//اداریہ
editorial

اداریہ

سال نَو

ادارہ آبگينے اپنے تمام قارئين کرام کي خدمت ميں سال نَو کي مبارکباد پيش کرتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ اللہ تعاليٰ اس سال نَو کو ہمارے لئے خير وبرکت کا موجب بنائے ۔آمين۔

يہ نيا سال ہم پر بہت کچھ ذمہ دارياں بھي ڈالتا ہے ۔ ہم نے يہ ديکھنا ہے کہ گذشتہ سال ہم نے کونسے ايسے کام سر انجام دئيے ہيں جو ہماري ذات، ہماي جماعت، ہمارے دين اور ہماري دنيا کے لئے اہم تھے يا کيا ہم نے اپنا وقت روزمرہ کي ضروريات کے مہيا کرنے اور پيٹ کے دھندوں ميں تو صرف نہيں کيا اور اگر بد قسمتي سےگذشتہ سال بيکار گيا ہے تو پيارے خدا نے ہميں يہ موقع ديا ہے کہ ہم اس سال اس کي کمي کو پورا کر ديں۔اپني ذات اور اپنے عزيزوں کے لئے ٹھوس اور مفيد پروگرام بنائيں اور سلسلہ کے مفاد کے لئے بے غرضي اور بے نفسي سے کام کرتے چلے جائيں اور پھر جب اگلا سال آئے تو ہم اپنے دلوں ميں ندامت کي بجائے مسرّت محسوس کريں ۔

حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہيں،”دن آتے بھي ہيں اور جاتے بھي ہيں ، سال شروع بھي ہوتے ہيں اور ختم بھي ہوتے ہيں۔بظاہر تو يہ ايک معمولي اور بے اثر سي چيز نظر آتي ہے۔ ايک تسلسل ہے جس کي انتہا کو دنيا کا کوئي انسان نہيں جانتا ، نہ آج سے دو ہزار سال قبل کے لوگ ہماري حالتوں سے واقف تھے اور نہ آج سے دو ہزار سال بعد کے لوگوں کے حالات سے ہم واقف ہيں بلکہ ہم ان لوگوں سے بھي کَمَا حَقَّہ واقف نہيں جو آج سے دو ہزار سال قبل گزر چکے ہيں…پس بات يہ ہے کہ ہم کچھ بھي نہيں جانتے ليکن پھر بھي ہر سال اپنے اپنے ساتھ نئي امنگيں لاتا ہے”۔

گزرا ہوا سال تلخ تجربات، حسيں ياديں، خوشگوار واقعات اور غم و الم کے حادثات چھوڑ کر رخصت ہوجاتا ہے اور انسان کو زندگي کي بے ثباتي اور نا پائيداري کا پيغام دے کر الوداع کہتا ہے، سال ختم ہوتاہے تو حيات مستعار کي بہاريں بھي ختم ہوجاتي ہيں اور انسان اپني مقررہ مدت زيست کي تکميل کي طرف رواں دواں ہوتا رہتا ہے۔ کسي شاعر نے کيا خوب کہا ہے:

غافل تجھے گھڑيال يہ ديتا ہے منادي

گِردوں نے گھڑي عمر کي ايک اور گٹھا دي

يہ عمر اور زندگي جو ہم کو عطا ہوئي ہے وہ صرف آخرت کي ابدي زندگي کي تياري کي خاطر عطا ہوئي ہے۔

بعض کتب حديث ميں يہ روايت ہے کہ جب نيا مہينہ يا نئے سال کا پہلا مہينہ شروع ہوتا تو اصحاب رسول ﷺ ايک دوسرے کو يہ دعا سکھاتے اور بتا تےتھے:

‘‘اللّٰہُمَّ أدْخِلْہُ عَلَیْنَا بِالأمْنِ وَ الإیْمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالإسْلَامِ، وَرِضْوَانٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ وَجِوَازٍمِّنَ الشَّیْطَانِ’’

ترجمہ: اے اللہ اس نئے سال کو ہمارے اوپر امن وايمان، سلامتي و اسلام او راپني رضامندي؛ نيز شيطان سے پناہ کے ساتھ داخل فرما۔آمين۔

(المعجم الاوسط للطبراني ۶/۲۲۱ حديث: ۶۲۴۱ دارالحرمين قاہرہ)

اس دعا کو پڑھنا چاہيے ؛ نيز اس وقت مسلمانوں کو دو کام خصوصاً کر نے چاہئيں يا دوسرے الفاظ ميں کہ ليجيے کہ نيا سال ہميں خاص طور پر دو باتوں کي طرف متوجہ کرتا ہے : (۱) ماضي کا احتساب (۲) آگے کا لائحہ عمل۔

نئے سال کا آغاز ذکر الٰہي سے کرنا چاہئيے۔ نفل پڑھيں، صدقہ نکاليں اور اپنے پيارے خدا کا شکر عطا کرتے ہوئے کہ اس نے ہميں ايک نئے سال ميں داخل کيا ہے۔

ماضي کا احتساب:نيا سال ہميں ديني اور دنيوي دونوں ميدانوں ميں اپنا محاسبہ کرنے کي طرف متوجہ کرتاہےکہ ہماري زندگي کا جو ايک سال کم ہوگيا ہے اس ميں ہم نے کيا کھويا اور کيا پايا؟ہميں عبادات، معاملات، اعمال، حلال و حرام، حقوق اللہ اور حقوق العباد کي ادائيگي کے ميدان ميں اپني زندگي کا محاسبہ کرکے ديکھنا چاہيے کہ ہم سے کہاں کہاں غلطياں ہوئيں؛ اس ليے کہ انسان دوسروں کي نظروں سے تو اپني غلطيوں اور کوتاہيوں کو چھپا سکتا ہے؛ ليکن خود کي نظروں سے نہيں بچ سکتا؛ اسي ليے نبي کريم صلي اللہ عليہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ”حَاسِبُوْا أنْفُسَکُمْ قَبْلَ أنْ تُحَاسَبُوْا“۔ (ترمذي ۴/ ۲۴۷ ابواب الزہد، بيروت) ترجمہ: تم خود اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا حساب کيا جائے۔اس لئے ہم سب کو ايمان داري سے اپنا اپنا موٴاخذہ اور محاسبہ کرنا چاہئيے اور حاصل شدہ مہلت کا فائدہ اٹھانا چاہئے؛ اس سے پہلے کہ يہ مہلت ختم ہوجائے ۔

 اللہ تعاليٰ نے قرآن پاک ميں ارشاد فرمايا ہے:۔ ترجمہ: اور خرچ کرو اس ميں سے جو ہم نے تمہيں ديا ہے پيشتر اس کے کہ تم ميں سے کسي کو موت آجائےتو وہ کہے اے ميرے رب !کاش تونے مجھے تھوڑي سي مدت تک مہلت دي ہوتي تو ميں ضرور صدقات ديتا اور نيکوکاروں ميں سے ہو جاتا ۔ اور اللہ کسي جان کو، جب اس کي مقررہ مدت آ پہنچي ہو ، پر گز مہلت نہيں دے گا اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ہميشہ باخبر رہتا ہے۔

(سورة المنا فقون، آيات: ۱۲،۱۱)

آگے کا لائحہ عمل:

اپني خود احتسابي اور جائزے کے بعد اس کے تجربات کي روشني ميں بہترين مستقبل کي تعمير اور تشکيل کے منصوبے ميں منہمک ہونا ہوگا کہ کيا ہماري کمزورياں رہي ہيں اور ان کو کس طرح دور کيا جاسکتا ہے؟ دور نہ سہي تو کيسے کم کيا جاسکتا ہے؟

انسان غلطي کا پتلا ہے اس سے غلطياں تو سرزد ہوں گي ہي ، کسي غلطي کا ارتکاب تو برا ہے ہي اس سے بھي زيادہ برا يہ ہے کہ اس سے سبق حاصل نہ کيا جائے اور اسي کا ارتکاب کيا جاتا رہے۔يہ منصوبہ بندي ديني اور دنيوي دونوں معاملات ميں ہو جيساکہ حديث سے معلوم ہوتاہے۔ نبي کريم ﷺکا ارشاد ہے: ۔ترجمہ: پانچ چيزوں سے پہلے پانچ چيزوں کو غنيمت جان لو (۱) اپني جواني کو بڑھاپے سے پہلے (۲) اپني صحت و تندرستي کو بيماري سے پہلے (۳) اپني مالداري کو فقروفاقے سے پہلے (۴) اپنے خالي اوقات کو مشغوليت سے پہلے (۵) اپني زندگي کو موت سے پہلے۔(مشکاة المصابيح ۲/۴۴۱ کتاب الرقاق)

 آخرت کي زندگي کي کاميابي اور ناکامي کا دارومدار اسي دنيا کے اعمال پر منحصر ہے۔ جيساکہ ارشاد رباني ہے:” وَأنْ لَیْسَ لِلإنْسَانِ إلاَّ مَاسَعٰی، وَأنَّ سَعْیَہ سَوْفَ یُرٰی، ثُمَّ یُجْزَاہُ الْجَزَاءَ الاَوْفیٰ“۔ (سورةالنجم: آيات ۔۴۰،۴۱،۴۲)

ترجمہ: اور يہ کہ انسان کے لئے اس کے سوا کچھ نہيں جو اس نے کوشش کي ہو۔ اور يہ کہ اس کي کوشش ضرور زير نظر رکھي جائے گي۔ پھر اسے اس کي بھرپور جزا دي جائے گي۔

اے اللہ ہمارے ليے نيا سال وقت کي قدر کرتے ہوئے آنے والے لمحا تِ زندگي کا صحيح استعمال کرنے والا بنائے اور ہم از سر نو عزائم کو بلند کرنے اور حوصلوں کو پروان چڑھانے والے بنيں۔ خدا تعاليٰ ہم سب کو مخلصانہ کام کي توفيق بخشے ۔ آمين۔