//آپا جی…

آپا جی…

تحریر رفعت امان اللہ پاکستان

صبح سويرے مرغ کي اذان کے ساتھ ہي اس چھوٹے سے گاؤں کي صبح ہوجاتي تھي بوڑھے، جوان، بچے وضو کرکے مسجد کي جانب روانہ ہوتے۔عورتيں گھروں ميں مصلے بچھائے نماز کي ادائيگي کے بعد تسبيح کرتي ہوئيں ددوھ بلونے ميں مصروف ہوجاتيں . آٹا پيسنے کي چکي کي آواز، پرندوں کي بولياں، اور پھر لکڑيوں سے چولہوں آگ جلانے کے لئے پھوکني سے پھونکيں مارتے ہوئے پھيپھڑوں کا سارا زور لگا ديا جاتا۔ سورج کي پہلي کرن جب اس گاؤں پرپڑتي تب تک توعورتيں دوسروں کےگھروں سےناشتے کے لئے لسي بھي مانگ کر لے جا چکي ہوتي تھيں ..

کسان اپنے بيلوں کو جوت کر کھيتوں ميں۔ ۔ہو ہو ہو۔ ۔کي آواز لگاتے انکي ہمت بڑھاتے رواں دواں ہوجاتے۔ پگڈنڈيوں پہ چلتے چلتے سب بچے بستے اٹھائے ہنستے ہنستے سکول کي جانب بڑھتے چلے جاتے۔۔۔۔ جن کے دل بارش کے پاني کي طرح پاک و شفاف، اکٹھےپڑھتےاور کھيلتے بچے خوشي سے نہال اور شادمان رہتے تھے۔ آپا جي ايک قصبے سے بياه کر اس گاؤں ميں آئيں تھيں۔ آپا جي ميڑک پاس تھيں۔ پردے کي پابند تھيں بوقت ضرورت جب باہر نکلنا ہوتا تو لمبا گھونگٹ نکال ليتيں کہ گاؤں کے کسي مرد کي نظر ان کے چہرے پر نہيں پڑ سکتي تھي۔

آج ميري رانو کو ديکھنے کچھ لوگ آ رہے ہيں۔ ۔آپا جي آپ بھي آجانا۔ ۔ميرا دل بڑا گھبرا رہا ہے۔آپ پاس ہونگي تو ميرے دل کو کچھ تسلي ملے گي۔ ۔خالده نے اپني ساري گبھراہٹ آپا جي کے سامنے بيان کردي۔ ہاں ہاں کيوں نہيں آپا جي نے اسے بھرپور تسلي دي۔ تم فکر نہ کرو ميں ضرور آؤں گي۔ خالده کي تو جيسے ہمت بندھ گئي اور بڑي مطمين ہوکراپنےگھرگئي۔ آپا جي ميرےبيٹے کو قراني قاعده پڑھنے ميں بہت مشکل پيش آرہي ہے بہت کوشش کر بيٹھي ہوں مولوي صاحب کے گھر بھي بجھوايا ہے مگر آگے چل ہي نہيں رہا ہے آپا جي آپ ہي اسکو چلا ديں۔ فکر نہ کرو اسے ميرے پاس بھيج ديا کرو باقي بچوں کے ساتھ مل کر ان کي ديکھا ديکھي شوق سے پڑھ لے گا۔ کسي کا بچہ بيمار ہوا تو آپا جي کے پاس دعا کي درخواست، مياں بيوي کا آپس ميں کوئي جھگڑا ہوجائے اور بيوي روتي دھوتي آپا جي کے پاس دکھڑا بتانے چلي آئي تو آپا جي اسے سمجھا بجھا کر صبر اور برداشت کي تلقين کرکےمعاملہ سلجھا ديتيں۔ کسي ہمسائي نے خط پڑھوانا ہو يا جوابي چٹھي لکھواني ہو بھاگي بھاگي آپا کے پاس جاتي۔ غرض آپا جي محلے پھر ميں ہر کسي کي اخلاقي و مالي مدد کرنے سب سے آگے ہوتيں۔ موتيوں کے ہار کي طرح محبت کي ڈوري ميں پروئے ہوئے اس گاؤں کے لوگ،ايک ايک دانہ سچا اورسُچا کوئي ہوس نہ لالچ،۔۔۔۔حق ِہمسائيگي۔ ۔ بھائي چاره سانجھے دکھ سکھ، جہاں نہ کوئي تفرقہ بازي تھي نہ تعصب۔

اور پھر چند شرپسندوں نے آخر يہاں کے لوگوں کے دلوں ميں نفرت کا بيج بو ہي ديا۔ آپا جي جس فرقے سے تعلق رکھتي تھيں گاؤں ميں اس فرقے سے تعلق رکھنے والوں کے چند گھر ہي تھے۔ آج سے اس ميدان ميں اس فرقے کے بچے نہيں کھيلا کريں گے شر پسندوں کا ايک ٹولہ بندوقيں تھامے آ دھمکا۔ ۔ کيوں نہيں کھيليں گے؟۔ يہ نا انصافي ہے، اتنا ہي کہنا تھا اور خالد جو ابھي اٹھاره سال کا ہي تھا، گولي سيدھي اس کے سينے ميں ماردي گئي، ماں کا لاڈلا جو عصر کي نماز پڑھ کےکھيلنے گيا مذہبي جنون کي بھينٹ چڑھ گيا۔ صف ماتم بچھ گئي حالات اس قدر سنگين ہوگئے کہ تدفين بھي مشکل سے ہوسکي، مسجد ميں اعلانات ہونے لگے کہ کوئي بھي ان لوگوں سےتعلقات نہ رکھے،، کوئي انکےسلام کاجواب نہ دے انکا قتل جائز ہے۔۔۔۔نفرت کا اس قدر اظہار کہ خدا کي پناه ! ايک دن جب محلے والوں کي شرارت پرپوليس آپا جي کے گھر کے ماتھے پر لکھے ہوئے کلمے پرآن کي آن ميں سياہي پھير کر چلي گئي تو آپا کو يوں لگا کہ اتنے سالوں کے محبت بھرے تعلق پر سياہي پھير کر اسکو مٹا ديا گيا ہے کوئي بھي آپا جي کي آنکھوں ميں ساقط کرب کو نہيں سمجھ سکتا تھا۔ تسبيح ٹوٹ گئي، ايک ايک دانہ يوں بکھرا کہ پھر سميٹا نہ جاسکا، نہ کوئي رشتہ بچا نہ کوئي تعلق۔ مٹھي بھر فتنہ پرور لوگوں نے اس گاؤں ميں نفرت کي آگ لگا دي۔

سالہا سال کي محبت اور مان سب ختم ہوگئے اور پھر ہمسائے ماں جائے ہي لہو کے پياسے ہوگئے۔

آپا جي کا گھر لوٹ ليا گيا اور انکے شوہر کے پيٹ ميں چھرا مار کر قتل کرديا گيا اور مارنے والے نے يہ بھي نہ سوچا کہ بچپن ميں وه ادب سے جن کو استاني جي کہا کرتا تھا جنکي گود ميں بيٹھ کرقران پڑھنا سيکھا جنہوں نے اسکے دل کو روشني سے منور کيا ان ہي کے گھر کے چراغ کو بجھا کر انکي زندگي ميں اندھيرا کر رہا ہے۔ سب بھرم اور مان ٹوٹ گئے اورسب اميديں دم توڑ گئيں۔ آپاجي نے بچي کچھي ہمت جمع کرکے کس کرب کے عالم ميں اس گاؤں سے ہجرت کي ہوگي يہ اپا جي کا دل ہي جانتا ہے۔

وه چکي کي کو کو کو۔ ۔۔۔وہ راہٹ کي آواز،

پيپل کي ڈال پہ جھولا ڈال کر جھولتي بچياں کنويں کا ٹھنڈا پاني پگڈنڈياں وه سب کچھ ابھي بھي گاؤں ميں ہوگا۔ مگر وه بے زبان پرندے جو اس گاؤں سے ہجرت کر گئے وه کبھي واپس نہ لوٹے۔