//اخبار فروش

اخبار فروش

تحریر قرۃالعین فاروق حیدرآباد

سليم اخبار کا اسٹال لگاتا وہ صبح سويرے ہي اپنے اسٹال پر آکر بيٹھ جاتا سليم کے اسٹال پر عمير اپنے دادا جي کے ساتھ بچپن سے آرہا تھا ان کا گھر اسي گلي ميں تھا اس کے دادا جي اسے اسکول چھوڑنے جاتے تو واپسي پر سليم سے اخبار خريدتے ہوئے جاتے اس وقت سليم بھي نوجوان تھا اسے يوں عمير کا دادا جي کے ساتھ اسکول جانا اور واپسي پر اخبار خريدتے ہوئے گھر لے جانا بہت اچھا لگتا کبھي کبھي دادا جي وہيں اس کے اسٹال پر کھڑے ہوکر اخبار کي شہ سرخياں پڑھنے کھڑے ہو جاتے اور ملک کے حالات و واقعات پر افسوس کرتے جاتے سليم کو ان باتوں کي زيادہ سمجھ تو نہ تھي اور نہ ہي وہ زيادہ پڑھا لکھا تھا مگر پھر بھي وہ دادا جي کي باتيں غور سے سنتا اگر زيادہ دير ہوجاتي تو وہ انہيں اسٹول پر بٹھا ديتا اور خود ادب سے ايک طرف کھڑا ہو جاتا.

اسي طرح سليم کو اسٹال لگائے سالوں بيت گئے نہ دادا جي رہے اور نہ ہي لوگوں کو اخبار بيني کا اتنا شوق رہا مگر سليم کا اسٹال جوں کا توں اسي جگہ رہا عمير بھي بچپن سے جواني کي طرف بڑھ گيا وہ اب زيادہ تو اسٹال پر نہ آتا مگر اس کے ابا اب اسٹال سے اخبار خريدتے پھر ايک دن اچانک خبر آئي کہ عمير کے والدين کا انتقال ہو گيا ان کا شديد ايکسيڈنٹ ہوا جو ان کي جان لے گيا، عمير کي تينوں بہنيں شادي شدہ تھيں اور دونوں بھائي ملک سے باہر اپني اپني فيملي کے ساتھ رہ رہے تھے يہاں عمير اکيلا رہ گيا اب گھر ميں صرف وہ ہوتا يا تنہائي ہوتي.

عمير اکثر اداس رہتا تو کچھ نہ کچھ شعر يا کہانيوں کي صورت ميں لکھ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتا ايک دن يونہي لکھتے وقت اسے خيال آيا کہ کيوں نہ اپني لکھي ہوئي کہاني کسي رسالے ميں بھيجوں اس کے سالانہ امتحانات بھي نزديک آرہے تھے مگر پھر بھي اس نے وقت نکال کر کہاني لکھ کر رسالے ميں بھيج دي امتحانات کي وجہ سے وہ اتنا مصروف ہوا کہ اسے کہاني کا خيال ہي نہ رہا اور وہ اسے بھول بھال گيا.

سليم کبھي کبھي اس گھرانے کے بارے ميں سوچتا کہ کيسا ہنستا بستا بھرا گھرانہ تھا مگر اب آہ سليم عمير کو اکثر اپنے پاس بھٹا ليتا اور اس کي دل جوئي کرتا اکثر اسے پتہ نہيں چلتا کہ سليم يا باقي لوگ اس سے کيا بات کررہے ہيں کبھي اس کا دماغ ايک دم ماؤف ہوجاتا، وہ شروع سے ہي الگ تھلگ رہنے والا بچہ تھا تو اس کے اتنے دوست بھي نہ تھے.

ايک دن عمير سليم کے اسٹال پر بيٹھا اس کے قصے سن رہا تھا کہ ايک پڑوسي بزرگ ايک رسالہ لينے آئے رسالہ لے کر گئے ابھي بيس منٹ ہي ہوئے تھے کہ وہ واپس پلٹ کے آئے اور عمير سے مخاطب ہوئے

تم نے کوئي کہاني ’’وہ بھي کيا دن تھے ‘‘کہ نام سے رسالے ميں بھيجي تھي کيونکہ تمہارا خانداني نام اور شہر کا نام پڑھ کر مجھے لگا۔

“ جي” عمير کو جيسے ايک دم ياد آگيا

“ تمہاري کہاني چھپي ہے رسالے ميں”

“پوري پڑھئے گا انکل بيتے دنوں کي يادوں کو کہاني کي شکل ميں لکھا ہے “

“ بيتے دنوں کي يادوں کو کيا مطلب تمہاري عمر ہي کتني ہے جو يادِماضي پر کہاني لکھ ڈالي “

“ انکل ان بائيس سالوں ميں ميں نے بہت سے لوگ کھوئے اور اب ايسا لگتا ہے کہ اپنا آپ بھي کہيں کھو سا گيا ہے “

“ بچے ہمت کرو تمہاري پوري زندگي پڑي ہے ان دکھوں پر غمزدہ ہونے کي بجائے ان دکھوں سے نکلنے کا کوئي حل نکالو ورنہ تم تو يونہي جواني ميں ہي بوڑھے ہوجاؤ گے اور ہم بوڑھوں سے پوچھو بڑھاپا کيا ہوتا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ تمہارے والدين حيات نہيں مگر جو حيات ہيں ان سے رابطہ جوڑے رکھو ورنہ يونہي تنہا رہتے رہتے زندگي اچھي يا بري گذر ہي جائے گي مگر اصل مقصد زندگي گزارنا نہيں ہوتا اسے اچھے سے جينا ہوتا ہے “ يہ کہہ کر وہ انکل وہاں سے چلے گئے

سليم نے عمير کو رسالہ نکال کر ديا عمير کو اپنا نام اخبار ميں ديکھ کر پہلے تو يقين نہ آيا مگر ساتھ ساتھ اپنے اندر ايک خوشي اُترتي محسوس ہوئي اور تھوڑي دير کے ليے وہ اپنے سارے غم بھول گيا اور رسالے کے پيسے سليم کو دينے لگا اس نے پيسے لينے سے انکار کر ديا اور کہا “يقين جانئيے آپ کو اس طرح سے اتنے عرصے بعد خوش ديکھ کر مجھے بہت خوشي ہو رہي ہے اور ميں آپ کو خوش ديکھ کر پيسے نہيں لوں گا آپ ميرے بچوں کي طرح ہيں‘‘ …مگر‘‘…اگر مگر کچھ نہيں آپ مجھے اپني کہاني پڑھ کر سنائيے تو سمجھيں پيسہ وصول ہوگيا” پھر عمير نے سليم کو کہاني پڑھ کر سنائي تو سليم کي آنکھوں ميں خوشي کے آنسو آگئے اس کے آنسو ديکھ کر عمير بھي رو پڑا‘‘

“ بيٹا ايک کام کرنا آپ کبھي لکھنا مت چھوڑنا کيونکہ آپ کے غم لکھ کر ہي باہر آسکتے ہيں اگر يہ اندر ہي پڑے رہے تو ايک دن يونہي اپنے غم چھپائے چھپائے بيمار پڑ جائيں گے اور يہ غم آپ کو آہستہ آہستہ ديمک کي طرح کاٹ کھائيں گے”

عمير کو سليم اور پڑوسي انکل کي بات سے تھوڑا حوصلہ ملا، وہ گھر آيا تو خالي گھر اس کو منہ چڑا رہا تھا تھوڑي دير وہ سوگ کي کيفيت ميں رہا مگر آج ايک خوشي ايک سرور بھي اس پر طاري تھا وہ رسالے کو ہاتھ ميں تھامے کافي دير اپني تحرير کي طرف ديکھتا رہا اور خوش ہوتا رہا جانے وہ کب تک اسي کيفيت ميں بيٹھا رسالے کو ديکھتا رہا

عمير نے اردو ادب ميں ايم اے کرليا ساتھ يونيورسٹي ميں پڑھانا بھي شروع کر ديا ساتھ ساتھ وہ کچھ نہ کچھ اخبارات ميں لکھ کر بھيجنے بھي لگا اس کے دونوں کام پڑھانے اور لکھنے کے اچھے چلنے لگے

ايک دن عمير يونيورسٹي سے گھر آرہا تھا کہ اچانک اس کي نظر سليم پر پڑي اور وہ رک کر اسے غور غور سے ديکھنے لگا

“کيا ديکھ رہے ہو صاحب” سليم نے تھکي تھکي آواز ميں کہا

“آپ مجھے کافي تھکے ہوئے اور بيمار لگ رہے ہيں”

“ہاں بيٹا اب پہلے جيسي بات کہاں”

“آپ نے اپنا چيک اپ کروايا ہے”

“کس بيماري کا کرواؤں ميرا مطلب شوگر، بلڈپريشر، جسم ميں درد اور بھي جو اندر ٹوٹ پھوٹ ہورہي ہے کس کس کا علاج کرواؤں”

“آپ اپنا اسٹال بند کريں اور چليں ميرے ساتھ ہسپتال “

’’ ابھي “…’’ ہاں جي ابھي اسي وقت “

“ وہ ميں گھر سے ہوآؤں ميري پوتي ميرا انتظار نہ کرے”

“ اسے موبائل پر فون کرديں”

“ اس کے پاس فون نہيں ہے اگر کوئي ضروري کام ہوتا ہے تو ميں پڑوس ميں فون کرتا ہوں اور اگر ميں نے پڑوس ميں فون کر کے ہسپتال جانے کا بتايا تو وہ پريشان ہو جائيگي‘‘ …’’ تو پھر گھر چليں “

’’ آپ بھي چليں گے ميرے گھر “… ’’ ہاں جي ميں بھي چلوں گا “

دونوں بس اسٹاپ گئے اور بس کے آنے کا انتظار کرنے لگے بس ميں بيٹھ کر عمير کيلئے سوچنے لگا کہ مجھے سليم صاحب کے بارے ميں کچھ نہيں پتہ کہ کہاں رہتے ہيں گھر کے حالات کس طرح کے ہيں اور وہ ميرے بارے ميں کتنا جانتے ہيں انہوں نے مجھے ہر بُرے حالات ميں سنبھالا، ميري مدد کي، بلکہ جب بھي ميں اُداس و تنہا زندگي سے ہارا ہوا محسوس کرتا تھا تو انہوں نے مجھے کتنا سہارا ديا،مجھے دوبارہ زندگي کي طرف لوٹايا.

’’عمير صاحب کہاں کھو گئے وہ سامنے گلي ميں ميرا گھر ہے بس سے جلدي اتريں‘‘ گلي کے آخر ميں پہنچ کر سليم نے دروازہ کھٹکھٹايا دروازہ پوتي نے کھولا اس نے سليم کے ساتھ عمير کو ديکھا تو اندر چلي گئي

“آئيں صاحب اندر آجائيں ميں آپ کے ليے چائے کا کہہ کر آتا ہوں”

“نہيں ميں چائے نہيں پيؤں گا آپ بس اندر بتا آئيں”

’’ آپ پہلي بار گھر آئے ہيں کچھ تو پئيں‘‘…’’نہيں جي شکريہ پھر کبھي سہي‘‘

سليم اپني پوتي کو بتانے گيا دوسري طرف عمير يہ سوچنے لگا کہ سليم صاحب کے بيوي بچے کہاں ہيں جو يہ اپني پوتي کے ساتھ رہتے ہيں اسے تشويش ہوئي

’’ چليے عمير صاحب ‘‘…راستے ميں عمير نے ضبط کا دامن توڑا اور سليم سے اس کے گھر کے متعلق معلوم کيا۔

’’ ميري بيوي کا انتقال ميرے بيٹے کي شادي سے دو دن پہلے ہوا تو شادي سادگي سے کي شادي کے سال بعد ميري پوتي شہناز پيدا ہوئي کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ ميري بہو کو کينسر ہے وہ کچھ عرصے جي سکي اور انتقال ہو گيا پھر اچانک ميرے بيٹے کو ہارٹ اٹيک ہوگيا جو کہ جان ليوا ثابت ہوا بس ميں اور شہناز رہ گئے ميري پوتي کي بات ميرے بھائي کے پوتے سے طے ہو چکي ہے ذوہيب بہت اچھا لڑکا ہے اس نے ايم-کام کيا ہوا ہے اس کي خواہش ہے کہ شہناز بھي تعليم حاصل کرے کم از کم بي-اے ہي کرلے مگر… ميرے گھر کے حالات اجازت نہيں ديتے کہ ميں اسے آگے پڑھاؤں ويسے ميري پوتي نے انٹر کر ليا ہے ايک سال سے گھر پر ہوتي ہے آگے ايڈميشن نہيں ليا “

عمير کو سليم کے حالات جان کر بہت افسوس ہوا اور ساتھ شرمندگي بھي کہ وہ ان کے گھر کے حالات سے ناواقف تھا

’’ عمير صاحب آپ بار بار کہاں کھو جاتے ہيں “

’’ کہيں نہيں بس شرمندہ ہوں آپ کے سامنے اپنے آپ کو چھوٹا محسوس کررہا ہوں مجھے بلکل معلوم نہيں تھا کہ آپ بھي ايک مشکل زندگي گزار رہے ہيں آپ نے مجھے جو سہارا ديا مجھے بھي آپ کا سہارا بننا چاہيئے” “کيا مطلب”

“مطلب يہ کہ ميں جس يونيورسٹي ميں پڑھا رہا ہوں وہاں آپ کي پوتي کا ايڈميشن کرواديتا ہوں “

“ يہ آپ کيا کہہ رہے ہيں ميں نے اس ليے تو آپ کو اپنے حالات نہيں بتائے تھے “

“ آپ مجھے ايڈميشن کروانے سے منع نہ کريں آپ کو تو پتہ بھي نہيں کہ آپ نے ميري کتني مدد کي ہے مدد صرف پيسوں کي نہيں ہوتي بلکہ آپ کے الفاظ وہ لفظ ميرے لئيے مرہم کا کام کرتے جب جب ميں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا ميري کہانيوں پر آپ کا حوصلہ افزائي کرنا وہ سب باتيں مجھے ياد ہيں آہ آپ کے پاس لفظوں کي مرہم ہے اور ميرے پاس پيسوں کي کمي نہيں اب آپ مجھے بھي موقع ديں کہ ميں آپ کے کوئي کام آسکوں” يہ سن کر سليم اخبار فروش کي آنکھوں ميں آنسو آگئے اور وہ عمير کا شکرگزار ہوا۔