//اداریہ
editorial

اداریہ

مدثرہ عباسی ۔ مدیرہ

سب سے پہلے تو يہ جاننا چاہئے کہ حسن ظن کيا ہے؟ حسن کا مطلب ہے اچھا اورلفظ ظن اردو زبان ميں عربي زبان سے ماخوذ ہے جہا ں اس کے عام معني کچھ گمان ‘فرض ‘فکر  خيال کرنے يا اندازہ لگانے کے ہوتے ہيں. اسي لئے جب کسي کے بارے ميں کسي کا حسن ظن رکھنا کہا جاتا ہے تو اس سے مراد کسي کے بارے ميں اچھا اور نيک خيال اور فکر رکھنا ہوتا ہے۔ ظن کے اس معني کي بنياد پراور عربي ميں سوء کے معني برائي ہونے کے سبب اس کي ضد ’’سوء ظن‘‘ سے مراد کسي کے بارے ميں برا يا ناپسنديدہ گمان خيال يا فکر رکھنا مانا جاتا ہے. دونوں صورتوں ميں کيونکہ يہ انساني فکر اور تصور سے متعلق ايک کيفيت ہوتي ہے اس لئے علم اخلاق ميں کسي انسان کا ہر کسي کے بارے ميں نيک اور اچھا تصور رکھنا ايک نيک اور صحتمند انساني عادت ماني جاتي ہے جبکہ کسي کے بارے ميں سوء ظن يعني بغير وجہ کے برا گمان يا خيال رکھنا ايک انساني عيب اور برائي تصور کيا جاتا ہے۔

قرآن کريم ميں ارشاد الہٰي ہے کہ:

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اجْتَنِبُوْ اکَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ ِانَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ o (الحجرات: ۱۳)

اے ايمان والو!بہت سے گمانوں سے بچتے رہا کرو کيونکہ بعض گمان گناہ بن جاتے ہيں۔

اللہ تعاليٰ مومنوں ميں محبت، پيار اور بھائي چارہ قائم کرنا چاہتا ہے اور يہ حسنِ ظن سے پيدا ہوتا ہے۔پس فرمايا کہ بدظني سے بچو بدظني گمراہ کي طرف لے جاتي ہے جو نہ صرف انسان کي اپني جان کے لئے نقصان دِ ہ ہے بلکہ يہ ايک ايسا گناہ ہے جو معاشرے کے امن کو بھي برباد کر ديتا ہے۔دلوں ميں دورياں پيدا ہوتي ہيں پس خدا تعاليٰ نے اسے بہت بڑا گناہ قرار ديا ہے۔ايک ايسا گناہ جو انسان بعض اوقات اپني انا کي تسکين کے لئے کر رہا ہوتا ہے۔ پھر فرمايا تجسس نہ کرو، تجسس بھي بعض اوقات بدظني کي وجہ سے پيدا ہوتا ہے۔

 حسن ظن اور سوئے ظن ميں کيا فرق ہے؟ اگر آپ کسي آدمي کو روتا ہوا ديکھيں تو حسن ظن رکھنے والا شخص يہ کہے گا کہ اس پر کوئي مصيبت آن پڑي ہے اور مجھے اس کي ہر ممکن مدد کرني چاہئے۔ اس کے برعکس سوئے ظن رکھنے والا شخص کہے گا کہ اس نے کوئي غلط کام کيا ہے اس لئے اچھا ہؤا جو بھي ہؤا۔ آپ کي اس منفي سوچ کے سبب نہ صرف وہ شخص مزيد پريشان ہوگابلکہ اُلٹا اپني اس عادت ميں ِگھر جائے گااور آپ سے بھي متنفر ہوجائے گا۔ ہميں چاہئے کہ ہم جہاں تک ہوسکے کسي سے متعلق بد گماني کرنے سے بچيں کيونکہ يہ ايک گناہ بھي بن سکتي ہے اور جب تک کسي معاملے سے متعلق خوب وضاحت نہ ہوجائے ہم اپني طرف سے قياس آرائياں نہ کريں بلکہ ہميشہ ايک مثبت اور پائيدار سوچ کے مالک ہوں۔ پيارے نبي اکرمﷺ نے فرمايا کہ حسن الظن من حسن العبادة (مسند احمد وابو داؤد)

ايک بہت پيارا اور حسن ظني سے بھر پور واقعہ ہے، جو حضرت عيسيٰؑ کا ہے۔ آنحضرتؐ فرماتے ہيں کہ حضرت عيسيٰ ؑنے ايک مرتبہ ايک شخص کو چوري کرتے ديکھا مگر اس شخص نے بعد ميں خدا کي قسم کھا کر انکار کرديا۔ جس پر حضرت عيسيٰ عليہ السلام نے کہا کہ ميں تمہاري قسم پر اعتبار کرتا ہوں اور اپنے آپکو جھٹلاتا ہوں۔ يعني آپؑ نے ايک شخص کے قسم کھا لينے پر کمال حسنِ ظن سے کام ليا حالانکہ آپ نے خوداسے ديکھا تھا مگر کسي قسم کي سختي اور جھگڑے سے کام نہ ليا اور معاملہ خداتعاليٰ کے حوالے کرديا۔

 حضرت اقدس عليہ السلام فرماتے ہيں:۔’’ميں ديکھتا ہوں کہ اس وقت اخلاقي حالت بہت ہي گري ہوئي ہے۔ اکثر لوگوں ميں بد ظني کا مرض بڑھا ہؤا ہوتا ہے۔ وہ اپنے بھائي کي نسبت برے برے خيالات کرنے لگتے ہيں اور ايسے عيوب اس کي طرف منسوب کرنے لگتے ہيں کہ اگر وہي عيب ان کي طرف منسوب ہوں تو ان کو سخت ناگوار معلوم ہوں۔ اس لئے اوّل ضروري ہے کہ حتّي الوسع اپنے بھائيوں پر بد ظني نہ کي جائے۔ اور ہميشہ نيک ظن رکھا جائے کيونکہ اس سے محبت بڑھتي ہے اور انس پيدا ہوتا ہے۔ اور آپس ميں قوت پيدا ہوتي ہے اور اس کے باعث انسان بعض دوسرے عيوب مثلا کينہ، بغض، حسد سے بچا رہتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد ۴ ص ۲۱۵۔ ۲۱۴)

حضرت خليفة المسيح اوّل رضي اللہ عنہ فرماتے ہيں کہ :’’نصيحت کے طورپرکہتاہوں کہ اکثر سوء ظنيوں سے بچو(بدظنيوں سے بچو)۔ اس سے سخت سخن چيني اور عيب جوئي کي عادت بڑھتي ہے۔ (جب بدظنياں کروگے تو عيب تلاش کرنے کي عادت بھي پڑے گي)۔ اسي واسطے اللہ کريم فرماتاہے {وَلاَ تَجَسَّسُوْا} تجسس نہ کرو۔ تجسس کي عادت بدظني سے پيدا ہوتي ہے۔ جب انسان کسي کي نسبت سوء ظن کرتاہے يا بدظني کرتاہے تو اس کي وجہ سے ايک خراب رائے قائم کر ليتاہے تو پھرکوشش کرتاہے کہ کسي نہ کسي طرح اس کے کچھ عيب بھي مجھے مل جائيں، اس کي کچھ برائياں بھي نظر آجائيں۔ اورپھر عيب جوئي کي کوشش کرتااور اسي جستجو ميں مستغرق رہتاہے۔ (يعني کہ اتنا ڈوب جاتاہے عيب کي تلاش ميں کہ جس طرح کوئي بہت اہم کام کررہا ہے)۔ اور يہ خيال کر کے کہ اس کي نسبت مَيں نے جو يہ خيال ظاہر کياہے اگر کو ئي پوچھے تو پھر اس کو کيا جواب دوں گا۔ (يعني يہ سوچتا رہتاہے کہ مَيں ايک دفعہ اس کے بارہ ميں ايک رائے قائم کرچکاہوں اگرکوئي اس کي دليل مانگے تو تمہارے پاس اس کي برائي کا ثبوت کياہے تو جواب کيا دوں گا۔ تو اس جواب کو تلاش کرنے کے لئے مستقل اس جستجو ميں رہتاہے، اس کوشش ميں رہتاہے کہ اس کي مزيد برائياں نظر آئيں۔ تو فرماتے ہيں کہ اپني بدظني کو پورا کرنے کے لئے تجسس کرتاہے، پھر تجسس سے غيبت پيدا ہوتي ہے جيسے اللہ کريم نے فرماياکہ{وَلَايَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا}۔ غرض خوب ياد رکھو سوء ظن سے تجسس اور تجسس سے غيبت کي عادت شروع ہوتي ہے… اگر ايک شخص روزے بھي رکھتاہے اور غيبت بھي کرتاہے تجسس اور نکتہ چينيوں ميں مشغول رہتاہے تو وہ اپنے مردہ بھائي کا گوشت کھاتاہے جيسے فرمايا{ اَ یُحِبُّ اَحَدَکُمْ اَنْ یَّاْکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِھْتُمُوْہُ}۔

حضرت خليفة المسيح الاولؓ فرماتے ہيں کہ: ’’اس لئے مَيں تمہيں نصيحت کرتاہوں اور درددل سے کہتاہوں کہ غيبتوں کو چھوڑ دو۔ بغض اور کينے سے اجتناب کرو اور بکلي پرہيزکرو اور بالکل الگ تھلگ رہو، اس سے بڑافائدہ ہوگا۔ انسان خود بخود اپنے آپ کو پھندوں ميں پھنساليتاہے ورنہ بات سہل ہے، بڑي آسان بات ہے۔ جو لوگ دوسروں کي نکتہ چينياں اور غيبتيں کرتے ہيں اللہ کريم ان کو پسند نہيں کرتا۔ اگر کسي ميں کوئي غلطي ديکھو تو خداتعاليٰ اس کو راہ راست پرچلنے کي توفيق ديوے۔ ياد رکھواللہ کريم{تَوَّابٌ رَّحِيْمٌ}ہے۔ وہ معاف کرديتاہے۔ جب تک انسان اپنا نقصان نہ اٹھائے اور اپنے اوپر تکليف گوارا نہ کرے کسي دوسرے کو سُکھ نہيں پہنچا سکتا۔ (اس لئے) بدصحبتوں سے بکلي کنارہ کش ہوجاؤ۔ پھر حضرت ابوہريرہؓ بيان کرتے ہيں کہ آنحضرتﷺ نے فرمايا :انسان بعض اوقات بے خيالي ميں اللہ تعاليٰ کي خوشنودي کي کوئي بات کہہ ديتاہے جس کي وجہ سے اللہ تعاليٰ اس کے درجات بے انتہا بلند کر ديتاہے اور بعض اوقات وہ لاپرواہي ميں اللہ تعاليٰ کي ناراضگي کي کوئي بات کر بيٹھتاہے جس کي وجہ سے وہ جہنم ميں جا گرتاہے۔ (بخاري کتاب الرقاق باب حفظ اللسان…)اب يہ بھي اللہ تعاليٰ کااحسان ہے کہ وہ اپنے بندوں پر کتنا مہربان ہے، کہ فرمايااگر اس قسم کي باتيں پہلے کربھي چکے ہو، تو استغفار کرو، اللہ کا تقويٰ اختيار کرو، اپنے رويّے درست کرو، مَيں يقينا بہت رحم کرنے والا، توبہ قبول کرنے والاہوں۔ مجھ سے بخشش مانگو تومَيں رحم کر تے ہوئے تمہاري طرف متوجہ ہوں گا۔ (خطبہ جمعہ 26؍ دسمبر 2003ءفرمودہ حضرت خليفة المسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز)

حضرت خليفتہ المسيح الرابعؒ بد ظني سے منع فرماتے ہوئے نصيحت کرتے ہيں کہ’’بدظني سے بچو کيونکہ بد ظني سخت قسم کا جھوٹ ہے اور بد ظني ايک ايسي چيز ہے جو بسا اوقات ہمارے معاشرے ميں اتني پائي جاتي ہے کہ بد ظني کے بعد پھر اور کہانيا ں بنتي چلي جاتي ہيں۔ اور انسان کہتا ہے کہ فلاں نے يہ کام کيا يوں کيا ہوگا۔ ايسابے ہودہ طريق ہے جو آنحضرتﷺ کي کھلي نصائح کو ترک کرنے اور ان کو اہميت نہ دينے کے نتيجے ميں ہماري سوسائٹي ميں رفتہ رفتہ پيدا ہوجاتا ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ۲۵نومبر۱۹۹۵ء)حضرت عبداللہ بن بُسر بيان کرتے ہيں کہ رسول اکرمﷺ نے فرمايا :حاسد، چغل خور اور کاہن مجھ ميں سے نہيں اور مَيں ان ميں سے نہيں۔ پھر ايک حضرت ابوہريرہؓ کي روايت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمايا :اپنے بھائي کي آنکھ کا تنکا تو انسان کونظر آجاتاہے ليکن اپني آنکھ ميں پڑا ہوا شہتير وہ بھول جاتاہے۔ (يعني بھائي کي چھوٹي سے چھوٹي برائي تو نظرآ جاتي ہے اپني بڑي بڑي برائياں بھي نظر نہيں آتيں)۔ آج بھي ديکھ ليں چغل خور يا دوسروں کي غيبت کرنے والے، بڑھ بڑھ کر باتيں کرنے والے خود ان تمام برائيوں ميں بلکہ ان سے بڑھ کر برائيوں ميں مبتلا ہوتے ہيں جو وہ اپنے بھائي کے متعلق بيان کر رہے ہوتے ہيں۔ اور پھر ان کي بے شرمي کي يہ بھي انتہا ہے کہ ان کي برائيوں کا کھلے عام بعض لوگوں کو علم بھي ہوتاہے پھر بھي ان کو شرم نہيں آ رہي ہوتي کہ ہم پہلے اپني اصلاح کريں بجائے اس کے کہ اپنے بھائي کي برائياں کريں۔ سب سے اچھي بات تو يہ ہے کہ اگر صحيح درد ہے معاشرے کا، معاشرے کي اصلاح کرنا چاہتے ہيں، صرف مزے لينے کے لئے اور لوگوں کي ٹانگيں کھينچنے کے لئے باتيں نہيں کہ ان کو لوگوں کي نظرو ں سے گراؤں، افسروں کي نظروں سے گراؤں اور اپني پوزيشن بناؤں۔ تو ايسے لوگ بھي جيسا کہ حديث ميں آتاہے کہ اس نصيحت پر عمل کرتے ہيں کہ حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ اگر تو اپنے کسي ساتھي کے عيوب بيان کرنا چاہے تو پہلے ايک نظر اپنے عيوب پر ڈال لے۔ کسي کے عيب بيان کر نے سے پہلے اپنے عيبوں پر نظر ڈالو۔

اسي بارہ ميں حضرت اقدس عليہ السلام نے اپنے ايک شعر ميں فرمايا کہ:

بدي پر غير کي ہر دم نظر ہے

مگر اپني بدي سے بے خبر ہے

آنحضرتﷺ سے غيبت کا حال کسي نے پوچھا تو فرمايا کہ کسي کي سچي بات کا اس کي عدم موجودگي ميں اس طرح بيان کر نا کہ اگر وہ موجود ہو تو اسے برا لگے۔ پيچھے سے کسي کي بات چاہے وہ صحيح ہو اس طرح بيان کرنا کہ اگر اس کے سامنے کرتے تواس کو برا لگتا، غيبت ہے۔ اور اگر و ہ بات اس ميں نہيں اور پھر تم بيان کر رہے ہو تو يہ بہتان ہے، يہ جھوٹ ہے، اس پر الزام ہے۔حضرت اقدسؑ فرماتے ہيں کہ بيعت کي خالص اغراض کے ساتھ جو خداترسي اور تقويٰ پر مبني ہيں، دنيا کے اغراض کو ہرگز نہ ملاؤ، نمازوں کي پابندي کرو اور توبہ و استغفار ميں مصروف رہو۔ نوعِ انسان کے حقوق کي حفاظت کرو اور کسي کو دُکھ نہ دو۔ راستبازي اور پاکيزگي ميں ترقي کرو تو اللہ تعاليٰ ہر قسم کا فضل کردے گا۔ عورتوں کو بھي اپنے گھروں ميں نصيحت کرو کہ وہ نماز کي پابندي کريں اور ان کو گلہ شکوہ اور غيبت سے روکو۔ پاکبازي اور راستبازي ان کو سکھاؤ، ہماري طرف سے صرف سمجھانا شرط ہے اس پر عملدرآمد کرنا تمہارا کام ہے‘‘۔ (الحکم ۱۷؍ اکتوبر۱۹۰۳ء، ملفوظات جلد ششم صفحہ۱۴۶)

اللہ تعاليٰ ہميں ان نصائح پر عمل کرنے کي توفيق دے۔ اور غيبت جو ايسي بيماري ہے جو بعض دفعہ غير محسوس طريق پر اپني لپيٹ ميں لے ليتي ہے اس سے سب کو بچائے۔ بہرحال جس طرح فرماياہے استغفار کي بہت زيادہ ضرورت ہے۔ اللہ تعاليٰ ہماري بخشش کے سامان پيدا فرمائے اور ہماري توبہ قبول فرمائے۔آمين