//اداریہ
editorial

اداریہ

ذکر الٰہی

اَللّٰھُمَّ اَعِنِّی عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔  (ابو داؤد کتاب الصلوة)

ترجمہ:۔ اے اللہ اپنے ذکر اور شکر کے لئے  میری مدد فرما، اپنی خوبصورت عبادت کرنے کی مجھے توفیق دے۔آمین۔

یہ دعا اتنی پیاری ہے  جو ہمیں پارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے خود سکھائی ہےکہ  اس کے ذریعہ ہم اپنے پیارے اللہ کا  ذکر اورشکر ادا کر سکیں اوراس  طرح پر اس کی عبادت کر سکیں جیسا کہ اس کا حق ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ:۔

چاند چھپتا ہے تو احساسِ ضیأ ہوتا ہے

ورنہ تاروں سے فلک روز بھرا ہوتا ہے

ہم دنیا میں پہلی سانس لیتے ہیں  تو رحمٰن خدا ہمارے پیدا ہونے سے پہلے ہی ہوا ، پانی اور تمام ضروریات کا انتظام کرتا ہے ، پیدا ہوتے ہی ہم پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بارشیں برسنا شروع ہوجاتی ہیں۔ہمارے والدین اس وقت تک اپنی شفقت، عنایت اور اپنی مہربانی کا سایہ کئے رکھتے ہیں جب تک ہم کسی کام کے اہل نہیں ہوجاتے۔ دنیا میں آتے ہی اللہ پاک اپنے فضلوں کے ساتھ  برکتوں، رحمتوں اورنعمتوں  کی فراوانی کردیتا ہے۔

کونسی نعمت نہیں ہے ہمارے پاس؟ سب سے بڑی نعمت تو وہ زندگی ہے جو خدا نے ہمیں دی ہے اور اس کا مقصد بھی ہمیں بتا دیا  یعنی کہ ہم اپنے پیارے رب کی عبادت کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس میں کامیاب ہوں اور خدا کے حضور سرخرو ہو سکیں۔  پھر شعور جیسی نعمت بھی عطا کی  اور ہمیں اشرف المخلوقات بنایا۔ معاشرت، تہذیب، صحت ،رزق،  تعلیم، والدین، گھر غرض زندگی کی ہرنعمت سے ہمیں اللہ تعالیٰ نے نوازا ہے۔آسمانوں اورزمین کو ہمارے لئے  اللہ تعالیٰ نے مسخر کر دیا ہے۔کائنات کا علم بھی ہمیں کچھ حد تک عطا کیا  ہے۔

ہر ہر دانہ قدرت کا انمول خزانہ ہے،بارش کا ہر ہر قطرہ حوضِ کوثرہے ، ہر ہر روز پیارے خدا کی بے مثل عنایات ہیں، ہر ہر  شب بے پایاں رحمت ہے، یہ سب اللہ کی قدرت کے تحفے ہی تو ہیں جو ہم سب کو ملے  ، دنیا،  دولت، علم ، حکومت، دریا ، پانی ، مٹی ، بارش، کھیت، شجر ، پھل، پھول، بہاریں، کس کس شئے کا ذکر کریں۔ہر نعمت اللہ کی  عطا کردہ ہے، جتنا ہم اپنے  رب کا شکرادا  کریں گے، اللہ ہمارا دامن اور بھرے گا۔ہماری ہدایت اور رہنمائی کے لئے رسول بھیجے،  اور سب سے بڑھ کر ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ہماری ہدایت کے لئے بھیجا ، جب ہم اپنے پیارےآقا ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک حسین پہلو سادگی، مسکینی اور قناعت بھی تھا۔ جس کی آپؐ نے ہمیں تعلیم بھی دی اور اپنے عمل سے مثالیں بھی قائم فرمائیں۔آنحضرتﷺ کی یہ شان ہے  وَمَااَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ  (صٓ:87) یعنی میں تکلف کرنے کا عادی نہیں ہوں۔ آپؐ کے قول کے ساتھ ساتھ آپؐ کا ہر فعل بھی تصنع اور بناوٹ سے پاک تھا۔ہر عمل میں سادگی بھری ہوئی تھی۔ اور تصنع اور تکلّف سے پاک زندگی کا اتنا اونچا معیار تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ سے یہ اعلا ن کروایا۔ اللہ تعالیٰ نے جو دلوں کو جانتا ہے، جس نے آپؐ کو مبعوث فرمایا، آپؐ پر شریعت اتاری، آپؐ سے یہ اعلان کروایا کہ دنیا کو بتا دو کہ میں تمام تر تکلّفات سے پاک ہوں۔ میری زندگی میں سادگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو دنیا کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان کو کبھی استعمال کرنے کی ضرورت ہو تو استعمال تو کرتا ہوں لیکن وہی زندگی کا مقصود و مطلوب نہیں ہیں بلکہ ان کا استعمال بھی اللہ تعالیٰ کے حکم تحدیث نعمت کی وجہ سے ہی ہے۔ اور اگر مجھے کوئی چیز پسندہے، اگر کوئی میری مرغوب چیز ہے، اگر میرا کوئی مطلوب و مقصود ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اللہ تعالیٰ کا پیار ہے۔ یہ دنیا کی چیزیں تو عارضی ٹھکانہ ہیں اور جہاں اپنے عمل سے ہمیں یہ دکھایا کہ یہ دنیاوی چیزیں میرا مقصد حیات نہیں ہیں وہاں یہ تعلیم بھی دی کہ دنیا کی آسائشیں اور نعمتیں تمہارے فائدہ کے لئے تو ہیں، ان سے فائدہ اٹھاؤ لیکن ان دنیاوی چیزوں کو ہی سب کچھ سمجھ نہ بیٹھو۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ  بنصرہ العزیز  فرماتے ہیں کہ: ۔” ہمیشہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی چاہئے اور اگر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہو تو سادگی اور قناعت ہی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بنتاہے۔ یہی چیزیں ہیں جو تمہیں خدا کا قرب دلانے کا باعث بنتی ہیں۔ لیکن اگر تم دنیا کے آرام و آسائش کی تلاش میں پڑ گئے اور اس قدرپڑ گئے کہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنا بھی بھول گئے تو پھر آہستہ آہستہ یہی چیزیں تمہارا مطلوب و مقصود ہو جائیں گی اور مستقل طور پر اللہ تعالیٰ کی یاد آہستہ آہستہ دل سے نکل جائے گی”۔سو ہمیں  خداتعالیٰ کے رزق کو حاصل کرنے کی کوشش اور تلاش کرنی چاہئے اور اس دعا کے ذریعہ اللہ کی رضا ہمارے لئے اس دنیا کو بھی جنت بنا دے اور آخرت میں بھی ہم جنت حاصل کرنے والے ہوں۔آمین