//اداریہ
editorial

اداریہ

مدثرہ عباسی ۔ مدیرہ

السلام علیم، ایک نعمت، ایک الٰہی تحفہ

يوں تو دنيا ميں ہر مہذب سمجھي جانے والي قوم کا تقريباً يہ روا ج ہے کہ آپس ميں ميل ملاپ اور ملاقات کے وقت احترام و محبت کا کوئي نہ کوئي جملہ اپنے مخاطب کو مانوس و مسرور کرنے کے ليے کہا جاتا ہے صبح ، شام اور رات کي ملاقات کے وقت کيلئے شب بخير، صبح بخير جيسے الفاظ اور رواج کوئي نئي بات نہيں، بلکہ زمانہءجاہليت ميں حضور اکرم ﷺکي بعثت سے قبل خود عربوں ميں بھي اس طرح کے کلمات کہنے کا رواج تھا، چنانچہ: سيّدنا عمران بن حصين ؓ فرماتے ہيں کہ زمانہء جاہليت ميں ہم جب آپس ميں ملتے تو ايک دوسرے کوکہتے :حَيَّاکَ اللّٰہُ يعني اللہ تعاليٰ تمہيں زندہ رکھے۔(أبو داؤد) پھر جب اسلام کاسورج طلوع ہؤا اور ہم دورِ جاہليت کي تاريکي سے نکل کر اسلام کي روشني ميں آئے تو ہميں حضور ﷺنے اس سے منع فرما ديا ۔(مشکوٰة شريف)آپؐ نے اس طرزِتحيہ کو بدل کر ’’السلام عليکم ‘‘ کہنے کا طريقہ جاري فرمايا، اس کے معنيٰ يہ ہيں کہ تم پر اللہ تعاليٰ کي سلامتي ہو،اسلامي طريقہ ءسلام کس قدر جامع دعا بھي ہے ،يعني عرب کے طرز پر صرف زندہ رہنے کي دعا نہيں،بلکہ حياتِ طيبہ کي دعا ہے ، جس کا مطلب يہ ہے کہ اللہ تعاليٰ تم کو تمام بري چيزوں ،بلاؤں، آفتوں،مصيبتوں اور تکليفوں سے محفوظ اور سلامت رکھے ،پھراسي کے ساتھ سلام کرنے والا سلامتي کي اس دعا کے ضمن ميں گويايہ وعدہ بھي کر رہا ہے کہ تم خود بھي مجھ سے سلامت ہو،ميرے ہاتھ اور زبان کي تکليف سے محفوظ اور مامون ہو،اور ميں تمہاري جان مال اورآبروکا محافظ ہوں۔اللہ تعاليٰ قرآن کريم ميں فرماتا ہے:

فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلَی اَنْفُسِکُمْ تَحِیَّۃً مِّنْ عِنْدِاللّٰہِ مُبٰرَکَۃً طیِّبَۃً۔ (النور: ۶۲)

کہ جب گھروں ميں داخل ہو تو اپنے گھر والوں پر سلامتي بھيجو۔ يہ ايک بڑا برکت والا اور پاکيزہ خدائي تحفہ ہے۔اسي طرح قرآن کريم ميں ايک اور جگہ جنّت کے پہرے داروں سے متعلق آتا ہے کہ وہ جنتيوں سے کہيں گے:

سَلَامٌ عَلَیْکُمُ ادْخُلُوْا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ

کہ تم پر سلامتي ہو۔ اپنے کئے گئے اعمال کے سبب جنّت ميں داخل ہوجاؤ۔(النحل: ۳۳) قرآن کريم کي ان آيات سے پتہ چلتا ہے کہ ايک دوسرے پر سلامتي بھيجناگويا کہ خدا تعاليٰ کے فضل کو حاصل کرنا اور فَسَلِّمُوْ ا(پس تم سلا م کرو) کا حکم دے کر واضح کرديا کہ سلام کا کرنا ہر مسلمان مرد و زن پر لازم ہے۔ جيسا کہ ہم ديکھتے ہيں کہ دينِ حق ايک مکمل معاشرتي نظام فراہم کرتا ہے اور اس معاشرے کا ہر ايک فرد آپس ميں زنجير کي طرح ملا ہوا ہے اور باہمي ہمدردي اور محبت کا جذبہ واضح ملتا ہے جس کي نظير ہميں کسي دوسرے مذہب ميں نہيں ملتي۔ اس روشن اور پاکيزہ معاشرے کي بنيادي اکائي آپس ميں سلام کا رواج ہے جس کے متعلق آنحضرتﷺ کا ارشاد ہے کہ:و تَقْرَ ء ِالسلامَ علی مَن عَرَفتَ و مَن لَّم تَعرِ ف (بخاری)۔  کہ تم ہر ملنے والے کو خواہ تم اسے جانتے ہو يا نہيں، سلام کيا کرو۔

اسي طرح دين حق نہ صرف اپنے ہم مذہبوں کوہي سلام کرنے کا حکم ديتا ہے بلکہ يہي تعليم دوسرے مذاہب کے افراد کے متعلق بھي ہے۔ حضرت اسامہ بن زيدؓ بيان کرتے ہيں کہ آنحضرتﷺ ايک مجلس کے پاس سے گذرے جس ميں مسلمان، مشرکين، بت پرست، يہود سب ملے جلے بيٹھے تھے۔ آپؐ نے ان کو السلام عليکم کہا۔ (بخاري باب الا ستبذان) آنحضرتﷺ کے اسوہء حسنہ کا يہ ايک اعليٰ پہلو ہميں آج دنيا کے کسي اور مذہب ميں نہيں ملتا کہ ہر ايک ملنے والے پر سلام بھيجو۔ خواہ وہ تمہارا دشمن ہو يا دوست۔ اللہ تعاليٰ نے سلامتي کي وسعت اور دائرہ کو مزيد وسيع کيا ہے۔ فرمايا کہ جب ہم کسي قبرستان کے پاس سے بھي گذريں تو وہاں کے مُردوں پر بھي سلامتي بھيجيں اور يہ دعا سکھلائي۔ السلام علیکم یا اھل القبور (گويا کہ يہ سلامتي انہيں پہنچنے والي ہے اور وہ بھي سلامتي کي برکات سے فيض ياب ہوسکتے ہيں )۔

حضرت عمرانؓ بن حصين بيان کرتے ہيں آنحضرتﷺ کي خدمت ميں ايک شخص حاضر ہوا اور السلام عليکم کہا۔ آپؐ نے اس کا جواب ديا جب وہ بيٹھا تو آپؐ نے فرمايا اس شخص کو دس گنا ثواب ہوا پھر ايک اور شخص آيا اس نے السلام عليکم ورحمتہ اللہ کہا۔ آپؐ نے سلام کا جواب ديا۔ جب وہ بيٹھ گياتوآپؐ نے فرماياکہ اس شخص کو بيس گنا ثواب ہؤاہے پھر ايک اور شخص آيا اس نے السلام عليکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہا جب وہ بيٹھ گياتوآپؐ نے فرماياکہ اس شخص کو تيس گنا ثواب ہؤاہے۔ (ترمذي ابواب الاستيذان في فضل السلام) آنحضرتﷺ کا فرمان ہے کہ سوار پيدل چلنے والے کو اور پيدل چلنے والا بيٹھے کو سلام کرے۔سلام ايک محبت بھر اپيغام ہے۔

اپنے سے چھوٹوں کو بھي سلام کرنا چاہيے، کيوں کہ سلام تو دعا ہے۔ نبي اکرمؐ بچوں کو بھي سلام کيا کرتے تھے۔  آپس ميں زيادہ سے زيادہ سلام کرنے سے محبت بڑھتي ہے اور رب العزت ہر دکھ اور نقصان سے محفوظ رکھتاہے۔حضور اکرمؐ نے فرمايا کہ سلام کو خوب پھيلاؤ، رب تم کو سلامت رکھے گا۔حضرت  انس ؓ    کا  کہنا ہے کہ  صحابہ کرامؓ آپس ميں بہت زيادہ سلام کيا کرتے تھے۔ سلام کي کثرت کا يہ حال تھا کہ اگر کسي وقت آپکے ساتھي کسي درخت کي اوٹ ميں ہوجاتے اور پھر سامنے آتے تو پھر سلام کرتے اور آ پؐ کا ارشاد مبارک ہے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائي سے ملے تو اسے سلام کرلے اور اگر درخت يا ديوار يا پتھر بيچ ميں اوٹ بن جائے اور پھر سامنے آئے تو اسے پھر سلام کرے۔ (رياض الصالحين) السلام عليکم وہ ہتھيار ہے جس سے سخت دل نرم پڑ جاتے ہيں اور محبت بڑھتي ہے اور جسے اپنانے پر آج کي ترقي يافتہ مغربي اقوام بھي مجبور ہيں۔ اور ايک مکمل اور کامياب معاشرہ کي بنياد آپس ميں سلامتي بھيج کر ہي مضبوط ہو سکتي ہے۔