//اداریہ
editorial

اداریہ

مدثرہ عباسی ۔ مدیرہ

اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں ایک مرتبہ پھر خداتعالیٰ نے رمضان المبارک کے بابرکت ایام نصیب کئے ہیں اور ہم خوش قسمت ہوں گے اگران دنوں سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنے رب کا قرب، اس کی خوشنودی، اس کا رحم اور فضل اور برکتیں تلاش کریں گے جو ان بابرکت ایام میں اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھی ہیں۔خود رسول اللہ ﷺ نے رمضان المبارک کے ایام اور اس بابرکت مہینہ کی عظمت اور شان اس طرح فرمائی ہے۔

’’اے لوگو! تم پر ایک بڑی عظمت اور شان والا مہینہ سایہ کرنے والا ہے۔ ہاں! ایک برکتوں والا مہینہ جس میں ایک ایسی رات ہے جو ثواب و فضیلت کے لحاظ سے ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے فرض کئے ہیں اور اس کی رات کی عبادت کو نفل ٹھہرایا ہے۔ یہ مہینہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنّت ہے۔ اور یہ ہمدردی اور غم خواری کا مہینہ ہے اور ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھایا جاتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے اس بابرکت مہینہ کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ یہ ایسا مہینہ ہے جس کی ابتداء نزولِ رحمت ہے اور جس کا وسط مغفرت کا وقت ہے اور جس کا آخر کامل اجر پانے یعنی آگ سے نجات پانے کا زمانہ ہے۔ رمضان المبارک کے حوالے سے آج میں قربِ الٰہی حاصل کرنے کے ذرائع پر مختصراً بتاؤں گی۔خدا تعالیٰ خود قرآن پاک میں فرماتا ہے :۔ وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں۔ (البقرۃ:187)

دعا اور محنت خدا تعالیٰ کی محبت کو پانے کے لئے ضروری ہے۔ قربِ الٰہی کی خاطر مسلسل مجاہدہ قربِ الٰہی کا سفر کوئی ایک دو دن کی بات نہیں بلکہ اوّل تا آخر مسلسل مجاہدہ کا سفر ہے۔ توکل علی اللہ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا صحیح استعمال، تبلیغ اسلام کا جہاد کرنا، راہِ خدا میں زندگی وقف کرنا، صحبتِ صالحین اختیار کرنا، انفاق فی سبیل اللہ، ہر نعمت پر خدا کاشکر ادا کرنا، وقت کی قربانی، عاجزی اور خاکساری اختیار کرنااور جملہ اسلامی تعلیمات کی پوری پوری پیروی کرنا، عاجزانہ راہیں اختیار کرنا یہ سب باتیں اس مسلسل جہاد کا حصہ ہیں۔ ان پر استقلال سے قائم رہتے ہوئے اور ان سب راہوں پر چل کر قربِ الٰہی کا حصول ایک مومن کا زندگی بھرکا لائحہ عمل ہونا چاہیے۔ یاد رکھنا چاہیئے کہ قربِ الٰہی پانے کے لئے مسلسل مجاہدہ اور محنت کی ضرورت ہے۔ حق یہ ہے کہ خدا کو پانا خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ قرب کی راہیں لامحدود ہیں۔ جب تک خدا تعالیٰ خود انسان کا ہاتھ نہ پکڑ لے، منزل کا حصول ممکن نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا ذریعہ دعا بیان فرمایا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں:

یہی تدبیر ہے پیارو کہ مانگو اُس سے قربت کو

اُسی کے ہاتھ کو ڈھونڈو جلاؤ سب کمندوں کو

قربِ الٰہی پانے کے لئے آزمودہ نسخوں میں سے ایک قطعی ذریعہ قرآن مجید ہے۔ یہ مقدس کتاب جو اوّل تا آخر اللہ تعالیٰ کے مقدّس کلام پر مشتمل ہے ایسی پاک تاثیرات اپنے اندر رکھتی ہے کہ سالک کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں لے جاتی ہے اور جو کوئی بھی اس کتاب ِ ہدایت سے فیض حاصل کرتا ہے وہ قربِ الٰہی کی دولت سے مالا مال ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید کے فیض کا دریا جاری و ساری ہے اور آج بھی قربِ الٰہی کا ایک اوّلین اور مجرّب ذریعہ ہے۔

حضرت مسیح پاک علیہ السلام کو ایک بار الہام ہؤ ا :

الخیر کّلُّہ فی القرآن کہ تمام قسم کی بھلائیاں قرآن مجید میں ہیں۔ ہر روز صبح کے وقت اس مقدس کتاب کی تلاوت کرنا ذہنِ انسانی کو جِلابخشتا ہے۔ قرآن مجید مومن کا ایسا دستورالعمل ہے جس کے بغیر قربِ الٰہی کا تصور بھی ناممکن ہے۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی یہ نصیحت ہمیشہ یاد رکھنے والی ہے کہ

’’قرآن مجید کو مہجور کی طرح نہ چھوڑو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔ جولوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے‘‘

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 13)

قربِ الٰہی کے حصول کی دعا: اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے قرب کا ایک بہت اہم اور بنیادی ذریعہ محبت الٰہی کے حصول کی دعا کرنا ہے جو ساری کا میابیوں کی جڑ ہے۔ باقی ذرائع کی کامیابی کا انحصار بھی اسی دعا پر ہے۔ پس مومن کا فرض ہے کہ دعا کا وہ انداز اختیار کرے جو ہمارے پیارے آقا، حبیبِ خدا ﷺ کا انداز تھا۔حدیثوں سے ثابت ہے کہ ہمارے آقا محمد عربی ﷺ اس طرح پر دعاکیاکرتے تھے کہ

اَللّٰہُمَّ ار زُ قِنی حُبَّکَ یعنی اے میرے خدا ! مجھے اپنی محبت عطا فرما وَ حُبَّ مَن اَحَبَّکَ اور اے خدا جو تجھ سے محبت کرتے ہیں میرے دل میں اُن کی محبت بھی ڈال دے وَ حُبَّ مَا یُقَرِّ بُنِی اِ لَیکَ اور ان کاموں کی اور ان اعلیٰ درجہ کے اخلاق کی اور ان قربانیوں اور نیکیوں کی بھی میرے دل میں محبت ڈال دے جن سے تیری محبت پیدا ہوتی ہے وَ اجعل حبّک احبّ الیّ من الماء البارد اور اے میرے ربّ ! اپنی محبت میرے دل میں اُس سے بھی زیادہ پیدا کردے جتنی شدید گرمی کے موسم میں انسان کو ٹھندے پانی کی محبت ہوتی ہے۔ حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں کہ یہ وہ دعا ہے جو رسول کریم ﷺ مانگا کرتے تھے اور جس کا دوام انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کر دیتا ہے۔ اور اسی دعا کے التزام سے قرب الٰہی کی دولت نصیب ہوتی ہے! (بحوالہ تعلق باللہ جلد23صفحہ 218-219) قربِ الٰہی کا بنیادی ذریعہ۔ پنجگانہ نماز، نماز تہجد اور نوافل ہیں۔خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا زینہ اور ایک قطعی ذریعہ اللہ اور رسول کے حکم کے مطابق عبادات بجا لانا ہے جن میں سرفہرست پانچ وقت کی نمازیں بلاناغہ ادا کرنا ہے۔ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا ہے قرۃ عینی فی الصلاۃ کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ پھرآپ ؐ نے فرمایا ہے الصلوٰۃ عمادالدین کہ نماز تو درحقیقت دینِ اسلام کا ستون ہے اور یہ بھی فرمایا کہ قیامت کے روز سب سے پہلے قیام نماز کے بارہ میں حساب کتاب ہوگا۔

نماز اور قربِ الٰہی کے تعلق میں آپﷺ نے فرمایا: ’’صلوٰۃ ایسی چیز ہے کہ اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کا کوئی ذریعہ نہیں۔ یہ قرب کی کنُجی ہے‘‘

(ملفوظات جلد 2 صفحہ 347-348)

ہمارے پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنی خلافتِ راشدہ کے پہلے دن سے اقامۃ الصلوۃ کی تلقین اتنی بار فرمائی ہے کہ اس کاشمارممکن نہیں۔ ایک ارشاد پیش کرتی ہوں جو بہت توجہ سے سننےاور یاد رکھنے کے لائق ہے۔ آپ نے فرمایا:

’’ہر وہ انسان جو اللہ تعالیٰ کا عبادت گزار بندہ بننا چاہتا ہے، اس کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے، اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو پاک رکھنا چاہتا ہے، شیطان کے حملوں سے بچنا چاہتا ہے توا س کے لئے ایک ہی ذریعہ ہے کہ عبادت کی طرف توجہ دے اور اس کے لئے سب سے ضروری چیز نماز باجماعت کی ادائیگی ہے‘‘ (خطبات مسرورجلد اول صفحہ 24) قربِ الٰہی پانے کے لئے پنجگانہ نماز کے التزام کے ساتھ ساتھ اگلے قدم کے طور پر نماز ِ تہجّد کی ادائیگی بھی بہت ضروری ہے۔ قربِ الہٰی کے روحانی سفر میں نماز تہجد کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے مومنو! تم رات کے ایک حصہ میں نماز تہجد بھی ادا کیا کرو۔ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں مقامِ محمود پر فائز کردے (سورۃ بنی اسرائیل آیت80) عبادات کے اس سفر میں آگے بڑھتے ہوئے طوعی نوافل کا مقام آتا ہے۔ نوافل کی اہمیت اس بات سے واضح ہے کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا ہے کہ قربِ الٰہی کے طالب کے لئے نوافل ادا کرنے سے یہ منزل آسان ہوجاتی ہے۔

اللہ پاک ہمیں خداتعالیٰ سے سچا، پکا اور زندہ تعلق قائم کرنے والا بنائے اوررمضان المبارک میں عبادات کو اس طریق پر ادا کر سکیں کہ دائمی قرب الٰہی حاصل کر نے والے ہوں۔ وباللّٰہ التوفیق