تمہاری مخروطی انگلیاں تھام رکھی تھیں، اور وہ تمہاری بائیں کلائی کا کنگن، جو کلائی پہ ایسے براجمان تھا جیسے یہ اسکا حق ہے۔ میں نے اسکو کئی بار گھورا… مگر ہر بار وہ مجھے منہ چڑھا کر ہنس دیتا…اس کنگن کی کھنک اس چہکتے مہکتے ماحول میں بھی سب سے نمایاں تھی… یا مجھے سنائی دے رہی تھی۔

جب تم میرے بلانے پہ مجھ سے ملنے آئی تھی ناں…تمہارا ہر قدم جو میری طرف بڑھ رہا تھا… میری دھڑکنوں میں ہلچل مچا رہا تھا۔

یہ ہماری منگنی کے بعد پہلی رو برو ملاقات تھی،جب تم میرے ساتھ بیٹھ کر جوس کو گھونٹ گھونٹ پی رہی تھی، تمہارے نچلے ہونٹ پہ جوس کا ایک قطرہ ٹھہر گیا تھا…

اچانک ایک مچھر نے میری ناک پر کاٹا…میں اس سحر سے نکل آیا…

پتہ نہیں میں یہ کیا سوچنے لگ گیا…یہ خیال آتے ہی میں نے وہ ساڑھی ایک طرف پھینک دی…

جناب عالی !شام کا وقت گذر چکا تھا رات اپنے تاریک سائے پھیلا رہی تھی۔میں نے بلب روشن کرنا چاہا۔مگر اتنا عرصہ بل جمع نہ ہونے کی وجہ سے بجلی کٹ چکی تھی۔

میں نے کسی طرح ایک موم بتی ڈھونڈھ لی،ڈریسنگ ٹیبل کی دراز سے ایک ماچس مل گئی، جس سے میں نے موم بتی روشن کی۔جیسے ہی موم بتی روشن ہوئی مجھے آئینے میں اپنا چہرہ نظر آیا۔

اف میرے خدا……اتنے عرصے بعد آئینہ دیکھا… میں تو اپنی عمر سے پانچ سات سال بڑا لگ رہا تھا…بکھرے گندے بڑھے ہوئے بال،داڑھی…اف…یہ کیا میں تو بالکل ڈاکو جیسا دکھ رہا ہوں۔

“ہاں ڈاکو ہی تو ہو تم”…آئینہ مجھے گھورنے لگا

“ڈاکو ہی تو ہو تم… تم نے نازنین کی محبت پہ ڈاکہ ڈالا ہے۔ لٹیرے ہو تم۔

جب تم نے نازنین کو بسانا ہی نہیں تھا تو اس سے شادی کیوں کی؟تم نے اپنے غصے کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اس معصوم سے شادی کی،۔وہ آگ جو تمہارے نفس نے تمہارے اندر لگا دی تھی، بے اعتباری کی آگ،ہاں بے اعتباری کی آگ… ”

“ہاں…مجھے غصہ تھا نازنین پہ…کیونکہ میں نے عشق بھی تو اس سے انتہا کا کیا تھا،میں اس کی محبت میں پل پل جیا ہوں،پل پل مرا ہوں…وہ بے وفا تھی…تبھی میں نے یہ سب کیا… تم۔کیا جانو جب محبوب بے وفا ہو جائے تو انسان کا جسم انگاروں سے بھر جاتا ہے۔ اور یہ آگ اسکے وجود کو، اسکے خوابوں کو جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔ کچھ نہیں چھوڑتی…”

“یہ سب تم اپنے آپ کو تسلی دینے کے لئے کہہ رہے ہو۔ جبکہ حقیقت اس سے برعکس ہے۔اگر تم موم بتی کا دھاگہ تھے تو وہ موم تھی، اگر تم جلتے تھے تو پگھلتی وہ بھی تھی۔اس نے کتنی قسمیں کھائیں کہ وہ بے وفا نہیں ہے۔اور وہ تم سے ہی محبت کرتی ہے۔ مگر تمہیں اس پہ ذرہ بھر بھی یقین نہیں آیا تھا۔ یہ کیسی محبت تھی؟

“تم پاگل سمجھ رہے ہو مجھے؟ وہ اپنے اس کزن کے ساتھ…کیا نام۔تھا اسکا…؟ہاں احسن…احسن کے ساتھ ہنس ہنس کے باتیں کیا کرتی تھی۔ پتا ہے اس مہندی والی رات…مجھ سے ملنے کے بعد وہ احسن کے پاس بھی رکی تھی دس منٹ…میں اسکو دیکھ رہا تھا کہ کاش وہ چلی جائے رکے نہیں اسکے پاس…مجھے نہیں پسند اسکا کسی بھی لڑکے سے بات کرنا…مگر اسکو میری آنکھوں میں دبی التجا سنائی نہ دی…وہ دس منٹ مجھ پر دس صدیوں سے بھاری تھے۔اور پتا ہے احسن نے اپنی گاڑی میں مجھے گھر اتارا… اور پھر بعد میں نازنین اور اسکی بہن کو… وہ راستہ کیسے کٹا ہوگا… ہو سکتا ہے وہ انکے گھر بھی گیا ہو… ظاہر ہے کزن تھا کوئی روک تھوڑی تھی……تم سمجھ سکتے ہو یہ سوالات ذہن میں لیئے…وہ رات کانٹوں پہ کاٹی تھی میں نے…

میں نے کئی بار نازنین کو فون بھی کیا…مگر اسکا موبائل مسلسل بند ملا…اور اسکے بعد ہماری شادی ہونے تک میں احسن پہ کڑی نگاہ رکھتا تھا۔زہر لگتا تھا مجھے وہ…مجھے اسکو دیکھ کر آگ سی لگ جاتی…”

“اٹھو اب نیچے کیوں بیٹھ گئے ہو؟ یہ صرف تمہاری سوچ کا فتور تھا۔یہ آگ تمہاری غلط فہمی کی لگائی ہوئی تھی، نازنین نے اسی کمرے میں ہمارے سامنے قسمیں کھائیں تھیں جب تم نے پہلی رات اس سے پوچھا تھا…

یاد ہیں اسکے الفاظ…اس نے کہا تھا کہ وہ میرے بڑے بھائی جیسا ہے، بچپن میں اسکی گود میں کھیلی ہوں

مگر تم۔نے یقین نہیں کیا تھا…

ارے بے وقوف انسان…محبت تو اعتبار سکھاتی ہے۔وہ تم سے محبت کرتی تھی… اپنے گھر والوں کو کس طرح منایا تھا اس نے تم سے شادی کرنے کے لیے۔ اسکا باپ اور بھائی تو کبھی تیار نہ ہوتے اگر وہ اپنی نازوں پلی کو اسقدر غمگین نہ دیکھتے… ورنہ تمہارے اور انکے اسٹیس میں تو زمین آسمان کا فرق تھا۔ یہ سب ان کا دیا ہوا ہے…یہ تم نے کیا کر دیا…تمہارے شک کی آگ جلا گئی اسکووہ دیکھو اسکی ڈائری…

اس میں پڑا گلاب کا پھول جو اب سوکھ چکا ہے “…

“میں نے گلاب کی سمت دیکھا

وہ گواہ تھا ہم دونوں کی محبت کا…جب نازنین کے ہاتھ میں یہ گلاب تھمایا تھا تو اسکے ریشمی ہاتھ ہاتھوں میں لے کر اقرار محبت کیا تھا۔ اور نازنین نے بھی تب اپنے دل میں چھپی محبت کا اظہار کر لیا تھا۔

 ہر طرف اٹھتےہوئے بین مجھ سے سنے نہیں جا رہے تھے۔نازنین کہ ڈائری میں لکھا ہوا ایک ایک لفظ چیخ رہا تھا۔…

نازنین کہاں ہے؟…… ہائے… تمہاری غلط فہمی کھا گئی محبت کو…”

میں ہاتھ میں موم بتی پکڑے اب کچن کی طرف آگیا۔میرا حلق کسی بنجر زمین کی طرح سوکھ چکا تھا۔ شرمندگی کے تھپیڑوں نے میرے وجود کو لال کر دیا تھا۔

کچن میں اسکے کپڑوں کے جلے ہوئے کچھ ٹکڑے ابھی بھی بکھرے ہوئے تھے، وہ بے ترتیب چیزیں، نیچے گرے ہوئے برتن،ادھر ادھر گری ہوئی جلی کرسیاں… اس تکلیف کا احساس دلا رہی تھیں جو نازنین کو جلتے ہوئے ہوئی تھی۔

 ہرشےچیخ رہی تھی تم سفاک ہو، تم قاتل ہو۔تم نے اس پھول جیسی لڑکی کو مار ڈالا میری ہمت جواب دے گئی، میں نے لڑکھڑا کے ایک کرسی کا سہارا لیا۔ میراضمیر چیخ رہا تھا

شرم کرو شرم… ڈوب مرو…میں وہاں سے بھاگ نکلا مگر خود کو تسلی دے رہا تھا کہ کچھ اور وقت گزرے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔

مگرپھر ضمیر نے مجھے جھنجھوڑا “کیا ملا…فلک شیر کیا ملا تجھے یہ سب کر کے”

میں گرد میں آٹے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا۔ دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھوں میں ندامت سے بہتے آنسوؤں کو صاف کرنے لگا…” کوئی اندر سے پھر گویا ہوا اب ان آنسوؤں کا کیا فائدہ کیا نازنین کو واپس لا سکتے ہو، کیا وہ وقت واپس لا سکتے ہو؟ دیکھو اس گھڑی کی سمت۔جس وقت تم نے نازنین کو جلانے کی سازش کی تھی ناں…وقت ادھر ہی رک گیا تھا،دیکھو…کہنے کو تو تین سال گذر گئے…مگر سوچو…ایک لمحہ بھی نہیں گذرا۔ سب وہیں کا وہیں ہے… اس گھر کی ہر چیز تمہارے جرم کی گواہ ہے اور ملامت کر رہی ہے…

’’ میں سب سے معافی مانگ لوں گا “ میں نے التجا کی…

’’اپنی بک بک بند کرو۔چپ ہو جاؤ۔ خبر دار اگر ایک لفظ بھی منہ سے نکالا، اپنی دفعہ معاف کیا تھا تم نے اسکو،وہ ہاتھ جوڑے معافیاں مانگتی تھی تم سے… اپنے ناکردہ گناہوں کی… یاد کرو وہ وقت… تم۔کیا تھے…اسکے باپ کے معمولی ملازم تھے…اس معصوم کا دل آگیا تھا تم پہ…تمہیں فرش سے عرش پر پہنچانے والی وہی تھی…وہی ناداں لڑکی تمہاری محبت کوسچ سمجھ بیٹھی تھی “

’’ نہیں نہیں قسم سے تب میں سچی محبت ہی کرتا تھا “

’’ چپ…اگر سچی محبت ہوتی تو اچانک ختم نہ ہو جاتی۔کتنا تڑپتی تھی وہ اپنے گھر والوں کو منانے کے لئے کہ تم سے شادی کرے گی بس…اسکو لگتا تھا فلک شیر ہی وہ شہزادہ ہے۔ جس کے وہ خواب دیکھتی تھی۔ “

’’ ہاں یہ ہماری محبت کی سچی تڑپ ہی تھی جس نے ہمیں ایک کر دیا…ہم نے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائیں تھیں۔ ”

’’ تو اسکے ساتھ خود بھی کیوں مر نہیں گئے تم…؟کس لئے زندہ ہو؟زندہ ہو بھی یا میں ایک لاش سے باتیں کر رہا ہوں…لاش ہی تو ہو تم… جب انسان کسی کی سچی محبت کو اپنے پیروں تلے روند ڈالے، بے اعتبار کر کے…وہ لاش ہی بن جاتا ہے،زندگی قطرہ قطرہ اسکے وجود سے نکل جاتی ہے… اسکی انا اور نفرت کے سوراخوں سے…”

’’ ہاں لاش ہی تو ہوں میں…میں نے نازنین کی محبت کو بے اعتبار کیا…میں نے ہی گیس کھلی چھوڑ دی اور اسکو چائے بنانے کے لیے کچن میں بھیجا اور خود باہر چلا گیا…”

’’تمہیں اعتبار کرنا چاہیئے تھا اپنی بیوی پہ فلک شیر، محبت پہ اتنی بے اعتباری کیوں؟…‘‘

’’جناب حوالدار…جس کی ماں اسے بچپن میں اپنے خواب پورے کرنے کے لیے چھوڑ گئی ہو، جس نے زمانے بھر سے،حتی کہ اپنے ہی باپ سے یہی طعنے سنے ہوں کہ تیری ماں بد چلن تھی آوارہ تھی، اگر وہ اپنی اولاد سے محبت کرتی تو کبھی اسکو نہ چھوڑتی…

انہی باتوں سے تنگ آکر میں نے اپنا شہر چھوڑ دیا… میں کسی عورت پہ پورا اعتماد کیسے کر سکتا تھا جبکہ مجھے وہ اعتماد اپنی ماں سے ہی ادھورا ملا تھا۔جب مائیں بچوں کو چھوڑ کر جائیں ناں اپنے خواب سجانے کے لیے… تو انہیں چاہیئے کہ وہ پہلے اپنے بچوں کا گلا گھونٹ دیا کریں… کیوں کہ ایسے بچے زندہ کہاں ہوتے ہیں وہ تو لاشیں ہوتے ہیں… چلتی پھرتی لاشیں…زمانے بھر سے گالیاں ہی سنتے ہیں۔ ادھورے رہ جاتے ہیں انکے خواب…ادھوری رہ جاتی ہے انکی زندگی…اور…ادھوری شخصیت…