//اداریہ
editorial

اداریہ

مدثرہ عباسی ۔ مدیرہ

پيارے آقا حضرت محمد مصطفيٰﷺ کي سيرت ايک ايسا بحر بے کنار ہے جس کے اندر ہرقسم کے يکتا موتيوں کا ايک لامتناہي سلسلہ ہے۔ سرور کائناتﷺ کي سيرت طيبہ ميں زندگي کے ہر پہلو کي راہنمائي موجود ہے۔

پيارے آقاﷺ کي سيرت کے بيش بہا پہلوؤں سے ميں سے ايک پہلو اعتدال و ميانہ روي بھي ہے، اعتدال و ميانہ روي دين اسلام کا طرہ امتياز ہے۔ آپﷺ کا اٹھنا بيٹھنا، سونا جاگنا، تکلم وگفتگو کرنا، تجارت ومعاملات کرنا  الغرض آپﷺ کي ہر ادا ميانہ روي کي نماياں عکاسي کرتي ہے۔

خداتعاليٰ قرآن پاک ميں مسلمانوں کو ديني اور دنياوي ہر دو لحاظ سے ايک کامياب زندگي گذارنے کي طرف ہدايت ديتے ہوئے فرماتا ہے کہ:۔ وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْ لَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَلَا تَبْسُطْھَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا (بني اسرآئيل: ۳۰) ترجمہ:۔ اور تونہ (تو بخل سے) اپنے ہاتھ کو باندھ کراپني گردن ميں ڈال لے اور نہ (اسراف ميں پڑ کر) بالکل کھول دے ورنہ (يا تو ) تُو ملامت کا نشان بن کر يا تھکان کے اثر سے بيٹھ جائے گا۔

قرآن کريم ميں مومنوں کي ايک نيک عادت يہ بيان فرمائي ہے کہ:۔اور وہ (اللہ کے بندے) ايسے ہوتے ہيں کہ جب خرچ کرتے ہيں تو فضول خرچي سے کام نہيں ليتے اور نہ بخل کرتے ہيں اور ان کا خرچ ان دونوں حالتوں کے درميان ہوتا ہے۔ (سورة الفرقان ۶۸) اعتدال پسندي سے متعلق متعدد مقامات پر ہمارے پيارے نبي آنحضرتﷺ کي سوانح حيات ميں مثاليں ملتي ہيں۔ آپؐ فرماتے ہيں: ثلاث من الا خلاقِ الایمان، مَن اِذا غَضِبَ لَم ید خُل غضَبُہ فی باطلِ، ومَن اذا رَضِیَ لَمْ یَخرُجہ رِضاہ مِن حقِ، ومَن اذا قَدر لَم یَتَحَاط َما لیسَ لہ۔ترجمہ: تين (افعال)اخلاق ايمان کے لئے ضروري ہيں اول يہ کہ جب کسي مومن کو غصہ آئے تو و ہ غصہ اسے جھوٹ اور گنا ہ کي طر ف نہ لے جائے اور جب وہ خوش ہو تو اس کي خوشي اسے حق سے دور نہ لے جائے۔ اور جب اسے حکومت اور طاقت ملے تو وہ اپنے حق سے زيادہ پر قابض نہ ہو۔ (المعجم الصغير للطبراني باب من اسمہ احمد)

يعني روز مرہ کے ہر کام ميں انسان کو اَفراط اور تفريط کا شکار ہونے کي بجائے درمياني راہ نکالني چاہئے۔يعني سچے اور پختہ ايمان کا تقاضہ يہ ہے کہ انسان ان حالتوں ميں سے کسي ايک پر بھي ہو تو اپنے آپ کو قابو رکھتے ہوئے خالصتاً ديني امور کے تابع چلے اور اسي ميں کاميابي ہے۔ حضرت مسيح موعود عليہ السلام کي زندگي بھي اپنے آقاؐ کي طرح ميانہ رو تھي۔ حقوق العباد کے تمام فرائض کو اپني تمام تر قوتوں کے ساتھ اِسلامي اَحکامات کے اندر رہ کر ادا کيا۔ ايک آيت کي وضاحت ميں ميانہ روي پر عمل نہ کرنے کے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعو دؓ فرماتے ہيں:۔’’اس آيت ميں بتايا ہے کہ خرچ کے متعلق اس اصل کو مدنظر رکھو کہ نہ تو ہاتھ گردن سے بندھا رہے يعني ضرورت کے وقت بھي خرچ کرنے سے دريغ ہو اور نہ ہاتھ ہر وقت مال لٹانے کے لئے دراز رہے بلکہ چاہئے کہ تم ضرورت کے مطابق خرچ کرو۔ تا بے ضرورت خرچ تم کو اس وقت کي نيکي سے محروم نہ کردے جب خرچ کرنے کي کو ئي صحيح ضرورت پيدا ہوگئي ہو۔ يعني جب ضرورت کے وقت يہ پيسہ کام نہيں آسکتا تو قوم پر اس کا عيب ظاہر ہوجاتا ہے اور وہ سمجھ جاتے ہيں کہ يہ بے وقوف ہے اپنے مال کي حفاظت نہيں کرسکتا۔ اور يہ بھي کہ يہ دوسروں کا محتاج ہوجاتا ہے۔‘‘

(تفسير کبير جلد ۴ص ۳۲۵)

ميانہ روي کي يہ تعليم صرف اخراجات کے دوران ہي نہيں بلکہ زندگي کے ہر پہلو ميں خواہ وہ عبادت سے تعلق رکھتا ہو، خواہ تعليم کے ميدان ميں يا کسي اور ميدان ميں ميانہ روي پر عمل کرنے سے انسان دنيا اور آخرت ميں ہر دو لحاظ سے سرخرو ہوتا ہے۔ آج کل تمام دنيا جن پريشانيوں کے شکار ہے ان کي سب سے بڑي وجہ معاملات ميں اعتدال و ميانہ روي کا فقدان بھي ہے۔ کھانے پينے ميں بے اعتدالي کي وجہ سے پيٹ کي بيماريوں کا شکار ہو سکتے ہيں،۔ پيٹ بھر کر حد سے زيادہ مکس چيزيں کھا ليتے ہيں جو اکثر بيماري کا سبب بن جاتي ہيں اور بہت زيادہ کھا لينے سے سستي بھي آتي ہے جو ہماري عبادات ميں غفلت کي وجہ بن سکتي ہے۔عبادت ميں غفلت کرنے سے انساني پيدائش کا اصل مقصد حاصل نہيں ہو سکتا۔ اسي طرح جو لوگ بہت زيادہ پيسہ اپني روزمرہ فضول خرچيوں ميں اڑا ديتے ہيں تب مالي لحاظ سے پريشاني کا شکارہوجاتے ہيں اور پھر ضرورت پڑنے پر قرض لينا پڑتا ہے جو عمر کا کافي حصہ پھر قرض اتارتے ہوئے گزر جاتا ہے۔ حضرت عائشہ (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا) سے روايت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمايا درمياني چال اختيار کرو اور بلند پروازي نہ کرو۔ (صحيح البخاري) دنيا ميں نيک عمل کرنے والوں کي مثال ايسے ہے جيسے کہ ايک قافلہ سفر کے دوران اندھيري سرنگ سے گزر رہا تھا، ان کے پيروں ميں کنکرياں چبھيں، کچھ لوگوں نے اس خيال سے کہ کسي اور کو نہ چبھ جائيں اٹھا کر جيب ميں رکھ ليں، کچھ نے زيادہ اٹھائيں کچھ نے کم۔ جب اندھيري سرنگ سے باہر آئے توديکھا کہ وہ ہيرے تھے . جنہوں نے کم اٹھائے وہ پچھتائے کہ زيادہ کيوں نہيں اٹھائے۔ايک خوشحال اور پرسکون زندگي گزارنے کے ليے زندگي کے ہر شعبہ ميں اعتدال و ميانہ روي اختيار کرنے کي اشد ضرورت ہے کيونکہ کامياب اور خوشحال زندگي گزارنے ميں اعتدال و ميانہ روي بڑا اہم کردار ادا کرتي ہے۔

اللہ تعاليٰ سے دعا ہے کہ ہميں ہر معاملہ ميں بخل کرنے اور فضول خرچي سے بچنے کي توفيق عطا فرمائے۔ آمين 

پيارے آقا حضرت محمد مصطفيٰﷺ کي سيرت ايک ايسا بحر بے کنار ہے جس کے اندر ہرقسم کے يکتا موتيوں کا ايک لامتناہي سلسلہ ہے۔ سرور کائناتﷺ کي سيرت طيبہ ميں زندگي کے ہر پہلو کي راہنمائي موجود ہے۔

پيارے آقاﷺ کي سيرت کے بيش بہا پہلوؤں سے ميں سے ايک پہلو اعتدال و ميانہ روي بھي ہے، اعتدال و ميانہ روي دين اسلام کا طرہ امتياز ہے۔ آپﷺ کا اٹھنا بيٹھنا، سونا جاگنا، تکلم وگفتگو کرنا، تجارت ومعاملات کرنا  الغرض آپﷺ کي ہر ادا ميانہ روي کي نماياں عکاسي کرتي ہے۔

خداتعاليٰ قرآن پاک ميں مسلمانوں کو ديني اور دنياوي ہر دو لحاظ سے ايک کامياب زندگي گذارنے کي طرف ہدايت ديتے ہوئے فرماتا ہے کہ:۔ وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْ لَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَلَا تَبْسُطْھَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا (بني اسرآئيل: ۳۰) ترجمہ:۔ اور تونہ (تو بخل سے) اپنے ہاتھ کو باندھ کراپني گردن ميں ڈال لے اور نہ (اسراف ميں پڑ کر) بالکل کھول دے ورنہ (يا تو ) تُو ملامت کا نشان بن کر يا تھکان کے اثر سے بيٹھ جائے گا۔

قرآن کريم ميں مومنوں کي ايک نيک عادت يہ بيان فرمائي ہے کہ:۔اور وہ (اللہ کے بندے) ايسے ہوتے ہيں کہ جب خرچ کرتے ہيں تو فضول خرچي سے کام نہيں ليتے اور نہ بخل کرتے ہيں اور ان کا خرچ ان دونوں حالتوں کے درميان ہوتا ہے۔ (سورة الفرقان ۶۸) اعتدال پسندي سے متعلق متعدد مقامات پر ہمارے پيارے نبي آنحضرتﷺ کي سوانح حيات ميں مثاليں ملتي ہيں۔ آپؐ فرماتے ہيں: ثلاث من الا خلاقِ الایمان، مَن اِذا غَضِبَ لَم ید خُل غضَبُہ فی باطلِ، ومَن اذا رَضِیَ لَمْ یَخرُجہ رِضاہ مِن حقِ، ومَن اذا قَدر لَم یَتَحَاط َما لیسَ لہ۔ترجمہ: تين (افعال)اخلاق ايمان کے لئے ضروري ہيں اول يہ کہ جب کسي مومن کو غصہ آئے تو و ہ غصہ اسے جھوٹ اور گنا ہ کي طر ف نہ لے جائے اور جب وہ خوش ہو تو اس کي خوشي اسے حق سے دور نہ لے جائے۔ اور جب اسے حکومت اور طاقت ملے تو وہ اپنے حق سے زيادہ پر قابض نہ ہو۔ (المعجم الصغير للطبراني باب من اسمہ احمد)

يعني روز مرہ کے ہر کام ميں انسان کو اَفراط اور تفريط کا شکار ہونے کي بجائے درمياني راہ نکالني چاہئے۔يعني سچے اور پختہ ايمان کا تقاضہ يہ ہے کہ انسان ان حالتوں ميں سے کسي ايک پر بھي ہو تو اپنے آپ کو قابو رکھتے ہوئے خالصتاً ديني امور کے تابع چلے اور اسي ميں کاميابي ہے۔ حضرت مسيح موعود عليہ السلام کي زندگي بھي اپنے آقاؐ کي طرح ميانہ رو تھي۔ حقوق العباد کے تمام فرائض کو اپني تمام تر قوتوں کے ساتھ اِسلامي اَحکامات کے اندر رہ کر ادا کيا۔ ايک آيت کي وضاحت ميں ميانہ روي پر عمل نہ کرنے کے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعو دؓ فرماتے ہيں:۔’’اس آيت ميں بتايا ہے کہ خرچ کے متعلق اس اصل کو مدنظر رکھو کہ نہ تو ہاتھ گردن سے بندھا رہے يعني ضرورت کے وقت بھي خرچ کرنے سے دريغ ہو اور نہ ہاتھ ہر وقت مال لٹانے کے لئے دراز رہے بلکہ چاہئے کہ تم ضرورت کے مطابق خرچ کرو۔ تا بے ضرورت خرچ تم کو اس وقت کي نيکي سے محروم نہ کردے جب خرچ کرنے کي کو ئي صحيح ضرورت پيدا ہوگئي ہو۔ يعني جب ضرورت کے وقت يہ پيسہ کام نہيں آسکتا تو قوم پر اس کا عيب ظاہر ہوجاتا ہے اور وہ سمجھ جاتے ہيں کہ يہ بے وقوف ہے اپنے مال کي حفاظت نہيں کرسکتا۔ اور يہ بھي کہ يہ دوسروں کا محتاج ہوجاتا ہے۔‘‘

(تفسير کبير جلد ۴ص ۳۲۵)

ميانہ روي کي يہ تعليم صرف اخراجات کے دوران ہي نہيں بلکہ زندگي کے ہر پہلو ميں خواہ وہ عبادت سے تعلق رکھتا ہو، خواہ تعليم کے ميدان ميں يا کسي اور ميدان ميں ميانہ روي پر عمل کرنے سے انسان دنيا اور آخرت ميں ہر دو لحاظ سے سرخرو ہوتا ہے۔ آج کل تمام دنيا جن پريشانيوں کے شکار ہے ان کي سب سے بڑي وجہ معاملات ميں اعتدال و ميانہ روي کا فقدان بھي ہے۔ کھانے پينے ميں بے اعتدالي کي وجہ سے پيٹ کي بيماريوں کا شکار ہو سکتے ہيں،۔ پيٹ بھر کر حد سے زيادہ مکس چيزيں کھا ليتے ہيں جو اکثر بيماري کا سبب بن جاتي ہيں اور بہت زيادہ کھا لينے سے سستي بھي آتي ہے جو ہماري عبادات ميں غفلت کي وجہ بن سکتي ہے۔عبادت ميں غفلت کرنے سے انساني پيدائش کا اصل مقصد حاصل نہيں ہو سکتا۔ اسي طرح جو لوگ بہت زيادہ پيسہ اپني روزمرہ فضول خرچيوں ميں اڑا ديتے ہيں تب مالي لحاظ سے پريشاني کا شکارہوجاتے ہيں اور پھر ضرورت پڑنے پر قرض لينا پڑتا ہے جو عمر کا کافي حصہ پھر قرض اتارتے ہوئے گزر جاتا ہے۔ حضرت عائشہ (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا) سے روايت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمايا درمياني چال اختيار کرو اور بلند پروازي نہ کرو۔ (صحيح البخاري) دنيا ميں نيک عمل کرنے والوں کي مثال ايسے ہے جيسے کہ ايک قافلہ سفر کے دوران اندھيري سرنگ سے گزر رہا تھا، ان کے پيروں ميں کنکرياں چبھيں، کچھ لوگوں نے اس خيال سے کہ کسي اور کو نہ چبھ جائيں اٹھا کر جيب ميں رکھ ليں، کچھ نے زيادہ اٹھائيں کچھ نے کم۔ جب اندھيري سرنگ سے باہر آئے توديکھا کہ وہ ہيرے تھے . جنہوں نے کم اٹھائے وہ پچھتائے کہ زيادہ کيوں نہيں اٹھائے۔ايک خوشحال اور پرسکون زندگي گزارنے کے ليے زندگي کے ہر شعبہ ميں اعتدال و ميانہ روي اختيار کرنے کي اشد ضرورت ہے کيونکہ کامياب اور خوشحال زندگي گزارنے ميں اعتدال و ميانہ روي بڑا اہم کردار ادا کرتي ہے۔

اللہ تعاليٰ سے دعا ہے کہ ہميں ہر معاملہ ميں بخل کرنے اور فضول خرچي سے بچنے کي توفيق عطا فرمائے۔ آمين